سلامتی کونسل کی ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کی شدید مذمت

12

اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے مشترکہ طور پر ٹرمپ کے اس اقدام کی مذمت کی ہے جس میں انہوں نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے دوسری جانب امریکی مندوب نے اقوام متحدہ کو جانب دار ادارہ قرار دے دیا۔

یہ ہنگامی اجلاس نیویارک میں اقوام متحدہ کے مرکزی دفتر میں منعقد ہوا جس میں ارکان ممالک کے نمائندگان نے شرکت کی، اجلاس کے شرکا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے سے فلسطین میں خونی تصادم کی راہ ہموار ہوگی۔

سوئیڈن کے نمائندے اولوف اسکوگ نے کہا کہ یہ اقدام خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کو بڑھانے کے لیے ایندھن کا کردار ادا کرے گا، ٹرمپ کا اعلان امریکا اور اسرائیل کے بہت سے دوستوں کی درخواست کے خلاف ہے، اس اقدام سے سوئیڈن ، یورپی یونین اور عالمی برادری کے نزدیک یروشلم کے اسٹیٹس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

ارکان ممالک کی تنقید کے بعد اجلاس میں امریکا تنہا رہ گیا دوسری جانب امریکی نمائندہ نکی ہیلی نے تنقید کو مسترد کردیا اور اقوام متحدہ پر الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن اقدامات کو نقصان پہنچارہا ہے، یہ ادارہ اسرائیل کے مخالفت کے سب سے بڑے اداروں میں سے ایک ہے۔

ہیلی نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ یقینی تھا، یروشلم ہی اسرائیل کا دارالحکومت ہے، امریکا تاحال پابند ہے کہ وہ  آخری امن معاہدے پر عمل کرائے اگر دونوں فریق راضی ہوں تو ہم آج بھی دو ریاستوں کے قیام کے معاملے پر متفق ہیں لیکن اقوام متحدہ جانب داری برت رہاہے اور کئی برس سے اسرائیل کے لیے جارحیت پیدا کرنے والا سب سے بڑا ادارہ بن چکا ہے جس نے اپنے عمل سے  مشرق وسطیٰ میں امن اقدامات کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