ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی المعروف امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ

11

حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل ،میانوالی03336828540
ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی رحمتہ اللہ علیہ بلند پایہ امام، محدث اور مقتدائے زمانہ تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ خراسان کے شہر’’نسائی‘‘ میں پیداہوئے۔اسی نسبت سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو’’نسائی‘‘ کہتے ہیں۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ’’سنن نسائی‘ ‘کے نام سے صحیح احادیث کا ایک عظیم الشان مجموعہ ترتیب دیا۔ بیمثل قوت حافظہ اور قابل اعتماد احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمع کرنے کے لیے عرق ریزی سے کام کرنے پر آپ رحمتہ اللہ علیہ کو ’’حافظ الحدیث‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔اس مقصدکیلئے آپ رحمتہ اللہ علیہ نے دُوردرازکے سفرکیے۔اوربہت سی تکالیف برداشت کیں۔ علمائے حدیث امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ کی جرح و تعدیل کو معتبر مانتے ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نقدِ رجال میں انتہائی محتاط، معتدل اور اپنے معاصرین پر مقدم تھے۔ حدیث اور علل پر اپنی تصنیفات کی صورت میں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے بہت سا علمی ذخیرہ چھوڑا ہے۔ اہلِ سنت کے ہاں آپ رحمتہ اللہ علیہ کی بیان کردہ روایات مستند اور قابلِ اعتبار ہیں۔
صحاح ستہ(مستندچھ) اور اسکے مؤلفین حدیث کی چھ کتابیں انتہائی معتمد سمجھی گئی ہیں، انہیں ’’صحاحِ ستہ‘‘ کہتے ہیں ان میں پہلی دوکتابیں توکل کی کل صحیحین ہیں اور دوسری چار کتابیں ’’سنن‘‘ کہلاتی ہیں، یہ سنن اربعہ بیشتر صحیح روایات پر مشتمل ہیں، فن حدیث میں یہ چھ کتابیں انتہائی لائقِ اعتماد سمجھی جاتی ہیں۔امام ابو عبدالرحمن نسائی رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب کو ’’صحاحِ ستہ‘‘ میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ ’’نسائی شریف ‘‘صحاح ستہ میں تیسرے نمبر پر شمار ہوتی ہے امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی شیخین کی طرح صرف صحیح الاسناد روایات کو لیا ہے اور نسائی شریف بخاری ومسلم دونوں کے طریقوں کو جامع ہے۔ تنقیدِ رجال اور صحتِ اسناد کے بارے میں ’’نسائی ‘‘کی شرائط شیخین سے بھی زیادہ سخت ہیں ۔
معززقارئین کرام!دولت مندجوہوتے ہیں وہ اپنے پیچھے دولت کے انبارچھوڑجاتے ہیں۔صاحب اولاداپنے پیچھے اولادچھوڑجاتے ہیں۔لیکن جوصاحب علم ہوتے ہیں ان کی اورکوئی وراثت نہیں ہوتی بلکہ ان کی تحریریں ،تصانیف ان کی کتابیں ہی ان کی وراثت ہواکرتی ہیں ۔ جنہیں صاحب علم کی روحانی اولادعلم کی پیاس بجھانے کے لئے اپنے سینے سے لگاتی ہے۔امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ نے مجاہد و ریاضت اور زہد و ورع کے ساتھ ساتھ جہادجیسی مصرفیات کے باوجود متعدد کتب تصنیف کیں۔ایسی عظیم تصانیف کامطالعہ کرکے تشنگان علم اپنی پیاس بجھارہے ہیں ۔امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ کی تمام تصانیف میں سب سے مقبول اوراہم تصنیف’’سنن نسائی ‘‘ہے ۔علامہ سیوطی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ذخیرہ احادیث میں یہ بہترین تصنیف ہے۔ اس سے قبل ایسی کتاب موجود نہ تھی۔علامہ سخاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں’’بعض علماء’’سنن نسائی‘‘ کو روایت و درایت کے اعتبار سے صحیح بخاری سے افضل گردانتے ہیں‘‘۔ ابن رشید تحریر کرتے ہیں’’جس قدر کتب حدیث سنن کے انداز پر مرتب کی گئی ہیں ، ان میں سے ’’سنن نسائی‘‘ صفات کے اعتبار سے جامع تر تصنیف ہے‘‘ کیونکہ امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ نے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے انداز کو مجتمع کر دیا ہے۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تمام تصانیف کا اجمالی ذکرکچھ یوں ہے۔السنن الکبریٰ،المجتبیٰ،خصائص علی کرم اللہ وجہہ الکریم‘، مسند علی،مسند مالک،کتاب التمیز،کتاب المدلسین،کتاب الضعفاء ،کتاب الاخوۃ،مسند منصور، مسیخۃالنسائی،اسماء الرواۃ،مناسک حج شامل ہیں۔