اسلام،اسلام آباد اور دھرنا

40

تحریر:احسان اللہ ساون
اسلام آباد پاکستان کا دارالحکمومت،وفاق کی علامت اور اہم شہر ہے مختلف ممالک کے سفارتخانوں اور سفیروں کی قیام گاہیں اور ا ہم ادارے اسلام آباد کی آغوش میں موجود ہیں جن میں سپریم کورٹ،پارلیمنٹ سمیت،انتہائی حساس عمارات اور عسکری و سول ادارے شامل ہیں اسلام آباد جہاں کبھی لوگ سیر و سیاحت کے لیے جایا کرتے تھے وہاں اب لوگ دھرنا دینے جاتے ہیں ۔
دھرنا سیاست نواز حکومت کی مرہون منت پروان چڑھی اور وقتََافوقتاََمختلف سیاسی پارٹیوں نے اسے اپنے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا لیکن ہر بار ان دھرنوں کو ہٹانے کے لیے حکومت نے گفت و شنید کا ڈرامہ رچایا۔اور جب یہ مذاکراتی ڈرامہ فلاپ ہو جاتا تو حکومتی رٹ قائم کرنے کے طاقت کا استعمال کیا جاتا رہا ہے پاکستان تحریک انصاف،جماعت اسلامی،اور تحریک منہاج القرآن نے مختلف ادوار میں دھرنے دیے ۔لانگ مارچ کیے ،لیکن ان دھرنے کے پیچھے جو بھی مقاصد رہے ہوں وہ سیاسی تو ہو سکتے ہیں لیکن مذہبی نہیں۔ان سیا سی دھرنوں میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا اتحاد بھی نظر آیا لیکن سیاسی اتحاد محض چند ہزار لوگوں کو گھروں
سے نکال سکا۔اور ان دھرنوں میں بہت سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں محض میوزیکل شو دیکھنے اور آؤٹنگ کی غرض سے چلے جاتے تھے۔
میرے خیال میں دین کے نام پر اور خالصتاََ نبی اکرم ﷺ کی ناموس اوعقیدہ ر ختمِ نبوت کو بچانے کے لیے یہ پہلا دھرنا ہے جس کو آج لگ بھگ بیس ،بائیس دن ہو گئے ہیں،جس دھرنے میں میوزیکل شو نہیں چلتا بلکہ صدائے درود و سلام بلند ہوتی ہے ۔شاید ااسی لیے اس دھرنے میں چند عاشقان رسول ﷺ کے علاوہ کوئی نہیں گیا ،اور اگر اس میں بھی نعت اور درود کے بجائے گانے بجائے جاتے اور نعت خوانوں کی جگہ گلوکار ہوتے جو پارٹی کی نغمے گاتے تو تمام ماڈرن لوگ اپنی پوری پوری فیملی کو لے کر آ جاتے ۔لیکن ایسا نہیں ہے ،یہ نبی کے دیوانے تھوڑی تعداد میں وہاں پہنچے اور ناموس رسالت ﷺ کے پہریدار بنے ۔لیکن گھروں میں رہنے والے وہ لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے
اور ایک شاعر نے لکھا تھا کہ
محبوب کی محفل کو محبوب سجاتے ہیں آتے ہیں وہی جن کو سرکارؐ بلاتے ہیں
اور حکومت بھی شاید اسی لیے خوش فہمی کاشکار ہوئی کے جہاں بڑی بڑی سیاسی پارٹیاں نہیں ٹک پائیں وہاں یہ مٹھی بھر لو گ کیا ٹکیں گے۔لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ معرکہء بدر میں کیا تھا،جب مومن کی نظر نصرت خداوندی پر ہو،اور جب مٹھی بھر لوگ جو عشقِ مصطفی ؐ سے سرشار ہوں تو وہ تعداد کو خاطر میں نہیں لاتے۔اور ایک بار پھر وہی ہوا ،جب حکومت کا مذاکراتی ڈرامہ فلاپ ہوا تو انہوں نے اپنی تاریخ دھرائی بلکہ کہوں گا کہ بہت بڑی غلطی کی جو تحریک لبیّک یارسول اللہ کا دھرنا ختم کروانے اور فیض آباد انٹر چینج کو خالی کرانے کے لیے ان کے مطالبات ماننے کے بجائے طاقت کا ستعمال کیا اور حکومت کے پالے ہوئے بدمعاش بلائے اور ان لوگوں نے ان مظاہرین پر تشدد شروع کیا۔اور پھر جوابی کاروائی میں پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے اور مظاہرین بھی،لیکن اتنا بڑا حملہ کرنے کے باوجود پولیس وہاں ناکام ہوئی ۔اور جیسے ہی تشدد اور

