نئی 5 سالہ قومی حقوق دانش حکمت عملی تیاری

3

وفاقی حکومت نے نئی 5سالہ قومی حقوق دانش حکمت عملی تیار کرلی ہے جس کا مقصد ملک میں حقوق دانش کی صورتحال کو مزید بہتر اور موثر بناناہے۔

وزارت تجارت و ٹیکسٹائل کے ذیلی ادارے ادارہ حقو ق دانش(آئی پی او) نے 2018 تا 2023 تک 5 سالہ حکمت عملی تیارکی ہے تاکہ بین الاقوامی ذمے داریوں اور قومی ضروریات سے متوازن انداز میں نمٹناہے تاکہ تمام پہلووں پر یکساں توجہ دی جا سکے۔ دستاویز کے مطابق 5 سالہ حکمت عملی کے بنیادی مقاصد میں حقوق دانش کا بہترین انتظام، حقوق دانش کی رجسٹریوں کی بہترین سروس ڈلیوری کے لیے موثر ذرائع کا استعمال حقوق دانش کے قوانین میں ترامیم، حقوق دانش قوانین کا نفاذ اور ملک کے قومی مفاد میں حقوق دانش کے معاہدوں کے ساتھ الحاق شامل ہے۔

حقوق دانش پالیسی قومی سطح پر تحقیقی امور کی ترقی کاروباری سرگرمیوں کے پھیلاؤ اور تجارت اور برآمدات کی ترقی سمیت دیگر اہم شعبوں میں اپنا کردار وضع کرنے کے لیے ضروری ہے۔ دستاویز کے مطابق مشاورت کے بعد قومی حقوق دانش پالیسی کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیاگیاہے جو جلد ہی منظوری اور عمل درآمد کے لیے وفاقی کابینہ کو بھجوا دیاجائے گا۔ قومی حقوق دانش پالیسی مرتب ہونے سے اقتصادی ترقی کو فروغ حاصل ہوگا اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کے ساتھ ساتھ مصنوعات میں جدت لانے اور برآمد کے قابل حقوق دانش مصنوعات پیدا کرنے میں مدد دے گی۔

دستاویز کے مطابق حکمت عملی کی تیاری کے ساتھ ساتھ آئی پی اور نے ایف آئی اے، پولیس اور کسٹمز کے فیلڈ افسران کے لیے گائیڈلائنز کی تیاری کا کام مکمل کرلیاگیاہے اور گائیڈ لائنز کی تیاری کے سلسلے میں تمام شراکت داروں سے مشاورت بھی کی گئی۔ ان گائیڈلائنز کا مقصد کاپی رائٹس کی خلاف ورزیوں کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اداروں کے لیے حدود متعین کرناہے۔

ادارہ حقوق دانش پاکستان نے ٹریڈ ریلیٹڈ ٹیکنیکل اسسٹنٹ پروگرام (ٹی آرٹی اے) کے تحت یورپی یونین عالمی ادارہ حقوق دانش اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تعاون سے حقوق دانش رجسٹریوں کی آن لائن رجسٹریشن بھی شروع کر دی ہے اور حقوق دانش کے درخواستوں کے ساٹھ لاکھ صفحات کو کمپیوٹرائز کرنے کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔

دستاویز کے مطابق آئی پی او پاکستان نے آئی پی سروس رولز کا مسودہ بھی تیار کرلیاہے جس کو ضروری منظوری کے لیے آئی پی او پالیسی بورڈ کو بھیجا جائے گا جبکہ ان قوانین کو نوٹیفکیشن کے لیے وفاقی حکومت کو بھی بھجوا دیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق آئی پی او کی جانب سے نیشنل انٹیلیچکوئل پراپرٹی رائٹس اسٹرٹیجی کو مرتب کرنے کا کام جاری ہے اور جلد ہی یہ پالیسی بھی مکمل ہوجائے گی۔