آپ رحمتہ اللہ کی تصنیف ’’خصائصِ علی کرم اللہ وجہہ الکریم‘ قابلِ قدر اور بلند پایہ تصنیف ہے۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ کااصل نام احمد اور کنیت ابوعبدالرحمن ہے۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کاسلسلہ نسب کچھ یوں ہے: احمد بن شعیب بن علی بن سنان بن بحر بن دینار بن نسائی الخراسانی رحمتہ اللہ علیہ۔ ( طبقات الشافعیہ۲/۳۸،التذکرہ:۲/ ۱۴۲)آپ رحمتہ اللہ علیہ کے سن پیدائش میں مؤرخین کااختلاف ہے۔لیکن خود امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ میری پیدائش اندازاً ۲۱۵ہجری کی ہے، اس لیے کہ۲۳۰ہجری میں،میں نے پہلا سفر قتیبہ بن سعید کے لیے کیا اور ان کے پاس ایک سال دو مہینے اقامت کی۔ (تہذیب الکمال ۱/۸۳۳، سیر اعلام النبلاء ۴۱/۵۲۱)
آپ رحمتہ اللہ علیہ کی پیدائش خراسان کے مشہور شہر’’ نساء‘‘ میں ہوئی۔ جو صرف نون اور سین کی فتح یعنی زبرکے ساتھ اور ہمزہ کے کسر اور مد کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ کبھی عرب اس ہمزہ کو واو بدل کر نسبت کرتے وقت ’’نسوی‘‘بھی کہا کرتے ہیں اور قیاس بھی یہی چاہتا ہے لیکن مشہور’’ نسائی ‘‘ہے۔ لیکن واضح رہے کہ امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ نے مصر میں سکونت اختیار کر لی تھی۔امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ نے طلب حدیث کے لئے پہلے اپنے شہر میں وقت کے درویش اساتذہ کرام سے علم حاصل کیا، پھر طلب حدیث کے لئے علمی مراکز کا سفر کیا، سب سے پہلے آپ رحمتہ اللہ علیہ نے خراسان میں بلخ کے ایک شہر بغلان کا۲۳۰ہجری کا رخ کیا، وہاں قتیبہ بن سعید رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک سال دو ماہ طلب علمی میں گزارا، اور ان سے بکثرت احادیث روایت کیں، نیز طالبان حدیث کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، طلب حدیث کے لیے دور دراز علاقوں کا قصد کیا، حجاز ( مکہ و مدینہ ) عراق ( کوفہ و بصرہ ) شام، جزیرہ، خراسان اور سرحدی علاقوں کے مراکز حدیث جن کو’’ثغور‘‘( سرحدی علاقے ) کہا جاتا ہے وغیرہ شہروں کا سفر کیا، اور مصر میں سکونت اختیار کی۔ (طبقات الشافعیہ ۴۸، تذکرۃ الحفاظ ۲/۸۹۶،مقدمہ تحفہ: ۶۶)
اہل علم نے امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ کی ممتاز دینی خدمات، علمی تبحر، تصنیف و تالیف میں شہرت اور مہارت کا اعتراف اس طور پر کیا ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو مسلمانوں کے امام اور فن حدیث کے امام کے لقب سے ملقب کیاہے ۔اور آ پ رحمتہ اللہ علیہ کو مسلمانوں کا مقتدیٰ و امام تسلیم کیاہے ۔گویا آپ رحمتہ اللہ علیہ نے دینی قیادت اور علمی سیادت دونوں وصف کے جامع تھے۔ حافظ ابن کثیررحمتہ اللہ علیہ امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ کے علمی اسفار کے بارے میں لکھتے ہیں’’یعنی نسائی نے دور دراز کا سفر کیا۔ سماع حدیث میں وقت گزارا اور ماہر ائمہ سے ملاقاتیں کیں‘‘(البدایہ: ۳۲۱)
آپ رحمتہ اللہ علیہ کے حالات زندگی کابغورمطالعہ کریں توپتاچلتاہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ۱۵برس کی عمر ہی سے تحصیل علم کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر کرنا شروع کر دیا تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے نامور اساتذہ کرام میں سے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ، امام ابوداؤدرحمتہ اللہ علیہ، امام احمدرحمتہ اللہ علیہ، امام قتیبہ بن سعیدرحمتہ اللہ علیہ وغیرہ معروف ہیں۔ اس کے علاوہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے توسط سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے اساتذہ کا سلسلہ سراج الائمہ، امام اعظم ، سرتاج الاولیاء ابوحنیفہ بن نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی جا ملتا ہے، جس کا تذکرہ یہاں باعث طوالت ہو گا۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ زہد وتقویٰ میں ضرب المثل تھے۔ساری زندگی صوم داؤدی کی پابندی کرتے رہے ہیں۔ دن اوررات کا بیشتر حصہ عبادت میں گزرتے تھے اور اکثر حج بیت اللہ کی سعادت سے بہرہ ور ہوتے تھے۔ اُمراء و حکام کی محفلوں سے ہمیشہ گریزاں رہتے تھے۔ حسنِ سیرت کے ساتھ حسنِ صورت کے بھی مالک تھے۔