زخمیوں کے بارے میں میڈیا پر خبر چلی اس خبر نے پورے پاکستان میں ہلچل مچا دی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا پاکستان میدانِ جنگ کا نظر پیش کرنے لگا ،پولیس اور عوام میں جھڑپیں ،آنسو گیس، ربر کی گولیوں ،اور پتھروں کا استعمال کیا گیا،مظاہرین نے بھی جواب میں پولیس پر ڈنڈے برسائے ،سرکاری عمارات ،گاڑیوں اور پولیس سٹیشنوں کو آگ لگا دی گئی ،کہیں مظاہرین نے پولیس کی دوڑیں لگوا دیں اور کہیں پولیس نے مظاہرین کو گرفتار کیا اور ان کی دھلائی کر دی ۔سارا دن یہ سلسلہ چلتا رہا،اور جب حکومت مکمل ناکام ہوئی تو اس نے میڈیا کو خاموش کرنے کے لیے ٹی،وی چینلز کو بند کر دیا ،شوشل میڈیا کی سروس معطل کر دی ،اور ساتھ ہی ساتھ فوج کو دعوت دے دی اور جب آگے سے بھی کرارا جواب ملا کہ تشدد کا راستہ چھوڑ کر امن سے مسئلہ حل کرو تو حکومت اپنا سا منہ لے کے بیٹھ گئی اور نئی شیطانی چال سوچنے لگی ۔
اگر حکومت چاہتی تو یہ معاملہ اتنا نہ بگڑتا،کیونکہ شروع میں مولانا خادم حسین رضوی اور ان کی تحریک کا مطالبہ بہت سادہ سا تھا کہ آئین میں موجود ختمِ نبوت کی شق میں تبدیلی کرنے اور قادیانیوں کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کرنے والے وزیر کو پارلیمنٹ سے بر طرف کیا جائے ،اور آئین کی شق کو اصلی حالت میں بحال کیا جائے ،لیکن حکومت نے عوامی ردعمل دیکھ کر شق تو بحال کر دی لیکن وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کو
بر طرف نہیں کیا اور نہ ہی اس سازش کے پیچھے چھپے تمام چہروں کو بے نقاب کیا ،اورحیل و حجت کا انداز اپناتے ہوئے اس معاملہ کو مزیدہو ادی اور یہ ایک تحریک بن کر

مولانا خادم حسین رضوی کی قیادت میں فیض آباد انٹر چینج تک پہنچ گیا ۔اور پھر دیکھتے دیکھتے ہر پاکستانی چاہے وہ کسی بھی جماعت یا پارٹی سے ہو ،اس تحریک لبیک یا رسول اللہ کا حصہ بن گیا ،اور ذاتی شناخت اور پارٹی کے منشور کو چھوڑ کر مولانا خادم حسین رضوی صاحب کے موقف کی تائید میں گھر سے نکلااور سراپا احتجاج بنا اس تحریک نے پوری قوم کو یکجا کر دیالیکن حکومت نے تب بھی ہوش کے ناخن نہیں لیے ۔ لیکن آج پاکستانی قوم نے حکومت اور انٹرنیشنل کمیونٹی کو بھی یہ پیغام دے دیا ہے کہ ہمارے آپسی اختلافات چاہے
جتنے بھی ہوں لیکن جب بھی بات ہماری نبی کی ناموس اور مملکتِ خداداد پاکستان،قلعہ اسلام کی سا لمیت پر آئے گی تو تم ہمیں ایک پاؤ گے جیسے آج پوری قوم ایک ہے اور ہر زبان پے ایک ہے نعرہ ہے لبیّک یا رسول اللہ ؐ ، لبیّک یا رسول اللہؐ
نواز حکومت نے اپنے دور اقتدار میں جو بھی غلطیاں کیں ،لوٹ مار کی ، عوام کو بے وقوف بنایا ،سب اپنی جگہ ،لیکن آئین میں ختمِ نبوت کے مسئلے کو چھیڑ کر سب سے بڑی غلطی کی ہے ۔عوام اپنے ساتھ ہوئے ظلم و زیادتی کو، اپنے لوٹے ہوئے سرمائے کو ،سب کچھ معاف کر سکتی ہے لیکن ختمِ نبوت پر حملے کو کبھی معاف نہیں کرے گی ،اور واقعی میں نواز حکومت اگر تحریک لبیّک کی پہلے مطالبے پر لبیّک کہہ کر ذمہ داران کو برطرف کر دیتی تو نا صرف اپنے ایمان کو بچا لیتی بلکہ اپنے لیے آنے والے الیکشن میں اقتدار کی راہ ہموار کر لیتی اور اپنے اوپر چلنے والوں لوٹ مار کے کیسوں میں بھی عوام کی حمایت بٹور لیتی،لیکن اب کیا ہوت جب چڑھیاں چ گئی کھیت،اور ویسے بھی مجھے لگتا ہے اللہ کی طرف سے بھی اب ان پر دنیا تنگ ہونے والی ہے کیونکہ جب اللہ کسی کو دنیا میں ذلیل و رسوا کرنا چاہتا ہے تو اس کی عقل اس سے چھین لیتا ہے۔اور اللہ بڑا بے نیاز ہے جو تخت پے بٹھا تا ہے تو تختہ ء دار تک بھی لے جا سکتا ہے،عزت اور ذلت سب اسی کے ہاتھ میں ہے ۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی عزت کرتا ہے دنیا و آخرت کی کامیابیاں اسی کے حصے میں آتی ہیں اور جو اللہ اور رسول سے حرمت پر حملہ کرتا ہے تو دنیا
و آخرت میں رسوائیاں اسکا مقدر بنتی ہیں اللہ ختمِ نبوت کے پاسداران کی حفاظت و نصرت فرمائے اور ہمارا ختمِ نبوت پر یقین اور پختہ کر ے ۔آمین