فلسطین کی پکار

16

تحریر ۔۔۔ راشد علی راشد اعوان
محمد بن قاسم کے چاہنے اور امت محمدﷺ کے پیروکار پیارے مسلمان بھائیو
السلام علیکم!
میں امید کرتا ہوں کہ آپ کی زندگی خوش و خرم گزر رہی ہوگی اور آپ کے آنگن میں ہرے بھرے پھول کھلے اور آپ کی فضائیں پرندوں کی چہک سے زندگی کی خوشیوں اور رونقوں کو دوبالا کرنے کی گواہی دے رہی ہونگی،میں یہ بھی امید رکھتا ہوں کہ آپ اور آپ کے بیوی بچے بھی ٹھیک ہوں گے اوزندگی کی رعنائیوں سے خوب لطف اندوز ہو رہے ہونگے،میں ان سرد راتوں میں اپنا گھر بار سب کچھ لٹانے کے بعد آزادی کی چند ساعتوں کو ترستے ہوئے اپنے دکھیاری دل سے آپ کو اپنے دکھ اور غم میں شریک کر کے اپنے دیس کے حالات سے آگاہ کر رہا ہوں،اللہ کریم آپ کو مزید خوشیاں اورزندگی کی آاسانیاں عطا فرمائے اور اپنی عافیت میں رکھے،،،آمین۔
پیارے بھائیو!بس آج کی اس شدید سرد رات میں یہاں مسجد اقصی کے دروازے سامنے بیٹھا ہوا ہوں،دل مغموم ہے،دکھی ہے آقا دو جہاںﷺ کی سجدہ گاہ اورآپ کے قبلہ اول کو ناپاک اسرائیلی قدموں کے نیچے آنے سے بچانے کے لئے اپنی سی کوشش میں ہوں،میرے ساتھ میرے اسی ملک کے اور بھی باسی ہیں جن کے پاس پتھروں،ڈنڈوں اور لاٹھیوں کاسہارا ہے اور ہم مردہ ضمیروں کے ناپاک عزائم رکھنے والوں کے جدید اسلحہ،بارود اور گولی کا دفاع کرنے کی کوششوں میں ہیں۔
عزیز بھائیو!ہمارے گھر بارود برسا کر گرا دییے گئے ہم نہیں روئے،ہمارے مرشد شیخ یاسین کو شہید کر دیا گیا ہم نینئی امارت کا عزم کر لیا،ہمارے قائد نے بستر کے بجائے اپاچی ہیلی کاپٹر کے ذریعہ موت کا انتخا ب کیاہم نے آپ سے اپیل نہیں کی،ہمارے اپنے مصری بھائیوں نے ہمارے قاتلوں کے کہنے پر ہمارے معصوم بچوں کی دواؤں اور اناجکے دانے ہم سے چھین لئے ہمارے راستے بند کر دئیے ہم سے جہا تک ہو سکا برداشت کیا،ہماری زمین پر قبضہ ہو گیا ہم لڑتے رہے کسی سے کچھ نہیں مانگا،اس کے باوجود ہم نے اپنے اسکول بند نہیں ہونے دئیے ایسا نہ ہوتا تو آخر مزاحمت کی تحریک کو خون کہاں سے مل پاتا؟
ہم نے اپنے نوجوانوں کو لبرازم اور عرب نیشنل ازم سے نکال کر مزاحمت کار بنا دیا ہم نے آپ سے نہ کتابیں مانگیں نہ اپنے بچوں کے لئے پنسلیں اور کاپیاں،ہماری لڑائی تھی ہم لڑ گئے،مزاحمت کے ہر میدان کو خون سے گلزار کیا اور امت مصطفیﷺ کے وہ بوجھ بھی اٹھائے جو واجب بھی نہیں تھے ،مسجد اقصی کی پہرہ داری کرتے ہوئے اس سخت سرد رات کی قسم ہم اپنا آخری جوان اور خون کا آخری قطرہ بھی بہا دیں گے پھر بھی آپ سے کچھ نہیں مانگیں گے،ہاں!مگر کبھی کبھی تنہائی کے کسی لمحہ میں ہمارے بچے اور ہم افق کی طرف دیکھتے ہیں کہ شاید ایٹمی پاکستان سے کسی لشکر کی گرد کے بادل نظر آ جائیں،کبھی کبھار موقع میسر آ جائے تو کہیں ٹی وی آن ہوتا ہوا دکھائی دے تو دیر تک نیوز چینلز پر کسی مسلم حکمران کا بیان تلاش کرتے رہتے ہیں کہ شاید کسی نے اسرائیل کی ناکہ بندی کا فیصلہ کر لیا ہو،سوچتے ہیں وہاں شاید اپنے اکابر کے رستوں پر چلنے والوں کاکوئی قافلہ ہم تک بھی پہنچے گااور کچھ نہیں تو بیس کروڑ کے ملک میں کوئی بیس لاکھ کا طاقتور مارچ ہی ہو جائے گا،شاید کوئی آقا دوجہاں ﷺ کے براق باندھنے کی جگہ کی توہین پر کوئی دھرنا دے کر بیٹھ جائے،؟؟؟کوئی نماز میں رفع الدین سے آگے بڑھ کر دشمن پر ہاتھ اٹھانے کا فیصلہ کر لے کوئی سعودی،کوئی ایرانی،کوئی مصری حاکم کوئی تو ایمانی غیرت کا ثبوت دے۔؟؟؟
