ذمہ دار جرنلسٹ

5

تحریر ۔۔۔ باؤ اصغر علی
جرنلسٹ نے ہمیشہ عوام الناس کی خدمت کے لئے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر اپنے فرائض منصبی ادا کئے ہیں جرنلسٹ کن کن مراحل سے گزر کر چھپے ہوئے حقائق عوام تک پہنچاتا ہے کسی کو معلوم نہیں ہوتا ایک جرنلسٹ کے شب و روزکیسے گزرتے ہیں ان حالات سے بھی عوام بے خبر ہی رہتی ہے ایک ذمہ دار جرنلسٹ ہی جان سکتا ہے کہ صحافت کی راہ داریوں میں کیسی کیسی مشکلات اور مصائب سے دوچار ہونا پڑتا ہے ،چند صحافیوں کے علاوہ سب صحافی بغیر کسی معاوضے کے اپنے اپنے اداروں کے لئے رپورٹیں تیار کرتے ہیں خبروں کی رسائی تک ۔۔۔ اور رسائی سے سچائی تک کا سفر بہت کٹھن ہوتا ہے اوراس کٹھن سفر میں کئی صحافی پردہ چاک کرنے والوں کے ظلم و ستم کابھی شکار ہوتے ہیں کیونکہ جن افراد کی کرپشن عوام کے سامنے لائی جاتی ہے اس مافیا کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں انہیں بااثر سیاست دانوں کی پشت پنائی بھی حاصل ہوتی ہے یہی وجہ ہے یہ کرپٹ عناصر اپنی کرپشن کی دستانوں کی بے نقابی کے بعد صحافیوں پہ ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھانے لگتے ہیں لیکن ایک نڈر صحافی اپنے فرائض کو احسن طریقہ سے نبھاتے ہوئے اندر کی کرائم سٹوری کو اپنے قلم کی نوک پہ لا کر عوام کے سامنے سارا کچا چٹھہ کھول کر رکھ دیتا ہے ایسے حالات میں نڈر صحافی کو معاشرہ میں زندگی کے شبو روز بسرکرنے نہایت مشکل ہوجاتے ہیں ایسے کئی واقعات میں بے شمار صحافی موت کے گھاٹ اتار بھی دیئے گئے اور آنے والے وقتوں میں بھی بہت سے صحافی ایسے ظلم وستم کا شکار ہوتے رہیں گے لوگ کہتے ہیں فلاں آدمی کے پاس پریس کارڈ ہے اس لئے وہ دن رات ادھر ادھر گھومتا رہتا ہے صحافت کا کارڈ گلے میں لٹکتے ہوئے ہی اچھا لگتا ہے ،مگر اس کارڈ کی قدراور ذمہ داریاں ایک ذمہ دار اور پروفیشنل صحافی ہی سمجھ سکتا ہے ، ذمہ دار اور پروفیشنل صحافی اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ صحافتی زندگی کتنی کٹھن اور مسائل کا شکارہوتی ہے ایک ورکنگ جرنلسٹ کی زندگی کس قدر مشکل ہوتی ہے کہ وہ اپنوں تک کیلئے بھی وقت نہیں نکال سکتا ،اپنوں میں فیملی سمیت قریبی رشتہ دار اور دوست احباب وغیرہ سب ہی شامل ہیں ،ایک ذمہ دار صحافی جس کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہوتا ہے وہ عوام الناس کو ہی اپنی فیملی اور اس ملک کو ہی اپنا سب کچھ مان کے حقوق اور ان کے تحفظ کی جنگ لڑتا ہے بغیر اس چیز کے کہ کسی کو اس بات کی قدر ہے یا نہیں، یا پھر ان سب اقدامات سے وہ اس جہاں میں نجانے اپنے کتنے ایسے انجانے دشمن بنا لیتا ہے ،جن سے وہ خود ہی روشناس نہیں ہوتا،حال ہی میں اسلام آباد دھرنے اور ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور دھرنوں میں درجنوں صحافیوں پرکووریج کے دوران تشدد کیا گیا ،مگر کیو ں؟ ان کا قصور کیا تھا ،متعدد میڈیا کی ڈی ایس این جی وینز کو نظر آتش کر دیا گیا صحافیوں سے بد سلوکی اور میڈیا کی املاک پر غصہ اتارنے والوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ وہ کون سے دین کی خدمت کررہے ہیں ،بتائے میڈیا کی گاڑیا ں جلا کرکونسا کار نامہ سر انجام دیا گیا ہے اور کون سا ایوارڈ ملے گا ان کو؟جب مشتعل مظاہرین کے ہاتھوں متعد صحافیوں پر تشدد کے واقعات سامنے آتے ہیں تو دل خون کے آنسو ں روتا ہے، بے لوث ملک و قوم کی خدمت کرنے والے صحافی کب تک ایسے حلات سے گزرتے رہے گے ،ان حلات کو دیکھتے ہوے تمام میڈیا نمائندگان کی تنظیموں کو چاہئے کہ وہ ایسے عناصر کا سختی سے محاسبہ کریں جو ہمیشہ میڈیا کے نمائندگان کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں ،اس سے قبل عمران خان کی جانب سے دیئے جانیوالے دھرنوں کے دوران بھی صحافیوں پر تشدد کے واقعات سامنے آئے ،اور میاں نواز شریف کے جلسوں میں بھی میڈیا نمائندگان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ،ہمیشہ صحافیوں پر نزلہ گرانے والے عنا صر کے خلاف صحافیوں کی تنظیموں کوحکمت عملی اپنانا ہوگی اس لیئے تمام میڈیا نمائندگان کی تنظیموں کو چاہئے کہ وہ ایسے عناصر کا سختی سے محاسبہ کریں ۔اور تمام عوام الناس بھی اس پر غور کریں کہ ایک ذمہ دار صحافی کس طرح اپنا فرض اداکر رہا ہے ،اورکن کن مشکلوں سے گزر کر حقوق اورعوام الناس کے تحفظ کی جنگ لڑتا ہے ۔ آزادی صحافت کو سلب کرنے والی قوتوں کے خلاف مزاحمتیں کوششیں دم توڑتے دکھائی دیتی ہیں ذمہ دار جرنلسٹ کو جو مسائل درکار ہیں ان کی شنوائی والا کوئی نہیں ہے یہی لمحہ فکریہ ہے۔