دس دن

4

تحریر۔۔۔ شاہد شکیل
انسان مرنے کے لئے ہی پیدا ہوا ہے ،زندگی اور موت صرف خدا کے ہاتھ میں ہے وہ جب چاہے کسی کو بھی اپنے پاس بلا لے اور جب چاہے انسان کی زندگی کو موت کے قریب لے جائے بلکہ موت کا نظارہ کروائے اور دوبارہ زندگی دے یعنی زندہ انسان کو موت کے دھانے لا کھڑا کرے اور انسان یہ سمجھے کہ چند لمحوں کی بات ہے اب میں مر جاؤں گا لیکن عین اسی وقت وہ دوبارہ زندگی پا لے ،کئی باتیں سائنسی لحاظ سے ممکن اور کئی ناممکن سمجھی جاتی ہیں بلکہ جو نہ سمجھ میں آئے تو خدا پر چھوڑ دیا جاتا ہے ،اس بات سے دنیا کا کوئی ڈاکٹر یا سائنسدان انکار نہیں کر سکتا کہ مردے کا زندہ ہو جانا معجزے سے کم نہیں ہوتا اور مردے کو زندہ کرنا کسی سائنسدان یا ڈاکٹر کا کمال نہیں بلکہ سپر پاور خدا کے حکم سے ہی ہوتا ہے۔ریسرچرز ،ڈاکٹرز،سائنسدان سب کچھ کر لیں گے لیکن انسان کے جسم میں روح نہیں ڈال سکیں گے کیونکہ روح کو کوئی قید نہیں کر سکتا،ہمارے ارد گرد ہی نہیں بلکہ دنیا کے چپے چپے پر روحیں ہر جگہ موجود ہیں اور ہم نہ انہیں دیکھ سکتے نہ پکڑ سکتے ہیں اور نہ قید کر سکتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں ایک جرمن میگزین میں کینیڈین خاتون پر مفصل رپورٹ شائع ہوئی جس کا مطالعہ کرنے کے بعد ہزاروں لوگوں نے مختلف بیانات اور رائے کا اظہار کیا کچھ کیلئے سفید جھوٹ تھا اور کچھ لوگ اسکی کہانی سے سو فیصد متفق تھے کہ ایسا ہو سکتا ہے۔میں دس دن تک مردہ حالت میں تھی لیکن زندہ تھی کیونکہ میں کوما میں تھی،دوبارہ زندگی پا لینا میرے لئے خدا کی طرف سے بہت بڑا تحفہ ہے اور شکریہ ادا کرنے کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں۔انیس سو اٹھاسی میں سرما اولمپکس میں حصہ لینے کیلئے اپنے ساتھی کے ساتھ ٹریننگ میں مصروف تھی جب یہ حادثہ پیش آیا ہم دونوں سائیکل پر رواں تھے کہ اچانک ایک تیز رفتار ٹرک نے مجھے پیچھے سے ٹکر ماری سب کچھ اتنا اچانک اور جلدی میں ہوا کہ مجھے سمجھ ہی نہیں آیا اور میں فوراً بے ہوش ہو گئی لیکن میرے کانوں میں کئی آوازیں سنائی دیتی رہیں،یہ نہیں بچ پائے گی اسے جان لیوا چوٹیں اور زخم آئے ہیں، اسکی گردن اور پیٹھ کی کئی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں،سر کی چوٹوں کے علاوہ اسکے جسم کے کئی حصوں سے خون نکل رہا ہے وغیرہ،میں کچھ دیر تک یہ سمجھتی رہی کہ کسی جھولے میں سوار ہوں اور وہ ایمبولینس تھی کچھ دیر بعد میری آنکھوں کے سامنے روشنی کا تیز جھماکا ہوا یعنی میں آپریشن تھیٹر میں تھی،اسکے بعد کیا ہوا مجھے یاد نہیں لیکن اتنا یاد ہے کہ میری روح جسم سے نکلنا چاہتی تھی اور میں اسے چھوڑتی نہیں تھی میں نے اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ رکھا تھا اور کوئی شے میرے جسم کو جکڑتی تھی اور یوں ایک جنگ شروع ہو گئی میں اپنے آپ کو بچانا چاہتی تھی اور روح میرے جسم سے نکل کر مجھے مارنا چاہتی تھی ۔زندگی اور موت کی اس جنگ میں میرا تجربہ قدرے مختلف تھا میں اپنے آپ کو قریب الموت نہیں سمجھ رہی تھی میں جانتی تھی کہ میں نہیں مروں گی اور موت میں گھس کر بھی باہر آجاؤنگی ،میں دوران موت کسی ایسے تجربے سے ہمکنار نہیں ہوئی جیسا کہ عام طور کہا جاتا ہے کہ میں موت کی وادی میں چلا گیا یا گئی تیز روشنی کو دیکھا، کسی سرنگ میں داخل ہوا،پھولوں کا باغ تھا یا آسمانوں پر تیر رہا تھا ،میں نے کسی قسم کی کوئی مذہبی علامات نہیں دیکھیں نہ کسی فرشتے کو اپنے قریب پایا جو مجھے خوش آمدید کہتا ،میں دو مختلف سطحوں کے درمیان تھی یعنی زندہ بھی اور مردہ بھی ،زندہ کو شعور کچھ کہتا اور مردہ کو کچھ ،مردہ تو بے بس تھی لیکن زندہ شعور میرے قریب تھا، فرق یہ تھا کہ زندہ شعور مجھے تکلیف میں مبتلا رکھتا اور مردہ مجھے ہر شے سے بے نیاز کر دیتا،زندہ شعور یا سوچ میں مجھے دنیاوی مسائل نظر آتے اور جسم میں
