غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ، رمضان میں فیکٹریاں بند کرنے کا انتباہ

10

سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری نے کے الیکٹرک کی جانب سے گزشتہ روز رات 12بجے سے صبح 12بجے تک 12گھنٹوں کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کے الیکٹرک نے شام 7بجے سے رات 9 بجے اور12بجے کی درمیانی شب سے صبح 7 بجے تک غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ شروع کر دی ہے جس سے صنعتوں کی پیداوار بری طرح متاثر ہورہی ہے اور صنعتوں کو شدیدمالی نقصانات کا سامنا ہے۔

ایک دن میں 12 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اقتصادی صورتحال کو زندہ رکھنا ناممکن ہو گیاہے جبکہ پیداواری لاگت بڑھنے اور بجلی کی ازخود پیداوار کے لیے ڈیزل، گیس کی قلت کے باعث مالی بوجھ اور مسائل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اگر غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اسی طرح جاری رہی تو رمضان المبارک میں فیکٹریوں کو بند کرنے کے سوا کوئی متبادل راستہ نہیں ہوگا۔

سائٹ ایسوسی ایشن کے صدر اسد نثار نے ایک بیان میں کہاکہ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ165 ایم ایم سی ایف ڈی ( 1050بی ٹی یو )گیس فراہم کررہی ہے جو کے الیکٹرک کو فراہم کی جانے والی گیس کی بہترین مقدار ہے،گرمی کے موسم میں کے الیکٹرک کو غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کو کم کرنے کے لیے فرنس آئل اور ڈیزل کے ذریعے بجلی کی اضافی پیداوار کرنی چاہیے۔

اسد نثار نے کہاکہ سائٹ کے علاقے میں واقع صنعتیں خاص طور پر چھوٹی صنعتیں جو بڑے برآمدکنندگان کی وینڈر ہیں بجلی کی عدم فراہمی کی وجہ سے بیکار ہوگئی ہیں، یہ حقیقت ہے کہ بجلی کے صنعتی صارفین مستقل بنیاد پر کے الیکٹرک کے بلوں کی ادائیگی کرتے ہیں۔

صدر اسد نثار انہوں نے کہاکہ لوڈشیڈنگ سے بے روزگاری بڑھے گی اور اس سے امن وامان کی صورتحال متاثر ہوسکتی ہے جو پہلے ہی بدترین ہے،کراچی کی صنعتوں کوپہلے ہی طویل لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پیداواری پہیہ چلانے میں کئی مسائل کا سامنا ہے اور اب کے الیکٹرک کی انتظامیہ کی ناقص کارکردگی کے باعث صنعتی علاقوں میں حالیہ بریک ڈاؤن سے صورتحال مزید گھمبیر ہو گئی ہے اور صنعتی یونٹس تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے صنعتوں کو تباہی سے بچانے کے لیے لیے تجویز دی کہ کیپٹو پاور پلانٹ سے بجلی کی کمرشل فروخت کی اجازت دی جائے۔

اسد نثار نے وزیراعظم، گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ اور وفاقی وزیر پانی و بجلی پر زور دیا کہ وہ کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی بلا تعطل فراہمی میں ناکامی اور غیراعلانیہ گھنٹوں لوڈشیڈنگ کا نوٹس لیں اور کراچی کی صنعتوں کو مکمل طور پر تباہ ہونے اور ممکنہ آفت سے بچانے کے لیے کے الیکٹرک کو معمول کے مطابق صنعتوں کو بجلی فراہم کرنے کی ہدایت کریں بصورت دیگر غیر اعلانیہ بجلی کی فراہمی میں مسلسل تعطل قیمتی برآمدات کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوگی جس کے نتیجے میں ملکی معیشت بری طرح متاثر ہوگی۔