سی پیک منصوبہ

16

پورا عالم کفر ہنو د و یہود اور سامراجی اس بات پر متحد و متفق ہیں کہ کسی طرح سی پیک منصوبہ کو ناکام بنا یا جائے مگر خدائے برزرگ و برتر اور آقائے نامدار محمد ﷺتاجدار ختم نبوت کے صدقے پاکستان بنتے وقت لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کی وجہ سے پاکستان کو زندہ و جاوید رکھنا چاہتے ہیں حال ہی میں چین اور پاکستان نے مشترکہ اجلاسوں میں باہمی امور کے تمام شعبہ جات میں مزید تعاون کو مضبوط بنانے پر اتحاد و اتفاق کیا گیا ہے پاکستان اور چین کے درمیان تزویراتی مذاکرات کا آٹھواں دور مکمل ہواہماری سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ جبکہ ایشیائی اور قونصل امور کے لیے معاون وزیر خارجہ کونگ یو آن نے چینی وفد کی قیادت کی دونوں دوست ممالک کی ایسی بیٹھک میں پاک چین اقتصادی راہداری باہمی تجارت کے فروغ دفاعی امور انسداد دہشت گردی ثقافتی تعلیمی اورعوامی روابط کے امور پر غور و غوض کیا گیا باہمی امور کے شعبوں میں مزید تعاون کو مضبوط کرنے پر بھی مکمل اتفاق پایا گیا اس پر بھی کوئی دو رائے نہیں ہے کہ سی پیک منصوبہ دونوں ملکوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے خطہ کے لیے اہمیت و افادیت کا مظہر ثابت ہوگا اس کے ذریعے اور اس پر مکمل عمل در آمد کی صورت میں ملک کے اندر زبردست مواصلاتی قلعہ بن سکے گا بلکہ نئے نئے صنعتی علاقے بھی معرض وجود میں آئیں گے۔جن سے ہمارے ترقی پذیر ایٹمی پاکستان سے بیروزگاری غربت افلاس مہنگائی دور کرنے میں بھی زبردست مدد ملے گی انہی وجوہات کی بنا پر دنیا بھر کے ماہرین اس منصوبے کو پاکستان کے لیے انقلابی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں پھر یہ ایسا منصوبہ ہے جو کہ پاکستان کے دیرینہ حلیف اور دوست ملک چین کی غیر معمولی دلچسپیوں اور تعاون سے تشکیل دیا گیا ہے در اصل چین کو بھی اپنی ضروریات کے تحت بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے لیے گوادر بندر گاہ کی زبردست ضرورت ہے جس کی گوادر سے چین تک محفوظ راہداری اس کی بنیادی کلید ہے چین کی حکومت نے حکومت پاکستان سے محفوظ راہداری کی ضمانت حاصل کی ہوئی ہے کیونکہ یہ بات تو اظہر من الشمس ہے چین سمیت کوئی بھی ملک50ارب ڈالر کی خطیر رقم کسی ایسے منصوبے پر خرچ نہیں کرے گا جس میں تحفظ کی ضمانت نہ ہو دوسری طرف ایسی کافرانہ سامراجی طاقتیں موجود ہیں جو کہ سی پیک کو خطے سے متعلق ایسے مفادات اور استعماری عزائم کے لیے نقصان دہ سمجھتی ہے ان کی جانب سے اس منصوبے کو ناکام بنا نے کے لیے ہر طرح سے غلیظ ترین حربے بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ہمارے محترم آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ حالیہ دنوں میں یہ اعلان فرما چکے ہیں کہ پڑوسی ازلی دشمن ملک بھارت نے سی پیک کو ہدف بنانے کے لیے 55ارب روپے سے زائد مختص کردیے ہیں مزید معلوم ہوا ہے کہ راء کو بھی زبردست فنڈنگ دی جارہی ہے تاکہ ہمارے اندرونی ملک دشمن حضرات کی سرپرستی کرکے اس منصوبہ کو ناکام بنانے کی مذموم کوششیں کی جائیں ہماری طرف سے گودار کی بندر گاہ چین کے حوالے کرنے کے بعد بلوچستان میں را اور سی آئی اے کے گٹھ جوڑ کی تخریبی کاروائیاں بھی کسی سے پوشیدہ نہیں بلوچستان میں انہی دنوں تخریب کاری کی وارداتیں اس کا بین ثبوت ہیں اس لیے آئندہ بھی کسی نہ کسی بڑی تخریبی کاروائی کا امکان موجود رہتا ہے ہماری قوم سیاسی فرقہ وارانہ اور لسانیت و برادری ازم کی وجہ سے گروہوں میں بٹتی جارہی ہے ۔جو کہ ملک کے لیے سخت نقصان دہ ہے در اصل تو پوری قوم کو باالعموم اور ملک کی عسکری و سیاسی قیادت اور سبھی سیاسی جماعتوں کو ایسی ناپاک سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے متحد و متفق ہوکر کوشاں رہنا چاہیے اور ایسے پراپیگنڈوں سے خصوصاً ہوشیار رہنا چاہیے جو کہ سی پیک منصوبوں کے خلاف کیے جائیں دونوں دوست ممالک کو بھی سی پیک کے خلاف لاحق خطرات کے ازالے کے لیے پہلے سے بھی زیادہ عقل مندی ہوشیاری فعالیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی سیکورٹی کے لیے سخت اقدام کرنے چاہئیں تمام منصوبہ جات سائنٹیفک بنیادوں پر مکمل ہوں اور ان کی تکمیل جتنی جلد ممکن ہوسکے کی جائے تاکہ دشمن کوئی اوچھا وار نہ کرسکے ہمیں بلوچستانی عوام کو اس میں مکمل شامل کرنا چاہیے تاکہ ان کے مفادات پر کسی قسم کی ضرب نہ پڑے اور وہ اس منصوبہ کو اپنے لیے مفادات سے بھرا ہوا گلدستہ سمجھیں نہ کہ کوئی مصیبت دشمنان دین کے پراپیگنڈوں سے بلوچستان کے عوام کو بروقت آگاہی کرنا بھی ہمارے لیے فرض عین ہے۔سی پیک منصوبے سے بالخصوص چھوٹے صوبوں کے تحفظات دور کیے جائیں اور اس منصوبہ کو حکومتی خفیہ پردوں میں چھپانے کی بجائے اس کی تمام جزئیات و تفصیلات اسمبلیوں اور عوام کے سامنے رکھی جائیں تاکہ کسی بھی گروہ کو اس منصوبے پر اپنے مخصوص سیاسی مفادات پورے کرنے اور منفی پراپیگنڈا کرنے کی جرأت ہی نہ ہومنصوبے کو کہاں سے شروع ہو کر گزرتے ہوئے کہاں تکمیل پذیر ہونا ہے وہ ساری تفصیلات حکومت عوام کے سامنے واضح طور پر رکھے وگرنہ عام آدمی یہ بات سمجھنے پر مجبور ہے کہ جن جن راستوں سے اس منصوبہ کو گزرنا ہے اس کے اردگرد کی زمینیں کارخانوں و پلازوں کے لیے مختص کرکے انہیں اپنے ہی حواریوں کواونے پونے داموں بیچی و خریدی جارہی ہیں تاکہ کل کو ہزاروں روپے مرلہ کی زمین لکھوکھا روپے مرلوں کے حساب سے بیچی جاسکے اور پھر ایسی کھربوں کی رقوم کو کسی مزید پانامہ لیکس میں جمع کروا کر اپنے بال بچوں کی مزید سینکڑوں سالوں کے نان نفقہ کا انتظام کیا جاسکے۔