سبزیوں اور پھلوں کے بیج درآمد کرنے پر غیر اعلانیہ پابندی

2

قرنطینہ ڈپارٹمنٹ نے پھل اور سبزیوں کے بیج کی درآمد پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کردی ہے۔

درآمد کنندگان کے مطابق پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ نے پھل اور سبزیوں کے بیج کی درآمد کے لیے امپورٹ پرمٹ کا اجرا روک دیا ہے جس کی وجہ سے زرعی پیداوار متاثر ہوگی۔

پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے ڈی جی ڈاکٹر وسیم الحسن کا کہنا ہے کہ درآمد کنندگان ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اجازت نامے کے بغیر زرعی مصنوعات درآمد کررہے ہیں جو ملک کے زرعی شعبے کے لیے خطرہ ہیں، ڈپارٹمنٹ نے امپورٹ پرمٹ کا اجرا بند نہیں کیا گیا تاہم قانون کے مطابق بغیر امپورٹ پرمٹ درآمد ہونے والی مصنوعات کو لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد کلیئر کیا جارہا ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے درآمد کنندگان کے کیسز سیشن کورٹس میں بھجوائے جارہے ہیں۔

درآمد کنندگان کے مطابق ملک میں 60 فیصد پھل اور سبزیاں درآمدی ہائبرڈ بیجوں سے کاشت کی جاتی  ہیں جن میں موسمی پھل اور سبزیاں شامل ہیں، پلانٹ پروٹیکشن نے کوئی اطلاع دیے بغیر امپورٹ پرمٹ جاری کرنا بند کردیے ہیں جبکہ امپورٹ پرمٹ کے حامل کنسائمنٹ کی بھی کڑی جانچ کرائی جا رہی ہے، اس دوران پورٹ پر پڑے رہنے سے بیجوں کی بارآوری متاثر ہورہی ہے، ملک میں بیجوں کا اسٹاک محدود ہے، درآمدات بحال نہ ہوئیں تو زرعی بحران کا سامنا ہوگا۔

ادھر پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ بغیر اجازت درآمد کی جانیو الی زرعی مصنوعات پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے خطرہ ہیں اسی خطرے کے پیش نظر بھارتی مونگ پھلی اور ٹماٹر کو ملکی سرحدوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی، بھارتی ٹماٹر مہنگا اور بیماری سے بھی متاثرہ تھا، بھارتی ٹمارٹر پر پابندی سے پاکستان کو 10ارب روپے کی بچت بھی ہوئی۔

ڈپارٹمنٹ نے بتایا کہ بغیر اجازت مصنوعات درآمد کرنے والوں کو جرمانوں اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا، سابقہ ادوار میں پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے ڈی جی نے سزا اور جرمانے کا اختیار اپنے پاس رکھا ہوا تھا تاہم اب قانون کے مطابق کیسز سیشن کورٹس کو بھجوائے جارہے ہیں جہاں بلا اجازت زرعی مصنوعات درآمد کرنے والوں کو 10ہزار روپے جرمانے اور 6ماہ تک کی سزا کا سامناکرنا پڑے گا۔

پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ نے درآمد کنندگان کے دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ بیجوں سمیت دیگر زرعی مصنوعات کے نئے امپورٹ پرمٹ جاری کیے جارہے ہیں تاہم وزارت تجارت کے ایس آر او کی روشنی میں زرعی مصنوعات کی امپورٹ کیلیے نئے شرائط وضوابط تیار کیے جارہے ہیں اب تک سویابین، کنولہ اور دالوں کی درآمد کیلیے نئے شرائط و ضوابط جاری کردیے گئے ہیں،دیگر مصنوعات کیلیے بھی شرائط و ضوابط کی تیاری کا کام جاری ہے۔