تکلیف محسوس ہوتی جبکہ مردہ سوچ یعنی اگر میں روحانی طریقے سے مر چکی تھی تو کچھ محسوس نہیں ہوتا ،میں جانتی تھی کہ میری روح میرے ساتھ عجیب قسم کا مذاق اور کھیل کر رہی ہے نہ میرے جسم میں رکنا چاہتی ہے اور نہ باہر نکلنا چاہتی ہے مجھے اسی تکلیف میں دیکھنا چاہتی ہے اگر میری روح خاموشی سے نکل جاتی تو شاید میری زندگی کا سفر مکمل ہو جاتا اور موت واقع ہو جاتی لیکن ایسا نہیں تھا میں اپنی روح سے دل ہی دل میں باتیں کرتی کہ مجھے چھوڑ دے ایک تو زخموں نے چور چور کر دیا ہے اور دوسرا تو مجھے جکڑے ہوئے ہے جا چلی جا میرے جسم سے نکل جا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا جو میں نے سوچا تھا۔میں جانتی تھی کہ مجھے ویسی زندگی دوبارہ نہیں ملے گی یعنی موت سے واپسی کے بعد کی زندگی ، کیونکہ دو روحیں میرے ہمراہ تھیں اور تعاقب کر رہی تھیں ایک میرے اندر رہ کر مجھے نئی زندگی کا تحفہ دینا چاہتی تھی اور دوسری نکل کر مجھے زندگی سے آزاد کرنا،زندگی اور موت کے اس سفر کا فیصلہ میں نے کرنا تھا کہ دنیا میں واپس جانا ہے یا کسی دوسری ان دیکھی دنیا کی طرف سفر رواں رکھنا ہے ،میرے اندر سے کئی ٹوٹی پھوٹی آوازیں آتیں کہ جس دنیا نے تجھے پل بھر میں توڑ پھوڑ کر چکنا چور کر دیا ہے کہ آج تو ایک انچ بھی حرکت نہیں کر سکتی دس دنوں سے زندہ لاش بنی ہے اس دنیا میں واپس جانا ہے یا اس ٹوٹے پھوٹے جسم کو منوں مٹی میں دفن کر دینے کے بعد اس دنیا میں جانا ہے جس کو دیکھا تک نہیں ،میرے لئے فیصلہ کرنا مشکل تھااور حالت مزید بگڑ چکی تھی خون رکنے کا نام نہیں لیتا تھا ڈاکٹرز اپنی ہر کوشش آزما چکے اور تقریباً مایوس ہو گئے تھے تب انہوں نے میرے والدین کو اطلاع دی کہ اب ہم کچھ نہیں کر سکتے آپ اپنی بیٹی کی آخری رسومات کا انتظام کریں اور اپنی بیٹی کا آخری دیدار کرنے کلینک پہنچیں۔دس دنوں بعد مجھے کسی کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا میرے اندر سے کچھ آوازیں آئیں، دل میں عجیب سی لہر اٹھی دس دنوں بعد اچانک میری آنکھیں نیم وا ہوئیں تو دھندلی آنکھوں سے اپنے والد کوسامنے بیٹھا پایا وہ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ میں کسی بھی وقت یہ دنیا چھوڑ دونگی کہ اچانک انکی غمزدہ آواز نے مجھے چونکا دیا ،یا میرے اللہ میری جان لے، میری روح لے میری ساری طاقت لے اور میری بیٹی کے اندر ڈال دے، میں بہت ہمت والا ہوں اب بوڑھا ہو گیا ہوں کیا کروں گا مزید دو چار سال جی کر ،میری بیٹی تو ابھی جوان ہے اس نے دنیا میں نام کمانا ہے ابھی اس کا وقت نہیں آیا ہے ،اسکے بدلے مجھے اپنے پاس بلا لے، میرے والد نہیں جانتے تھے کہ ان کے چھونے سے میں موت کو دھوکہ دے کر واپس اسی دنیا میں آگئی ہوں ،وہ اپنی دعاؤں میں اتنا مگن تھے کہ آنکھیں بند تھیں اور خدا سے رحم کی بھیک مانگ رہے تھے ۔میں نے اپنی جنگ تیز کر دی اور آنکھیں کھولیں،اسی لمحے والد نے تقریباً چیخ کر ڈاکٹر کو آواز دی اور انہوں نے اپنا آخری حربہ استعمال کرنے کے بعد مجھے اور والد کو خوشخبری سنائی کہ اب سب کچھ ٹھیک ہے۔میں آج وہیل چئیر پر ہوں ٹوٹ پھوٹ جانے کے بعد کم سے کم زندہ ہوں ۔زندگی ایک بار ہی ملتی ہے اسکی قدر کی جائے۔