جب فضا درود وسلام سے گونجنے لگی ، محفل درود شریف عیدگاہ ڈنگہ کی خصوصی رپورٹ

79

ڈنگہ(بیورو رپورٹ) حضور ﷺ کی ذات بابرکات ہر مسلمان کے لیے سب سے بڑھ کر جائے عقیدت و محبت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اہل ایمان کو مخاطب فرماتے ہوئے یہ حکم ارشاد فرمایا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ذات پر کثرت کے ساتھ درود و سلام بھیجا جائے۔ دنیا بھر کے مسلمان سرکار دو عالم ﷺ کے ساتھ اپنی محبت و عقیدت کا اظہار درود و سلام کی صورت میں کیا کرتے ہیں۔  وہ سماں کس قدر خوب صورت اور وجد آفریں ہوتا ہے جب ایک امتی اپنے رب کے حضور اپنے پیارے نبی ﷺ کی شان بیان کررہاہوتا ہے جو یقیناً شکرانہ بھی ہے اور حکم ربی پر عمل بھی۔ کچھ ایسے ہی روح پرور مناظر اس وقت دیکھنے میں آئے جب جامع مسجد عیدگاہ ڈنگہ کے وسیع صحن میں ہزاروں افراد نے بیک آواز مغرب سے عشاء تک درود و سلام پیش کیا۔

گزشتہ شام یعنی 8 دسمبر بروز جمعۃ المبارک کی شام اہلیان ڈنگہ اور قرب و جوار کے اہلیان محبت و عقیدت کو کچھ ایسی ساعتیں میسر ہیں جو سرمایہ جاں ہیں ، جب جامع مسجد عیدگاہ کے صحن میں خطیب شہر مولانا محمدطاہررضا نقشبندی نے محفل درود شریف کے لیے آئے ہوئے ہزاروں افراد کو مختلف طرح کے کلمات طیبات کا ورد کروایا۔ یہ منظر اس لحاظ سے بھی قابل رشک تھا کہ فرزندان اسلام کی اتنی بڑی تعداد صرف اور صرف درود شریف پڑھنے کے لیے جمع ہوئی تھی۔

تلاوت کلام پاک کی سعادت جامعہ رضویہ ضیاء القرآن ڈنگہ کے شعبہ حفظ کے مدرس جناب قاری محمد کاشف محمود صاحب نے حاصل کی۔ جس کے بعد مولانا محمد طاہررضا صاحب (مرکزی خطیب جامع مسجد عیدگاہ ڈنگہ و منتظم اعلیٰ جامعہ رضویہ ضیاء القرآن ڈنگہ) نے ذکر الٰہی بلند کیا۔ حاضرین بھی اس ذکر میں شریک ہوئے۔ کبھی لا الٰہ الا اللہ محمدرسول اللہ کی صدائیں بلند ہوئیں تو کبھی اللہ تعالیٰ کے ذاتی نام کی ضربیں دل پر لگیں۔ اس کے بعد باقاعدہ طور پر درود پاک پڑھایا گیا۔ ہزاروں افراد نے بیک زبان ہو کر درج ذیل درود و سلام پڑھے:

اللھم صل علی سیدنا محمد وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم

یانبی سلام علیک   یارسول سلام علیک   یاحبیب سلام علیک    صلوٰۃ اللہ علیک

اور

مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام   شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام

محفل کے اختتام پر مولانا محمد طاہررضاصاحب نے دعائے خیر فرمائی۔ وہیں عشاء کی نماز باجماعت ادا کی گئی۔

رپورٹ: حافظ محمد احمدرضا