سپریم کورٹ نے اسلام آباد دھرنے کا نوٹس لے لیا

5

سپریم کورٹ نے فیض آباد میں مذہبی جماعت کے دھرنے کا نوٹس لے لیا۔

سپریم کورٹ نے اسلام آباد میں 16 روز سے جاری دھرنے کا نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ سے دھرنے کے خاتمہ کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب کرلیں۔ عدالت عظمیٰ نے سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری دفاع، آئی جی پولیس اسلام آباد، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔

سپریم کورٹ نے ایک وکیل کی جانب سے ایک کیس میں عدم تیاری کے مؤقف پر دھرنے کا نوٹس لیا۔ وکیل ابراہیم ستی نے عدالت سے کہا کہ دھرنے کے باعث وہ اپنے آفس نہیں پہنچ سکا جس کی وجہ سے کیس کی تیاری نہیں کی جاسکی۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ کون سی شریعت راستے بند کرنے اور لوگوں کو تکلیف پہنچانے کی اجازت دیتی ہے، دھرنے میں استعمال کی گئی زبان کی کون سی شریعت اجازت دیتی ہے، دھرنے کے باعث آرٹیکل 14، 15 اور 19 کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے انتظامیہ کو جمعرات تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو پرسوں تک بتایا جائے کہ دھرنے کے خاتمہ اور عوام کے حقوق کیلئے کیا اقدامات کئے گئے۔

دوران سماعت عدالت عظمیٰ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو بھی طلب کر لیا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود نے عدالت میں پیش ہوکر کہا کہ وہ خود صبح 8 کی بجائے 6 بجے گھر سے نکلتے ہیں تاکہ وقت پر عدالت پہنچ سکیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسلام کو زور بازو نہیں بلکہ کردار سے ہی پھیلایا جا سکتا ہے۔