لاہور- ایس ایل ایف کا لاہور ہائی کورٹ میں میلاد مصطفےﷺ کے حوالے سے ختم الرسل ﷺ سیمینارکا انعقاد کیا گیا

14

ایس ایل ایف وکلاء کا ایک ایسا فورم ہے۔ جس نے وکلاء کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا ہے جو کہ نبی پاکﷺ کے عشق کے فروغ کے لیے تگ و تاز جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایس ایل ایف کے فورم کے رہنماؤں میں رفاقت کاہلوں، ایم ایچ شاہین،مظہر بھٹی،راشد چوہدری، احسان علی عارف،اویس سلہری،اشفاق مہر، رانا غیور، خرم، امان اللہ، پیر ناصر قادری،نعیم کمال شیخ،میڈیم بشریٰ جوئیہ صاحبہ شامل ہیں۔سنسیئر لائرز فورم کے زیر اہتمام لاہور ہائی کورٹ کے ڈاکٹر جاوید اقبال ہال میں نبی پاکﷺ کی میلاد کے حوالے سے ختم الرُسلﷺ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار سےنجی ٹی وی چینل کے اینکر ممتاز قانون دان جسٹس (ر) نذیر غازی،صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی، رفاقت کاہلوں، پروفیسر عطا الرحمان، ایم ایچ شاہین، مبشر ہجویری نے خطاب کیاپیر مسعود چشتی، انس غازی، جاوید اقبال، احسن بھون ، بار رہنماؤں اور وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ کائنات میں رب پاک نے سب سے اونچا مقام انبیا ء اکرام ؑ اور رسولوںؑ کو عطا فرمایا ہے۔اِس لیے اگر کوئی آقا کریم ﷺ کی طرح کا ہوسکتا تو وہ انبیاء ؑ اور رسولوںؑ میں سے ہوتا۔قران مجید کے تیسرئے پارئے میں پہلی آیت ہے کہ بعضوں کو بعضوں پہ فضیلت دی ہے۔ آقا کریمﷺ کی شان کو سب پر برتری حاصل ہے۔حضرت ابو ہرہؓ سے روایت ہے کہ نبی پاکﷺ نے فرمایا کہ نسلِ آدم کا سردار میں ہوں۔صحیح مسلم میں مروی ہے کہ حضرت ابوہرہؓ نے فرمایا کہ جب میں معراج کی رات بیت المقدس پہنچا تو نماز کا وقت ہوگیا تو میں نے تمام انبیاء کی امامت فرمائی۔ترمذی کی حدیث ہے کہ نبی پاکﷺ نے فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو میں امام ہوں گا۔حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی پاکﷺ نے فرمایا کہ کُل مخلوق میں سب سے افضل میں ہوں۔حدیث پاک میں ہے کہ نبی پاک نے فرمایا کہ روز قیامت سب سے پہلے مجھے قبرِ انور سے لایا جائے گا۔ سب کی زبانیں بند ہوں گی لیکن میں خطیب ہوں گا۔قیامت کے دن تمام انسان موجود ہوں گے اور اللہ پاک جنت کی چابیاں نبی پاکﷺ کو دئے گا۔حدیث پاک میں ہے کہ قیامت کے دن ایک ہزار فرشتے نبی پاک ﷺ کا طواف کریں گے۔ ایک حدیث کے مطابق طواف کرنے والے فرشتوں کی تعداد ستر ہزار ہو گی۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی پاکﷺ نے فرمایا کہ جبرئل امین نے نبی پاک کی خدمتِ اقدس میں فرمایا کہ میں نے زمین کا کونا کونا چھان مارا ۔لیکن آپ جیسی عزت کاحامل کوئی اور نہیں اور آپ کے گھرانے بنو ہاشم جیسا کوئی گھرانہ نہیں۔حدیث پاک میں مزکور ہے کہ نبی پاک نے فرمایا کہ اللہ پاک نے تمام انبیاء اکرام ؑ اور تمام آسمانی مخلوق پر مجھے فضیلت دہے۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ کی حدیث ہے کہ کُل اولادِ آدم میں پانچ انبیاء اکرام کا مقام سب سے اونچا ہے جن میں حضرت نوحؑ ، حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت موسیؑ ،حضرت عیسی ؑ اور حضرت محمد ﷺ ہیں اورحضرت محمد ﷺ سب سے عظیم ہیں۔ رسالت کُل 313 رسولوںؑ کو دی گئی ۔ آپ ﷺ کو نبوت اُس وقت عطا فرمائی گئی جب تک ابھی کائنات میں بشر کی ابتداء نہیں ہوئی تھی۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ صحابہ اکرامؓ نے آپﷺ سے پوچھا کہ آپﷺ نبوت پر کب فائز ہوئے تھے۔تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اُس وقت بھی نبی تھا جب آدم کا ابھی خمیر نہیں بنا تھا۔اِس حدیث پاک کو ترمذیؒ ، امام احمد بن حنبلؒ ،امام حاکم، طبرانیؒ و دیگر نے بیان کیا ہے۔ اِس حدیث کی تائید حافظ ابن کثیر نے بھی کی ہے۔اِس حوالے سے ناقدین جو کہ میلاد نبیﷺ کے ازلی دشمن ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے علم میں تھا کہ نبی پاک ﷺ نبی ہیں۔ اِس کا جواب تو یہ ہے کہ اللہ کے علم میں تو ہر نبی ؑ تھا۔حضرت عمرؓ سے مروی ہے اور اِس کا امام سیوطیؒ نے بھی ذکر کیا ہے۔کہ آقاﷺ جیسا کوئی نہیں ۔ہر نبی کو نبوت ملی پیدا ہونے کے بعد لیکن رسول ﷺ اُس وقت بھی نبی تھے جب انسان تخلیق نہ ہوا تھا۔جب انبیا اکرام ؑ کو بھیجا گیا تو ایک قوم یا ایک شہر کی مخلوق کے لیے بھیجا گیا لیکن نبی پاکﷺ کو ساری کائنات کے لیے نبی ﷺبنایا گیا۔ اِس موقع پر نبی پاک ﷺ کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا گیا۔ پروگرام کے آخر میں سلام پیش کیا گیا۔نبی پاکﷺ کی میلاد کی خوشی میں لنگر کا وسیع انتظام کیا گیا۔