حکومت کے خلاف اتحاد کا نتیجہ صفر نکلے گا، وزیراعظم

16

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ حکومت کے خلاف الائنسز بنانے کی ضرورت نہیں، جون 2018 میں حکومت کی مدت پوری ہوگی اور اس کے بعد ہی عام انتخابات ہوں گے۔ 

جھنگ میں ایل این جی پاور پلانٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے پر خوشی ہے، 14 ماہ میں منصوبے سے بجلی پیدا ہونا شروع ہوجائے گی، حکومت نے پوری شفافیت سے بجلی کے بحران پر قابو پالیا ہے اور اس وقت ملک میں لوڈشیڈنگ زیرو ہے تاہم صرف ان علاقوں میں لوڈ شیڈنگ ہوگی جہاں بجلی چوری ہوتی ہے، چوروں کو بجلی کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری نہیں، 2030 تک پاکستان کی بجلی کی ضروریات پر کام شروع ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت میں کرائے کے بجلی گھر منگوائے گئے جس کی وجہ سے ملک اربوں روپے کا مقروض ہوگیا، سی پیک کا منصوبہ بھی ہمارے دور میں ہی آیا کیوں کہ ہمیں عوام کا اعتماد حاصل تھا گزشتہ حکومت میں بھی سی پیک آسکتا تھا لیکن این آر او سے آئی ہوئی حکومت کے دور میں ترقیاتی منصوبے نہیں لگتے اور ناہی ترقی ہوسکتی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایسی باتیں نہیں کرنا چاہتا جس سے لوگوں کی دل آزاری ہو، آج کل الائسنز بنائے جارہے ہیں لیکن صفر جمع صفر ہمیشہ صفر ہی ہوتا ہے۔ اتنا کہتا ہوں کہ ہمارے خلاف اتحاد بنانے کی ضرورت نہیں کیونکہ حکومت جون میں مدت پوری کرے گی اور اس کے بعد دی گئی آئینی مدت میں عام انتخابات ہوں گے اور عوام اپنا فیصلہ سنائیں گے، امید ہے آئندہ عام انتخابات میں بھی عوام ہمیں ہی سرخرو کریں گے۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک میں مسلم لیگ (ن) ہی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جو وقت پر آئندہ عام انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے اور مخالفین انتخابات سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ حکومت نے اس سلسلے میں ایک آئینی ضرورت پوری کرنے کے لیے ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کی لیکن پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے ارکان ایوان میں نہیں آتے۔ ہم ملک میں جمہوریت کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں لیکن اگر سیاسی جماعتیں ہی جمہوریت پر شب خون ماریں تو کیا کیا کرسکتے ہیں۔