دنیا کے حالات

12

تحریر :باؤاصغر علی
شروع کرتا ہوں اللہ پاک کے با برکت نام سے جو نہایت رحم کرنے والا ہے ،دیکھتی آنکھیں ،دنیا کے حالات ،انسانی تاریخ عجیب و غریب قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے اور انسانوں سے ایسے ایسے واقعات منسوب ہیں جن کو انسانی ذہن تسلیم کرنے اور عقل قبول کرنے کو تیار ہی نہیں ہے ،لیکن انسانی عقل کے تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے ان حقائق کی صداقت اور حقانیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ،اس سے بڑی عجیب بات اور کیا ہو سکتی ہے ،اس گوشت پوست کے انسان نے خدا بننے کی ناکام کوشش کی ہے ،جس خدا نے انسان کو پیدا کیا،اس کم ظرف نے اسی کے مقابلے میں خدائی کا دعویٰ کر دیا نمرود اور فرعون کی مثالیںآپ کے سامنے ہیں ان کی اس حماقت سے خدا کو تو کوئی فرق نہ پڑا ،مگر وہ دعویٰ خدائی کرنے والوں کا دونوں جہانوں میں رسوائی مقدر ٹھہری ،اسی طرح متعددافراد نے نبوت کا بھی کیا اور ذلالت ان کے حصے میں آئی ہے،اس کے علاوہ بھی انسان کی ہر دور میں نمایا ہونے کی کوشش رہی ہے ،کسی نے اس دنیا میں اپنے دستار کا وقار بڑھانے کیلئے علم وہنرکا سہارا لیا ،اور کسی دولت کے ڈھیر لگا کر دوسروں کو اسیر کرنے کی سعی کی اور شہرت ونا مور ی کی دیوی کو حاصل کرنے کیلئے کسی نے اقتدار کا کوڑاہاتھ میں پکڑ کر مقصد کو پانا چاہا ،آگے بڑھنا اور اعلیٰ مقام حاصل کرنا کوئی معیوب اور بری بات نہیں ہے لیکن جائز طریقہ اپنانا چاہئے ،نہ کہ اپنا شملہ اونچا کرنے کیلئے کسی دوسرے انسان کی گردن ہی کاٹ دی جائے بعض دولت کے پجاری دولت کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں ،اور دولت کے بل بوتے پر ہر چیز کو اپنے قدموں میں دیکھنا چاہتے ہیں ،لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کار خانہ قدرت میں ہر چیز برائے فروخت نہیں ہے ،دست قدرت نے کچھ نایاب ہیرے بھی تراشے ہیں دولت کے پجاریوں کا خیال ہے کہ کثرت دولت سے زمانے میں نیک نامی ملتی ہے ،لیکن علامہ اقبال فرماتیں ہیں کہ ،خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر،کم دولت بھی بلندی اقبال کا بہانہ اور غربت وجہ شہرت بن جاتی ہے،اس جہان میں کتنے دولت مند انسان آئے خوب شہرت پائی اور پھر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ،اور آنے والی نسل انسانی ان سے نا واقف رہی ان کی ساری شہرت کتابوں کے اوراق میں سمٹ کر رہ گئی اور کچھ ایسے ستارے بھی مطلع دنیا پر طلوع ہوئے جو کہ چھپ جانے کے بعد بھی جگمگا رہے ہیں اور شائد رہتی دنیا تک اس جہان میں روشنی بکھیرتے رہیں جس سے بھولے بھٹکے راہ گم کرتا مسافر اپنی منزل کا تعین کرتے رہے گے ، کم عقل اور فہم لوگوں کی خدمت میں عرض ہے کہ دولت ہی سب کچھ نہیں ہوتی اوربھی بہت کچھ ہے جس کو حاصل کرنے کی جدوجہد کرنی چاہئے عزت قارون کا خزانہ دے کر بھی نہیں خریدی جا سکتی اور بازار مصر میں حسن یوسف تو فروخت ہو سکتا ہے مگر عزت مصر کے بازار میں سے عزیز مصر بھی نہیں خرید سکتا تکبر و غرور اور گھمنڈ میں عزت نہیں رسوائی بلکہ روسیاہی ہے ،ہماری اس دنیا میں اکثریت ایسے سربراہان مملکت کی ہے جو اپنی شاہانہ ٹھاٹھ باٹ کی شہرت رکھتے ہیں اورشان و شوکت کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کے مرکز بن جاتے ہیں مگر ان میں سے کچھ ا یسے بھی سر بر ا ہا ن مملکت ہیں جن کی وجہ سے شہرت فقیر ا نہ مزاج اور مال و دولت سے بے رغبتی ہے ایک اخبا ر میں شا ئع ہو نے والی رپوٹ کے مطا بق 2008ء میں سلوویینا کے وزیر اعظم بننے والے ،بوروت پاہور کو فروری 2012ء میں معاشی بحران کے باعث یہ عہد ہ چھو ڑنا پڑا لیکن چند ما ہ بعد ہی انہو ں نے سلوو یینا کے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا اور اپنے حریف کو نمایا ں فرق سے شکست دی ،ان کے اثاثوں کی ما لیت 44280ء ڈالر ہے پیشے کے اعتبا ر سے یہا یک سرجن ہیں اور انہوں نے 2012ء سے لے کر 2013ء تک ا یک قلیل مدت کیلئے پیراگوئے کے صدر کی ذمہ داریا ں نبھائیں ان کے اثاثے 4000ڈالر کے ہیں،اور 1987ء سے زمبابوے کے صدر کے عہدے پر فائز رہنے والے رابرٹ موگابے کا شمار بھی دنیا کے غریب ترین سربراہان مملکت ہوتا ہے ،کیو نکہ ان کے اثاثوں کی مالیت 2016ء میں صرف 18,000ڈالر تھی ،ایک طرف ایسے سربراہان مملکت ہے تودوسری جانب وہ حکمران ہیں جو ساری دنیا کی دولت کو اپنی تجوری میں سمو لینے کی خواہش رکھتے ہیں ،اور حصول دولت کیلئے ہر جائز نا جائز راستہ اختیار کرتے ہیں ،بیرون ممالک کے بینک دولت سے بھرے ہوئے ہیں مگر اور زیادہ کی ہوس ختم نہیں ہورہی ہے ان کو اس بات کا بھی علم ہے کہ کفن کو جیب نہیں ہوتی ہے ،اور قبر میں کوئی تجوری نہیں ہوتی یہ سب کچھ یہاں ہی چھوڑ کر خالی ہاتھ اگلے جہان کوچ کر جانا ہے ،آج ہمارے حکمران اپنے کالے دھن کو سفید کرنے کیلئے کیا کیا جتن کر رہے ہیں اور ماضی میں کرتے رہے ہیں ،کہتے ہیں دولت اگلے پچھلے پہر کا سایہ ہوتی ہے یہ کسی بھی وقت ساتھ چھوڑ سکتی ہے ،اس کے باوجود ہم آخرت کو بھول کر 4دن زندگی کیلئے دولت شہرت اور چھوٹی شان و شوکت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ۔
اب جس کی جی چاہے وہ پائے روشنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم نے تو اپنا دل جلا کے رکھ دیا