ختم نبوت کے پر امن دھرنے کے شرکاء پر طاقت کا استعمال ہرگزبرداشت نہیں کریں گے۔ پیر سید نظام الدین جامی

21

گلیانہ(ڈاکٹر انصرفاروق)ختم نبوت کے پر امن دھرنے کے شرکاء پر طاقت کا استعمال ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ پیر سید غلام نظام الدین جامی گیلانی سجادہ نشین درگاہ غوثیہ مہریہ گولڑہ شریف وفاقی وزیر مملکت مذہبی امور پیر امین الحسنات کی گولڑہ شریف آمد پیر صاحب گولڑہ شریف سے انکی رہائش غوثیہ مہریہ گولڑہ شریف نے حکومتی وزیر مملکت برائے مذہبی امور پیر امین الحسنات کو واضح پیغام دیا کہ ہم حکومت کو وارننگ دیتے ہیں کہ ختم نبوت دھرنے کے شرکاء پر طاقت کا استعمال برداشت نہیں کیا جائے گا اگر کسی نے یہ ایکشن کیا تو حکومت وقت کے خلاف سارا خانقاہی نظام نکلے گا اور ہم ختم نبوت کے مسئلے کے لئے جان مال اولاد بھی قربان کردیں گے۔ پیر صاحب نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے حکومت وقت ہوش کے ناخن لیں اور دھرنے کے شرکاء سے افہام و تفہیم سے مسئلے کا حل نکالے۔ طریقہ کار سے اختلاف تو ہو سکتا ہے مگر تمام اہلسنت اس مسئلے میں ایک ہیں۔
ہم حکومت وقت کو یہ باور کرواتے ہیں کہ فوری طور پر ختم نبوت بل میں تبدیلی کرنے والوں کے نام فوری طور پر سامنے لائے اور انکے خلاف آئین پاکستان کے تحت سزا دی جائے۔ ختم نبوت کا مسئلہ ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے اس کے لئے ہم سب کچھ قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ اگر کسی نے طاقت کے استعمال کی غلطی کو تو ہم اپنے لاکھوں متعلقین ، متوسلین کے ساتھ حکومت وقت کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے اور پھر انسانوں کا ریلہ نکلے گا جس میں تخت و تاج سب بہہ جائیں گے۔ پیر صاحب نے کہا کہ جب پاکستان کے آئین میں قادیانیوں کو کافر قرار دے دیا گیا ہے تو آخر کس سازش کے تحت اس قانون میں کیوں تبدیلی کرنے کی کوشش کی گئی۔ پنجاب کے وزیر قانون بھی زبردستی قادیانیوں کو مسلمان قرار دینے پر تلا ہوا، آخر اس سازش میں کون کون شامل ہے سب سازشیوں کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ میرے جد امجد تاجدار گولڑہ، فاتح مرزائیت، مامون من الرسول حضرت سیدنا پیر مہر علی شاہ گیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے 1900 میں مرزا غلام قادیانی کے خلاف مناظرے کے لئے لاہور گئے۔ میرے جد امجد کی کتاب سیف چشتیائی مرزائیوں کے عقائد ونظریات پر کاری ضرب ثابت ہوئی جس سے یہ امت مسلمہ کو پتا چلا کہ یہ غیر مسلم ہیں اور اس وقت کا سب سے بڑا فتنہ مرزا قادیانی کا تھا جن کو پیر سید مہر علی شاہ گیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس وقت بے نقاب کیا۔ پھر اسکے بعد میرے پردادا پیر سید غلام محی الدین بابوجی رحہ نے 1974 میں آئین میں ان کو کافر قرار دینے میں ان کاوشیں کی اور بالآخر ان کو پاکستان کے آئین میں کافر قرار دیتے ہوئے غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ اسی طرح میرے دادا اور والد گرامی پیر سید نصیرالدین نصیر گیلانی رحمتہ اللہ علیہ بھی مرزائیوں اور قادیانیوں کے خلاف میدان عمل میں نکلے اور ہر محاذ سے یہ جھوٹے ثابت ہو کر بھاگے ہیں۔ اب ہم بھی ان قادیانیوں ،مرزائیوں اور لاہوری گرپوں کی ہر سازش پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہر سال لاکھوں لوگ 28 ربیع الثانی کو گولڑہ شریف میں تحفظ ناموس رسالت و ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کر کے قادیانیوں کے خلاف پیر مہر علی شاہ گیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور پیر امین الحسنات شاہ صاحب نے پیر صاحب کو یقین دلایا کہ میں آپ کا پیغام ارباب اختیار تک پہنچاؤں گا ہر دھرنے والوں کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔ آخر میں پیر سید غلام نظام الدین جامی گیلانی قادری سجادہ نشین درگاہ غوثیہ مہریہ گولڑہ شریف نے ملکی سلامتی اور ختم نبوت کے لئے نکلے ہوئے سنیوں کی کامیابی کے لئے دعا فرمائی۔