وزیرقانون کی رخصتی

4
بالآخرزاہد حامد وزیر قانون کو رخصت ہونا پڑا جب آئین میں موجود ختم نبوت کی شقوں میں ترمیم کا بل پاس کیا گیا تھا تو ہی ممبر قومی اسمبلی حافظ حماد اللہ نے اعتراض اٹھایا تھااور اس میں ترمیم کے لیے تجاویز دی تھیں مگر اکیلی آواز کوکون سنتا ہے؟ پھرن لیگیوں کے دماغوں پر نااہل کو اپنا صدر بنانے کے لیے قرار داد کی فوری منظوری کا بل بھی سر پر سوار تھا ۔قادیانیت نوازوں نے اسی افراتفری میں ختم نبوت کے قوانین مندرجہ آئین میں کئی تبدیلیاں کرکے اسے بھی نئے انتخابی قوانین کا حصہ بنا ڈالا تھا شیخ رشید و دیگر نے شور مچایا تو وزیر قانون کا غذات لہرا لہرا کر دکھاتے رہے کہ کوئی فرق نہیں ہے جھوٹا پراپیگنڈا ہورہا ہے مگر جن کے دلوں میں ختم المرسلین ﷺ کی محبت موجزن تھی انہیں قرار نہ تھا پھر حلف والی شق کو توتبدیل کردیا گیا مگر دیگر دفعات 7Cاور8Cکی تبدیل شدہ صورت کو درست نہ کیا گیا تاکہ کو ئی بھی مرتد قادیانی ممبر اسمبلی بننے کے لیے اپنا ووٹ مسلمانوں کی لسٹ میں ہی درج کرواسکے۔پھر تحریک تحفظ ختم نبوت نے زور پکڑا ملک میں جلسے جلوس شروع ہوئے اور گلی گلی میں نواز شریف اور اس کے ساتھیوں پر کافرانہ اقدامات کا شور مچ گیا تو ان دفعات کو بھی سابقہ صورت میں بحال کر دیا گیا نوازشریف صاحب نے لندن سے ہی اس کی تحقیقات کرکے تین دن کے اندر ان ساری مذموم حرکات کے محرکین کا پتہ لگانے کا کہا تھامگر راجہ ظفر الحق کمیٹی و دیگر حکومتی ارکا ن لیت و لعل سے کام لیتے رہے اب جب اسلام آباد راولپنڈی کے سنگم پر دھرنا شروع ہوا اور دونوں شہروں میں آنے جانے کے راستے بند ہو گئے تو سبھی کو دن میں تارے نظر آنے لگے وہاں سے روزانہ سخت ترین الفاظ میں موجودہ حکمرانوں کی مذمت کی جانے لگی بلکہ ایسے ذمہ داران کو قادیانیوں کی حمایت کرنے پر مرتد قرار دیا جانے لگا تو حکومتی ایوانوں میں زلزلہ برپا ہو گیا مظاہرین کسی بھی صورت ایسے مرکزی وزیر قانون کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہ تھے جس کی نگرانی میں یہ ساری خوفناک ترامیم تیار کی گئی تھیں ۔ضیاء الحق کے دور میں اس کے خاص پرسنل اسٹنٹ نے بیعنہہ ایسی ترامیم تیار کرکے پاس کروانے کی کوششیں کی تھیں تو اسے فوراً ملازمت سے ہی برخواست کر ڈالا گیا تھا۔دراصل بڑے سامراج اور اسرائیلیوں کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کسی طرح ان کے پالتو قادیانیوں کے بارے میں 7ستمبر1974کو متفقہ طور پر قومی اسمبلی کی قرار دادکے ذریعے کافر قرار دیے جانے والی ترمیم ختم کروائی جا سکے جب بھی کوئی وزیر اعظم اور صدر امریکہ کا دورہ کرتا ہے تو ان کا پہلا مطالبہ یہی ہوتا ہے۔