پشاور :زرعی یونیورسٹی ڈائریکٹوریٹ پرحملہ ، پانچوں دہشتگرد ہلاک ، 9 افراد شہید

27

دہشتگرد برقعہ پہن کر یونیورسٹی کے زرعی ڈائریکٹوریٹ میں داخل ہوئے ، سکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے کے بعد چاروں انجام کو پہنچے ، کارروائی میں 34 افراد زخمی پشاور (دنیا نیوز ) پشاور یونیورسٹی کے زرعی ڈائریکٹوریٹ میں گھسنے والے پانچوں دہشتگردوں کو سکیورٹی فورسز کی بھرپور کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ فائرنگ سے نو افراد شہید ہوگئے ہیں ۔ دہشتگرد آج صبح یونیورسٹی کے زرعی ڈائریکٹوریٹ میں تخریب کاری کی نیت سے داخل ہوئے ۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور سکیورٹی اداروں کی بھاری تعداد موقع پر پہنچ گئی اور یونیورسٹی کو گھیرے میں لے لیا۔ دہشتگردوں نے سکیورٹی اداروں پر فائرنگ شروع کر دی جس کے بعد سکیورٹی اداروں کی جانب سے منظم اور بھرپور انداز مں جوابی کارروائی کی گئی جس میں چاروں دہشتگردوں کو ہلاک کر کے یونیورسٹی کو کلیئر کر دیا گیا ۔

دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے دوران یونیورسٹی روڈ کو ٹریفک کی آمد و رفت کیلئے مکمل طور پر بند کر دیا گیا اور کسی شہری کو یونیورسٹی کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ فائرنگ کے دوران ہاسٹل میں موجود طلبا نے گھبرا کر ہاسٹل کی بالائی منزلوں سے چھلانگیں لگا دیں جس کی وجہ سے 34 طلبا زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کیلئے خیبر ٹیچنگ ہسپتال داخل کرا دیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے ۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز کی جانب سے واقعے کی فضائی نگرانی بھی کی گئی ۔واقعے کے ایک عینی شاہد نے دنیا نیوز کو بتایا کہ دہشتگردوں نے صبح سویرے حملہ کیا جب تمام افراد سو رہے تھے۔ دہشتگرد برقعہ پہن کر رکشے میں سوار ہوکر جائے وقوعہ پر پہنچے ، مرکزی دروازے سے بغیر کسی رکاوٹ کے اندر داخل ہونے کے بعد دہشتگردوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس سے طلبہ میں خوف و ہراس پھیل گیا

واقعے میں زخمی ہونے والوں میں ایک پولیس اہلکار اور نجی ٹی وی کا ایک رپورٹر بھی شامل ہے جو واقعے کی کوریج کے فرائض انجام دے رہا تھا ۔ سکیورٹی فورسز نے کامیاب آپریشن کے بعد کلیئرنس آپریشن شروع کیا اور یونیورسٹی کو کلیئر قرار دے دیا۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ تمام دہشتگردوں کو کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا گیا ہے اور یونیورسٹی و ہاسٹل بالکل کلیئر ہیں۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے واقعے کے حوالے سے کہا ہے کہ دہشتگرد جتنی بھی کوشش کر لیں ہمارے عزائم کو کم نہیں کرسکتیں ، اس وقت صرف حکومت نہیں بلکہ پوری قوم دہشتگردی کیخلاف متحد ہےاور ان کا مقابلہ کرنے کا عزم رکھتی ہے ۔

صوبائی وزیر صحت شہرام ترکئی نے کہا ہے کہ حادثے میں زخمی ہونے والوں کو بہترین طبی امداد فراہم کی جائے گی ، اس حوالے سے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں ،انہوں نے کہا کہ حادثہ افسوس ناک ہے اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے مگر ہمیں اپنے سکیورٹٰی اداروں پر فخر ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور نے کہا کہ ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان ) نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے رابطے افغانستان میں موجود اپنے نیٹ ورک سے ہیں اور ان کی مدد سے وہ پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں ۔ آصف غفور کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے جاں بحق ہونے والوں میں یونیورسٹی کا چوکیدار اور 7 طلبا بھی شامل ہیں ، باقی طلبہ کو بھرپور پلاننگ کی وجہ سے بحفاظت باہر نکال لیا گیا اور انہیں کوئی نقصان نہیں ہوسکا۔