میریپیارے بھائیو!میری کسی بات پر ناراض نہ ہونا ہم نے تو محمد مصطفیﷺ کے ہاتھ پر موت تک جہاد کی بیعت کر رکھی ہے ہم تو خیبر یا یہود،جیش محمد سوف یعود کے نعرے دیوانہ وار لگاتے رہیں گے۔
آج ہم،ہمارے بعد ہمارے بچے اور پھر اس کے بعدان کے بچے اور پھر ان کے بچے بھی کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے کیونکہ آزادی کی مزنل کا تہیہ کر کے یہ عزم ہماری گھٹی میں شامل ہو چکا ہے،مگر آپ سوچ لیں
حوض کوثر پر آقا دو جہاں ﷺ نے پوچھ لیا تو آپ کیا جواب دیں گے؟کیا آپ سے کوئی جواب بن پائے گا؟؟میں صرف اتنا ہی عرض کر رہا ہوں کہ ایک کروڑسے بھی کم آبادی رکھنے والا اسرائیل آج درجنوں عرب ملکوں پہ بھاری بنا ہوا ہے، عرب حکمران اپنے اقتدار بچانے کی خاطر الٹا امریکہ کے دست نگر بنے ہوئے ہیں۔
میرے پاکستانی بھائیو! 1994 کو اوسلو میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہیدکے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات کے دوران فلسطین کے مرحوم رہنمایاسر عرفات نے بڑے افسوس کے ساتھ شکوہ کیا تھا کہ ایک آزاد اسلامی ریاست کے ناطے پاکستانی قوم کو فلسطینی کاز کی بھر پور حمایت کرنی چاہیے کیونکہ عرب حکمران ہماری مدد کے لئے کچھ نہیں کر رہے،اور آج ہم دیکھ رہے تھے کہ جس ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کا نعرہ مسلمانوں کی مخالفت اور القدس(یروشلم) کو اسرائیل کا دارالخلافہ اور امریکہ کا سفارت خانہ بنانے پر مبنی تھا، اس کے بارے میں عرب ملکوں کے حکمرانوں نے دوستی کے کیا شرمناک پیمانے مقرر نہیں کیے؟؟؟کیا منتخب ہوتے ہی اُسی ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلم دشمن پالیسیوں کے حق میں حجازی سرزمیں سے آوازیں نہیں اٹھی تھیں؟؟ کیا اُسی ٹرمپ کو وہاں سے تہنیتی پیغامات موصول نہیں ہوئے تھے؟؟سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض عرب اسلامی امریکن کانفرنس سے قبل خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان اور امریکی صدر ٹرمپ نے ہاتھوں میں تلوار تھام کر کیا رقص کیا؟؟نجانے انہیں اس وقت ٹرمپ کی وہ تمام تقاریر اور منحوس عزائم یادکیوں نہیں آئے جس کا اظہار وہ اپنے صدارتی مہم کے دوران اپنے تقاریر میں کرتا رہا ہے اور یہ جان لینا کیا ضروری نہیں کہ سعودی عرب میں ہونے والی عرب نیٹو کانفرنس کا ہدف بھی داعش نہیں بلکہ شام اور ایران کے ساتھ حساب برابر کرنا اصل حدف تھا اور پھرآج وہی ہوا جس کا اسرائیل کو صدیوں سے انتظار تھا، القدس(یروشلم) کا مبارک علاقہ بدھ کے روز چھ دسمبر کو اس ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط سے اسرائیل کا دارالحلافہ ڈکلیئر ہوا، جن کے عشق میں مسلمان حکمران تلواروں کے سائے میں چند مہینے پہلے رقص کررہے تھے۔
میرے بھائیو! میں اور کیا عرض کروں یہ تم ہی بتاؤ
کہ غزہ تمہارا جل رہا ہے
اٹھو کے ظلمتوں کے۔۔۔۔۔۔اندھیروں کو چیر ڈالو
کہ غزہ تمہارا جل رہا ہے
اٹھو کے لہو لہو ہیں۔۔۔۔جو ماں کا دامن اسے سنبھالو
کہ غزہ تمہارا جل رہا ہے
اٹھو کے تار تار ہیں۔۔۔۔۔تمہاری بہنوں کی عبائیں، انہیں بچالو
کہ غزہ تمہارا جل رہا ہے
اٹھو کے ٹکڑوں میں۔۔۔۔۔۔۔بٹ گئے ہیں ننھے پیکرانہیں بچا لو
کہ غزہ تمہارا جل رہا ہے۔
فقط آپ کا ایک بے بس اسلامی فلسطینی بھائی