ٹیکسٹائل سیکٹر کے مطالبات نظر انداز، ملک گیر احتجاج کی دھمکی

4

پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ محمد شفیق نے کہا کہ اگر پریگمیا کے مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کیے گئے تو پریگمیا ملک گیر سطح پر احتجاجی لائحہ عمل اختیارکرنے پر مجبور ہوجائے گی۔

شیخ محمد شفیق نے کہا ہے کہ وزارت ٹیکسٹائل کو متعدد بار یاددہانی کرانے کے باوجود ریڈی میڈ گارمنٹس سیکٹر کے مسائل حل نہیں ہوئے حالانکہ آخری اجلاس میں بھی وزیرٹیکسٹائل نے ایک ہفتے کے دوران تمام مسائل حل کرانے کا یقین دلایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسلسل نان ٹیکسٹائل شعبوں کو دی گئی معینہ مدت کے کیسز میں توسیع کی طرح کی نرمی کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ ڈی ڈی ٹی ترغیبات اور ڈی ایل ٹی ایل آراینڈ ڈی سیلزٹیکس اور کسٹم ریبیٹ کی مد میں پھنسے ہوئے ریفنڈز پربھی زور دے رہے ہیں مگر کوئی فائدہ نہیں ہورہا۔

پریگمیا نے نئے ٹیکسٹائل پیکیج کا فوری نفاذ کا بھی مطالبہ کیا ہے مگر تاحال وزارت نے ڈیٹا جمع کرانے کے لیے سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ ہی نہیں کیا ہے اور 6 ماہ گزرچکے ہیں جبکہ یہ پیکیج جون2018 تک موثر بہ عمل ہے، برآمدکنندگان نے 3.5 فیصد کی ترغیبات کو اپنی لاگت میں شامل کیا ہے اگر حکومت نے مراعات نہ دیں تو برآمدکنندگان کو بھاری نقصانات ہوںگے، وزارت پریگمیاکی گزارشات کو نظرانداز کررہی ہے۔

شیخ محمد شفیق نے کہا کہ وہ جلد وزیر ٹیکسٹائل سے وفد کے ہمراہ ملاقات کریں گے اور اگر پریگمیاکے مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کیے گئے تو پریگمیا ملک گیر سطح پر احتجاجی لائحہ عمل اختیارکرنے پر مجبور ہوجائے گی اور احتجاج کے طریقہ کاراور وقت کے تعین کا فیصلہ پریگمیا کی ایگزیکٹو کمیٹی دیگر ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز کے ساتھ اتفاق رائے کے ساتھ کرے گی۔