انسان اور بیماریاں

18

تحریر۔۔۔ ڈاکٹر فیاض احمد ۔۔۔ لندن
احساس کے انداز بدل جاتے ہیں ورنہ
آنچل بھی اسی تار سے بنتا ہے اور کفن بھی
ایک ہفتے پہلے کی بات ہے میں نے اپنے ایک دوست کو فون کیا کہ اتوار کو میں تجھے ملنے آ رہا ہوں تو اس نے دھیمے لہجے میں جواب دیا کہ ہم گھر سے باہر ملتے ہیں تو میں سمجھ گیا کہ کوئی نہ کوئی مسئلہ ضرور ہے وقت مقرر پر میں اس کے گھر کے قریبی پارک میں پہنچا تو وہ پہلے سے وہاں موجود تھا لیکن اس کے چہرے پر پہلے جیسی رونق نہیں تھی آواز میں وہ شدت نہیں تھی باتوں میں وہ پیار نہیں تھا جسم میں وہ چستی نہیں تھی اس کا حال چال پوچھنے کے بعد جب میں نے اس کے بیوی اور بچے کے بارے میں پوچھا تو وہ خاموش ہو گیا اور اس کی آنکھیں نم ہو گئی اور کہنے لگا کہ پیارومحبت کے باوجود بھروسہ نہیں رہا خواہشات نے بھروسے اور جذبات کو ختم کر دیا ہے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پے دم نکلے
نکلے بہت ارمان مگر پھر بھی کم نکلے
انسان ایک معاشرتی حیوان ہے جو معاشرے کے بغیر نہیں رہ سکتا لیکن اسی معاشرے سے اس میں بہت سی خوبیاں اور خامیاں پیدا ہوتی ہیں ہماری زندگی میں دو چیزیں بہت اہمیت کی حامل ہیں ایک ضروریات زندگی اور دوسری خواہشات نفس۔ ضروریات زندگی تو بہت سادہ ہے اور اس سے بندہ سکون میں رہتا ہے اور جو کچھ ملتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے لیکن جب وہ اس کی درجہ بندی کو توڑتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ خواہشات نفس کی شکل اختیار کر جاتی ہیں۔ حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ زندگی عارضی ہے لیکن اس کے باوجود ہم نے اس کو خواہشات سے بھر کے مستقل سمجھنے لگ گئے ہیں ان کو پورا کرنے کے لیے غلط اور درست طریقے کی پرواہ نہیں کرتے ہوئے بہت سے لوگوں کے جزبات کو بھی قتل کر دیتے ہیں کیونکہ اس وقت ہماری آنکھوں پر خواہشات کی پٹی بندھی ہوتی ہے اور ہمیں کسی کی پرواہ نہیں ہوتی ہم بس اپنی میں میں ہوتے ہیں کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ایک مکان بنانے کے لیے بہت سی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے مثلا اینٹ، پانی، سمینٹ، بجری اور ریت وغیرہ وغیرہ جو ایک دوسرے سے مل کر ایک شکل بناتی ہیں جس کو مکان کہتے ہیں ان میں ہر ایک کی ایک بنیادی حیثیت ہوتی ہے اسی طرح ہماری زندگی میں بھی ہمارے والدین، بہن بھائی، دوست احباب، رشتے دار اور ہمارا معاشرہ سب کی ایک بنیادی اہمیت ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہمیں ایک مقام ملتا ہے جیسے کہتے ہیں کہ ’’اتفاق میں برکت ہوتی ہے‘‘جب ہم کسی مقام پر پہنچ جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ ہماری محنت ہے لیکن جب زوال کا شکار ہوتے ہیں تب دوسروں پر الزام لگاتے ہیں اور پھر ہمیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ کس کی کیا اہمیت ہے ہم نے ایک دوسرے کو ایک مطلب کے تحت ایک دوسرے سے جوڑے رکھا ہوا ہے ہمارے اندر پیار و محبت مر چکا ہے
خودی کو کر بلند اتنا ہر تقدیر سے پہلے
کہ بندے سے خود خدا پوچھے بتا تیری راضا کیا ہے
