اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

12

احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی جس میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی نئی میڈیکل رپورٹ جمع کرادی گئی جب کہ نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ ملزم کی ہر میڈیکل رپورٹ پہلے سی مختلف ہوتی ہے۔

فلک نیوز کے مطابق احتساب عدالت میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت جاری ہے جس میں انہیں اشتہاری قرار دیے جانے کا امکان ہے۔

نیب نے اسحاق ڈار کو اشتہاری ملزم قرار دینے کی استدعا کی۔ وکیل صفائی نے نیب کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت میں اسحاق ڈار کی نئی میڈیکل رپورٹ جمع کرائی۔
جج محمد بشیر نے کہا کہ آپ کہتے ہیں یہ رپورٹس ٹھیک ہیں تو ہم مان لیتے ہیں۔

وکیل قوسین مفتی نے کہا کہ اسحاق ڈار کی ایم آر آئی کا انتظار تھا، ان کے سینے میں تکلیف ہے اور ابھی مزید ٹیسٹ ہونے ہیں، تاہم دل کے آپریشن کی ضرورت نہیں، نیب نے ان کی میڈیکل رپورٹس کی تصدیق بھی نہیں کرائی۔ اسپیشل پراسیکوٹر نیب عمران شفیق نے کہا کہ اسحاق ڈار کو دل کی کوئی تکلیف نہیں اور ان ہر میڈیکل رپورٹ دوسری رپورٹ سے مختلف ہے۔

وکیل قوسین مفتی نے کہا کہ اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل لاہور کے پتے پر کی گئی جب کہ وہ تو وہاں رہتے ہی نہیں۔ پراسیکوٹر نیب عمران شفیق نے کہا کہ ملزم کو عدالتی کارروائی کے بارے میں معلوم ہے، لہذا وارنٹ لندن بھجوانے کی ضرورت نہیں۔