چہرہ نہایت روشن، رنگ نہایت سرخ وسفید اور بڑھاپے میں بھی تروتازہ نظر آتے تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی چار بیویاں اور دو باندیاں تھیں۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ کی عملی زندگی کا اندازہ محمد بن المظفرکے اس قول سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جسے علامہ ذہبی رحمتہ اللہ علیہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے’’میں نے مصر میں اپنے شیوخ سے سنا ہے کہ وہ نسائی رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں کہتے تھے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ رات دن عبادت میں مشغول رہتے تھے، وہ جنگ میں امیر مصر کے ساتھ نکلے، اور اپنے وقار اور تیزی طبع اور مسلمانوں میں ماثور اور ثابت سنن پر عمل کرنے کرانے میں شہرت حاصل کی، اور نکلے تو سلطان کے ساتھ تھے۔لیکن ان کی مجالس سے دور رہتے تھے‘‘۔ (تذکرہ الحفاظ، تہذیب الکمال ۱/۴۳۳)
امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات حسرت آیات کاواقعہ کچھ یوں ہے ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ جب رملہ سے دمشق پہنچے تو دیکھاکہ بنی امیہ کے زیراثرہونے کی وجہ سے پوراخطہ خارجی افکارونظریات کی زدمیں ہے۔اورحضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم وغیرہ کی کھلے عام تنقیص کی جاتی ہے۔یہ دیکھ کرآپ رحمتہ اللہ علیہ کوبڑارنج ہوا۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اسی موقع پرحضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے مناقب میں ایک کتاب تصانیف فرمائی ۔پھرخیال ہواکہ اس کتاب کودمشق کے لوگوں میں سنائیں۔تاکہ لوگوں کی اصلاح ہواورخارجیت کے اثرات ختم ہوں۔ابھی آپ رحمتہ اللہ علیہ نے کتاب کاکچھ حصہ ہی سنایاتھاکہ ایک شخص نے کھڑے ہوکراعتراض کیاکہ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کوحضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے افضل قراردیاہے۔لوگوں نے اس جرم کی پاداش میںآپ رحمتہ اللہ علیہ کو زدوکوب کرناشروع کردیا۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نیم بے ہوش ہوگئے۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ان سے فرمایامجھے ابھی مکہ مکرمہ لے چلووہاں پہنچ کرمروں یاراستے میں موت آجائے ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کامکہ مکرمہ پہنچ کرانتقال ہوا۔اورصفامروہ کے درمیان مدفون ہوئے۔بعض کاخیال ہے کہ راستے ہی میں انتقال ہوااورتدفین مکہ مکرمہ میں ہوئی۔تاریخ وفات ۱۳صفرالمظفر۳۰۳ہجری ہے۔(سیراعلام النبلاء،بستا ن المحدثین)
امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ سلسلہ محدثین کی اہم کڑی ہیں، آپ رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث کی حفاظت و تدوین کے ساتھ ساتھ جرح و تعدیل رواہ پر بھی بڑا سرمایہ چھوڑا اور فہم حدیث کے سلسلہ میں بھی آپ کی کوششوں سے مسلک سلف ہم تک پہنچا، صحیح اسلامی عقائد کو بھی آپ رحمۃ اللہ علیہ نے امت تک پہنچایا، اسی وجہ سے’’ سنن نسائی‘‘ کی افادیت مسلم ہے۔ اور عقیدہ سلف کی اشاعت اور رد بدعت کی شہرت کی وجہ سے آپ رحمۃ اللہ علیہ کو امام دین اور امام المسلمین کے لقب سے ملقب کیا گیا۔آپ رحمۃ اللہ علیہ صرف محدث اور فقیہ ہی نہ تھے، بلکہ وہ عقائد و منہج کے باب میں بھی امام ہدایت، حامی سنت اور ماحی بدعت تھے، اور اصطلاحِ علماء میں آپ ’’صاحب سنت‘‘کے لقب یافتہ عالم تھے، جس کو علماء نے دین کی امامت سے بھی تعبیر کیا ہے، خلاصہ یہ کہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ عقائد کے باب میں بھی امام ہدیٰ تھے، چنانچہ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شیوخ کے نقش قدم پر صحیح اور سنی عقائد کا برملا اظہار کیا، اور اپنی کتابوں میں ان مسائل کو جگہ دی۔
خالق کائنات مالک ارض وسماوات اللہ رب العالمین ابوعبدالرحمن المعروف امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ پر رحم فرمائے اور مسلمانوں کی طرف سے انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔اس کتاب سے پھوٹنے والی کرنیں باغ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کوتاقیامت روشن وتابندہ رکھے ۔
اللہ پاک ہمیں سنت رسول صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم پرچلنے اورعمل پیراہونے کی توفیق عطافرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین طہ ویسین صلی اللہ تعالیٰ علی محمد