آج کل ہم نے اپنی خواہشات کو اتنا بڑھا لیا ہے جس کی وجہ سے ہماری زندگی سے سکون ختم ہو گیا ہم ان خواہشات کے جال میں اس طرح پھنس گئے ہیں کہ ہمیں اپنوں کی خوشیوں کا احساس نہیں ہوتا ایک گھر میں رہنے کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ وقت نہیں گزار سکتے بس اپنی خوشیوں کے پیچھے دوڑتے ہیں اس کے باوجود ہم خوش نہیں ہوتے اور اپنی زندگی سے تنگ آ جاتے ہیں ایک دوسرے پر گلے شکوے کرتے ہیں لیکن کبھی اصل حقیقت تک نہیں پہنچتے کیونکہ ہم نے اپنی خواہشات نفس کو ضروریات زندگی سے بڑھا لیا ہے اس وجوہ سے ہمیں بے چینی ، بے قراری ہوتی ہے جس سے ہماری روزمرہ زندگی میں بہت سی منفی تبدیلیاں ہوتی ہیں ان کو پورا کرنے کے لیے مختلف قسم کی سوچیں آتی ہیں جس سے ہماری نیند میں مسائل پیدا ہوتے ہیں اس وجہ سے ہمارے کھانے پینے میں بھی بہت سے مسائل سامنے آتے ہیں جیسا کہ نئے خلیات کا بننے کا عمل سست ہو جاتا ہے جس سے جسم میں تھکاوٹ ہونے لگتی ہے مزاج چڑچڑا ہو جاتا ہے اور اچھے برے کی تمیز ختم ہوجاتی ہے آہستہ آہستہ جسم میں بہت سی قسم کی بیماریاں جنم لینا شروع کر دیتی ہیں جیساکہ معدے کی خرابی، قبض، بلڈپریشر، دماغی امراض اور جلدی امراض وغیرہوغیرہ ہمیں اکیلا رہنا اچھا لگتا ہے قوت ارادی ختم ہونا شروع ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ازدواجی زندگی پر بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن ہم حقیقت سے منہ پھیر لیتے ہیں
اب تو دل سے آہ نہیں نکلتی اپنوں کے ظلم پر
اب تو آنسووءں نکلتے ہیں جب کوئی غیر حال پوچھتا ہے
ایک تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ انسان کو دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنے سے بہت سی خطرناک بیماریوں سے ساٹھ فیصد تک بچاؤ ممکن ہے بس ہمیں اپنی سوچ کو مثبت کرنا ہے خوشگوار ازدواجی زندگی سے بہت سی زنانہ و مردانہ پوشیدہ امراض سے بھی بچا جا سکتا ہے ہمیں اپنی خوشیوں کے ساتھ ساتھ اپنے قریبی لوگوں کی خوشیوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے ان کے جزبات کی قدر کرنی چاہیے ایک مثال کے طور پر فرض کریں کہ ہم سخت قسم کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ڈاکٹر چیک کرنے کے بعد کہتا ہے کہ اب اس کا آخری وقت آ گیا ہے تو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ سب سے معافی مانگیں اور سب کو آپس میں آکٹھے رہنے کی تلقین کرتے ہیں کیونکہ ہم اپنے بارے میں جان چکے ہوتے ہیں اگر اسی عمل کو ہم اپنی عام زندگی میں بھی استعمال کریں تو دیکھنا کتنا سکون میسر ہو گازندگی تب بہتر ہوتی ہے جب آپ خوش ہوتے ہیں لیکن زندکی تب بہترین ہوتی ہے جب آپ کی وجہ سے دوسرے خوش ہوتے ہیں
ایک انگریزی کی کہاوت ہے ’’ اپنی زندگی کو ایسے گزارو جیسے گویا آج تمہارا آخری دن ہے‘‘اگر ہمیں اپنی خواہشات سے اتنا پیار ہے تو کوشش کریں کہ کسی کو دکھ دیے بغیر حاصل کریں ہم خواہشات کو اپنے اندر سما لیتے ہیں لیکن ان کو پورا کرنے کی کوشش سے گھبراتے ہیں اپنی قوت ارادی کھو دیتے ہیں
مشکل کو نا سمجھ مشکل مشکل کچل دے گی سر مشکل کا
کہ شکل جب بھی نکلتی ہے مشکل سے نکلتی ہے
جب یہ سب باتیں میں نے اپنے دوست اور اس کی بیوی کو کیں تو وہ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اعتماد اور پیارومحبت کے ساتھ رہنے اور اپنی خواہشات نفس کو اپنی استطاعت کے مطابق رکھنے کا فیصلہ کیا ہمیں اپنی زندگی میں ٹھہراؤ لانا چاہیے اپنے کھانے پینے کا خیال رکھیں صاف پانی کا استعمال کریں کیونکہ ہمارے جسم کا دارومدار پانی پر ہے جب ہم تازہ پانی استعمال کریں گے تو دل سے صاف اور تازہ خون دماغ کی طرف حرکت کرتا ہے تو دماغ میں بھی تازہ خیالات جنم لیتے ہیں اور ہم بہت سی بیماریوں سے بھی محفوظ ہوجاتے ہیں تو پھر آپ نے کیا سوچا ہے اس بارے میں خوش رہو خوش رہنے دو اور دوسروں کو خوش رکھو۔