دھرنا سے ملکی معیشت کا کتنا نقصان ہوا ہے یہ تو علیحدہ مسئلہ ہے عوام کو سخت تکالیف برداشت کرنا پڑیں جس پر ہائیکورٹ اسلام آباد اور بالآخر سپریم کورٹ نے واضح احکامات اس دھرنا کو کسی اور جگہ شفٹ کرنے کے لیے دیے مگر عملدرآمد نہ دارد کی صورت رہی حتیٰ کہ وزیر داخلہ کو توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری ہوا مگر موجودہ حکمران مشرف کی طرف سے لال مسجد والے مظالم جن میں اس نے سینکڑوں حفاظ بچیوں و دیگر تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کو زہریلی گیسوں کے ذریعے بھسم کرکے کوئلہ بنا ڈالا تھا اور ان کی جلی ہوئی لاشوں کو گٹروں میں بہا ڈالا تھا کہ واقعہ کو نہیں بھولے تھے اور ایسا کوئی مزید واقعہ ہوجانے کے متحمل نہ ہو سکتے تھے نیم دلی سے آخری دنوں میں دھرنا پر حکومتی حملہ ناکام رہااور پنڈی سے ہزاروں افراد ختم نبوت زندہ باد اور رہبر و راہنما مصطفیﷺ مصطفیﷺ کے نعرے لگاتے پہنچ گئے اور پولیس دھرنا اور ان مظاہرین کے درمیان آگئی اب پولیس کے لیے بھاگنے کا راستہ بھی نہ تھاکیا بیتی ہو گی اس کا ذکرتاریخ میں یاد رہے گاپہلے ہی روز زاہد حامد کی چھٹی کروادی جاتی تو حکومت کے خلاف یوں گلی کوچوں میں مظاہرے نہ ہوتے اور ن لیگی ممبران اسمبلی مستعفی نہ ہوتے در اصل ن لیگیوں کے مشیر ہی سستی نااہلی کی وجہ سے پرلے درجے کے نکمے ثابت ہوئے ہیں اب” سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا ہوا”والا مسئلہ ہو چکا حکومت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا عوام میں افواہیں گرم ہیں کہ در اصل بڑے سامراج کو خوش کرنے کے لیے قادیانیوں کی حمایت والی ترامیم اس لیے لائی گئیں تاکہ شاید اس طرح اقتدار لمبا ہو سکے اور آئندہ انتخابات میں بھی بڑا سامراج ان کی پشت پر کھڑا ہواور ن لیگ ہی کسی طرح فاتح قرارپاسکے درمیان میں وزیر قانون پنجاب رانا ثنا ء اللہ ٹپک پڑے شاید اس وقت وہ ہوش و ہواس میں نہ تھے کہ انہوں نے مرزائیوں کے حق میں ایسے قبیح بیانات جاری کیے جس سے اسلامیان پاکستان کی سخت دل شکنی ہوئی دونوں وزرائے قانون کی طرف سے ایسے اقدامات کرنے کے بعدختم نبوت پر ایمان رکھنے کے بیانات اور اخباروں و ٹی وی پر اشتہارات کسی کام نہ آئے لوگوں کے دلوں میں جو نفرت جگہ پاچکی تھی وہ شاید کبھی ختم نہ ہوسکے ۔رانا ثناء اللہ کو برقرار رکھنے سے بھی ن لیگیوں کا جو سیاسی نقصان ہوگا اس کا تصور کرنا بھی محال ہے بالآخر آرمی چیف جس کے لیے عوام سے دلی دعائیں نکلتی ہیں نے مداخلت کی اور اپنی ٹیم کے ذریعے دھرنا والوں سے مذاکرات کرکے ان کے مطالبات کو حکومت سے من و عن تسلیم کروایااور مظاہرین کو وہاں سے باعزت رخصت کیا تو ہی حکمرانوں کی جان میں جان آئی وگرنہ پورے ملک میں ان کے خلاف جلسے جلوس کبھی نہ رکنے والی صورتحال اختیار کرتے چلے جارہے تھے اور دھڑن تختہ کا امکان موجودتھاویسے عوام کی رائے یہ ہے کہ نواز شریف نے چونکہ سود کو ختم کرنے کے فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلہ پر کئی سال سے اسٹے آرڈر جاری کروایا ہوا ہے اور سراسر دنیا کے زلیل ترین اورمکمل کافرانہ نظام سود کو تحفظ دے رکھا ہے شاید اسی وجہ سے ان پر عذاب الہٰی آرہا ہے اور لاکھ کہیں کہ حکومت ہے مگر نہیں ہے!!