خاص شکر گہرے زخموں کے لیے مرہم کا کردار ادا کرسکتی ہے،ماہرین

11

پاکستانی اور برطانوی ماہرین نے مشترکہ تحقیق کے بعد کہا ہے کہ چینی گہرے زخموں کو بھرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور اس انتہائی گہرے زخموں میں رگوں کی افزائش کرتی ہے جس کے بعد خون اور دیگر اہم معدنی اجزا کی فراہمی شروع ہوجاتی ہے اور زخم تیزی سے بھرنے لگتا ہے۔

یونیورسٹی آف شیفلڈ میں میٹریل سائنس اینڈ انجینیئرنگ اور کامسیٹس انسٹی ٹیوٹ لاہور میں انٹرڈسپلنری ریسرچ سینٹر ان بایومیڈیکل میٹریلز ریسرچ ( آئی آر سی بی ایم) کے ماہرین نے مشترکہ طور پر دریافت کیا ہے کہ خاص قسم کی شکر کسی مریض میں اینجیوجنیسس کو بڑھاتی ہے جسے نئی رگیں بننے کا عمل کہا جاتا ہے۔ خون کی فراہمی زخموں کو قدرتی طور پر مندمل کرتی ہے کیونکہ خون، آکسیجن اور ضروری اجزا متاثرہ حصے تک پہنچنا شروع ہوجاتےہیں۔

سادہ شکروں کو استعمال کرتےہوئے زخموں کو تیزی سے ٹھیک کرنے میں مدد ملتی ہے اور ان کے علاج کی ضرورت بھی کم ہوجاتی ہے۔ مریضوں کے زخم تیزی سے ٹھیک ہونے سے معالجین اور مریضوں کے وقت اور وسائل کی بچت ہوسکتی ہے۔

اس موقع پر شیفلڈ یونیورسٹی سے وابستہ ماہر ڈاکٹر شیلا مک نیل نے کہا کہ سادہ شکروں (سمپل شوگرز) کی بدولت زخم جلدی مندمل ہوتے ہیں اور مریضوں کا عرصہ علاج کم ہوجاتا ہے اور مجموعی صحت کے نظام پر بوجھ میں کمی آتی ہے۔

اس عمل میں ہائیڈروجل یعنی پانی سے بھرپور پٹیوں (بینڈیج) میں چینی رکھی جاتی ہے اور اس سادہ طریقے سے جلنے یا گہری چوٹوں کے زخم کو بھرا جاسکتا ہے۔ بعض اقسام کی شکریں زخموں کو تیزی سے بھرنے میں مددگار ہوتی ہیں۔

کامسیٹس انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر محمد یار نے رسولیوں اور خون کی نئی رگوں پر مطالعے کے دوران انکشاف کیا تھا کہ قدرتی چینی یعنی ٹو ڈی آکسی ڈی رائبوز جسم میں نئی پائپ لائنوں کی تیاری میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے یونیورسٹی آف شیفلڈ کی ڈاکٹر شیلا اور پروفیسر ایان ڈگلس کے ساتھ ملکر مزید تحقیقات کیں تو اس کے مزید حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے۔

ڈاکٹر محمد یار نے ایکسپریس ڈاٹ پی کے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں ایک دوسری قسم کی چینی کا مالیکیول استعمال کیا ہے جسے ڈی آکسی شوگر کہا جاتا ہے۔ یہ شکر کینسر کی رسولیوں کو پروان چڑھاتی ہیں اور اس کی یہی منفی خاصیت استعمال کرتےہوئے ہم نے جانوروں پر تجربات کے بعد ثابت کیا ہے کہ ڈی آکسی شوگر گہرے زخموں میں خون کی رگوں کی افزائش کرسکتی ہے۔ اس ضمن میں ابتدائی نتائج بہت حوصلہ افزا ثابت ہوئےتاہم اب تک انہیں انسانوں پر آزمایا نہیں گیا ہے۔

یہ تحقیق ایک اہم سائنسی جریدے مٹیریلز ٹوڈے کمیونکیشنز میں شائع ہوئی ہے۔ جس کی بدولت کم خرچ اور آسان طریقے سے ایسی بینڈیج بنائی جاسکیں گی جو ذیابیطس کے مریضوں اور بوڑھے افراد میں مہینوں سے ٹھیک نہ ہونے والے ناسور اور زخموں کو مندمل کرسکیں گی۔

اس اہم کام میں پوری ٹیم نے اپنا کردار ادا کیا جن میں پروفیسر شیلا مک نیل، ایان ڈگلس کے علاوہ پاکستان سے ڈاکٹر محمد یار، لبنیٰ شہزادی، عذرا محمود، محمد عمران رحیم، سبینیئن رومان، عاکف انور چوہدری اور احتشام الرحمان شامل ہیں۔ اسی ٹیم نے حال میں نینوذرات پر مبنی ایسے ہائیڈروجل بھی بنائے ہیں جو زخموں پر انجیوجنسیسس پیدا کرکے دوبارہ نئی رگوں کو تیار کرنے کے قابل ہیں۔