اداس مویشیوں کا چہرہ پہچاننے والا سافٹ ویئر

24

برطانوی ماہرین نے ایک ایسا الگورتھم بنایا ہے جو کسی بھی بھیڑ کی شکل دیکھ کر اس کی اداسی یا تکلیف یا کے بارے میں بتا سکتا ہے۔

الگو رتھم کی مدد سے چرواہوں کو بے زبان جانوروں میں کسی بیماری، مرض اور تکلیف کو وقت سے پہلے جاننے میں مدد ملے گی اور ان کا مؤثر علاج کرنا ممکن ہو گا۔

کیمرج یونیورسٹی کے ماہرین کا خیال ہے کہ مویشی اور خصوصاً بھیڑیں اپنے چہرے سے بہت کچھ ظاہر کرتی ہیں، اس کے لیے انہوں نے جانوروں کے ڈاکٹروں سے بھیڑوں کی 500 مختلف تصاویر لیں اور ان کے چہرے پر پائی جانے والی 5 علامتوں پر غور کیا  جو ان کی جسمانی کیفیت کو ظاہر کرتی ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق کسی درد یا تکلیف کی صورت میں بھیڑ کی آنکھیں سکڑ جاتی ہیں اور گال کھنچ جاتے ہیں، کان آگے کی جانب مڑجاتے ہیں، ہونٹ پیچھے ہو جاتے ہیں اور نتھنے V  سے U شکل کے ہو جاتے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بات گھوڑوں، چوہوں اور خرگوشوں پر بھی پوری اترتی ہے لیکن اس کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس طرح فارم یا مویشیوں کے برتن میں کیمرے نصب کر کے ان کی بیماری کا پہلے سے ادراک کیا جاسکتا ہے۔ ماہرینِ حیاتیات کا اصرار ہے کہ جانوروں کے تاثرات پہچاننے میں مشہور سائنسدان چارلس ڈارون کو کمال حاصل تھا اور عین ان ہی خطوط پر یہ سافٹ ویئر بھی بنایا گیا ہے۔

اسی تحقیقی ٹیم میں شامل ایک خاتون مارویٰ محمود کہتی ہیں کہ انسانی چہرے کے پٹھوں اور جانوروں کے پٹھوں میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے جو مختلف کیفیات پر ظاہر ہوتی ہے۔ تاہم بھیڑوں کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ انہیں مختلف پوز دینے کا نہیں کہا جاسکتا۔ ماہرین پرامید ہیں کہ مزید ڈیٹا شامل ہونے سے جانوروں کے احساسات کو بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