تجاوزات اور بے ہنگم ٹریفک

22

لاہور کے حقیقی مسائل اور حکومتی روایتی بے حسی اوراُسکا حل
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
نبی پاک ﷺ کا ارشاد پاک ہے جب شہر زیادہ گنجان ہونے لگیں تو پھر نئے شہر آباد کرو۔ پاکستان کے حکمران چونکہ پلاننگ سے عاری ہیں اِس لیے برئے شہروں کی عوام مشکلات سے دو چار ہے۔ لاہور میں چونکہ آباد ی کا دباؤ بہت زیادہ ہے۔ ہر سال آبادی کی شرح میں اضافہ 8% کی شرح سے ہورہا ہے جس سے اگر دیکھا جائے تو لاہور شہر کی مات مار کر رکھ دی ہے۔ کراچی میں امن و امان کی صورتحال کا خراب ہونا۔چھوٹے شہروں میں ملازمتوں و دیگر روزگار کی ذرائع کی کمی کے ساتھ ساتھ تعلیم اور علاج کی سہولتوں کا فقدان بھی بہت بڑی وجہ ہے کہ لاہور شہر پر آبادی کا دباؤ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ دوسرا اہم عامل یہ ہے کہ پنجاب دس کروڑ آبادی کا صوبہ ہے۔ اور اٹک سے لے کر رحیم یار خان راجن پور کے دور دراز کے علاقوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اِس صوبے کی قسمت کے فیصلوں کا مرکز بھی لاہور ہے۔ پنجاب اسمبلی، سیکرٹریٹ ائیر پورٹ ودیگر دفاتر و لاہور ہائی کورٹ ہونے کی بناء پر بھی دس کروڑ آباد ی کو لاہور کی جانب رجوع کرنا پڑتا ہے۔اب صورتحال یہ ہے کہ تقسیم ہندکے وقت سے لاہور میں رہائش رکھنے والوں کی تعداد کے مقابلے میں دوسرئے شہروں سے آبادی کا بہاؤ لاہور کی جانب جاری ہے۔ اِس وجہ سے لاہور میں ایک تو کھانے پینے کی اشیاء اور رہائشی سہولیات دوسرئے شہروں کی نسبت کافی مہنگی ہیں۔میڈیا ہاوسز کی بہتات بھی لاہور کی جانب رُخ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیے ہوئے ہے۔مشرف دور میں پرائیوٹ اور پبلک سیکٹر میں یونیورسٹیوں اور میڈکل کالجوں میں بہت اضافہ ہوا اور اب تقریبا ہر ڈوئیزنل ہیڈکوراٹر میں میں تعلیم کی سہولیات پہنچ چکی ہیں۔لیکن پرائیوٹ یونیورسٹیوں کے قیام کی وجہ سے ڈگریوں کی لوٹ سیل لگی ہے اور یوں کاغذ کی ڈگریوں کی بہتات ہے اور علم و تربیت کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ حکومت اشتہاروں میں تو خوب پھل پھول رہی ہے لیکن عوام کا مہنگائی اور بجلی گیس کے بحران نے کچومر نکال رکھ چھوڑا ہے۔ لاہور میں میٹرو ٹرین کی وجہ سے لوگوں کو جو سہولیات میسر آئی ہیں وہ یقینی طور قابلِ تعریف امر ہے ۔ اِسی طرح اورنج ٹرین کا منصوبہ بھی عوامی سہولت کا بہت بڑا سنگِ میل ہے۔لیکن لاہور کے مسائل شاید گھمبیر سے گھمبیر ہوتے ہوئے جارہے ہیں۔لاہور میں تجاوزات کی بھرمار ہے اِس کی بنیادی وجہ قانون کی بالادستی کا نہ ہونا اور مقامی انتظامیہ کا رشوت خور عملہ ہے ۔ مغلپورہ چوک میں ٹریفک وارڈن کو ڈھونڈنے کے لیے کسی جادوئی عینک کی ضروت ہے۔ اِسی چوک پر موٹر سائیکل رکشا والے اِس طرح دندناتے پھرتے ہیں جیسے کہ جنگل کا قانون ہو۔مغلپورہ چوک سے رام گڑھ سٹاپ تک فٹ پاتھ سمیت کوئی راسے پیدل چلنے والوں کے لیے میسر نہیں ہے۔ دکانیں ہیں کہ سڑک کے اوپر تک پھیلادی جاتی ہیں۔شالیمار لنک روڈ میں تجاوزات کی بھرمار نے پیدل چلنا مشکل کر دیا ہے۔ اِس روڈ پر واحد ہسپتال شالیمار ہے جس سے ملحقہ شالیمار میڈیکل کالج بھی ہے۔ ایمرجنسی کے لیے اِس روڈ پر سے گزرنا مشکل بنادیا گیا ہے۔ سڑکوں پر مختلف قسم کی چیزوں کے اسٹال، فٹ پاتھ تو نظر ہی نہیں آتے۔ حالانکہ شالیمار باغ قریب ہونے کی وجہ سے اِس سڑک کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے اور اِس سٹرک کو بھی وی وی آئی پی کا درجہ کاغذوں میں حاصل ہے۔ ٹی ایم اے کے عملے کی ملی بھگت سے بے شمار عارضی دکانیں سجی ہوئی ہیں حتی کہ سڑک پر ہونے والی ناجائز تجاوزات پہ بننے والی دکانوں نے بجلی کے میٹر لگا رکھے ہیں۔مغلپورہ نہر کے پل سے جیسے ہی شالیمار لنک روڈ پر آئیں تو انتہائی بے ہنگم قسم کا ہجوم چنگ چی رکشوں کی بھرمار،ٹریفک جائے بھاڑ میں۔ چنگ چی رکشے والے حادثات کا موجب بن رہے ہیں۔ساتھ ہی ریڑھیاں لگی ہیں اور ٹائر کو پنکچر لگانے والوں نے مغلپورہ چوک سے گزرنا اذیت ناک بنا دیا ہے۔محسوس ایسا ہوتا ہے کہ ٹریفک پولیس کے وارڈن یہاں صرف استراحت فرمانے کے لیے آتے ہیں۔ مجال ہے کہ ٹریفک کو کنٹرول کریں۔ ساتھ ہی مغلپورہ تھانہ ہے۔ تھانے سے لے کر شالامار آنے تک اگر فٹ پاتھ نظر آجائے تواُس کی تصویر کشی کر لینی چاہیے۔ رام گڑھ سٹاپ،چار نمبر گلی سٹاپ پہ تو تل رکھنے کی جگی نہیں دکانداروں کی جانب سے فٹ پاتھ سے آگے تلک سڑک پر قبضہ۔ ساتھ ہی قبرستان کیساتھ سڑک پر پھول بیچنے والوں کا تاحیات مکمل قبضہ حتی کے سڑک پر ہی ڈیپ فریزرز رکھے ہیں۔جن میں اُنھوں نے قبروں پہ ڈالنے والے ہار رکھے ہیں اور چوری کی بجلی سے مردوں کو ثواب پہنچارہے ہیں اور جو زندہ ہیں اُن کو گزرنے تک کا راستہ نہیں دے رہے۔ تو جناب قبرستان اور درس سٹاپ کی حالت بھی بہت پتلی ہے۔درس سٹاپ سے پیدل گزرنا ناممکن ہے۔ مچھلی والے، کباب اور پھل بیچنے والوں نے درس سٹاپ سڑک کے اوپر ایسے قبضہ کیا ہوا ہے جیسے یہ سڑک اُن کا وراثتی حصہ ہے۔ خواتین اور بچوں کا تو یہاں ں سے گزرنا انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے۔درس سٹاپ سے شالیمار ہسپتال تک فٹ پاتھ بمعہ سڑک تجاوزات کی نظر ہے اور یوں ہسپتال پہنچے تک انتہائی جتن کرنا پڑتے ہیں۔ ڈی سی او لاہور کو ای میل کی وساطت سے متعدد مرتبہ پیغامات دیے ہیں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی فیس بک پر کمپلینٹ کی ہے لیکن الیکٹرنک میڈیا پہ شہری مشکلات کا ازالے کرنے کے دعوے دار بھنگ پی کر سو رہے ہیں۔شالامارہسپتا ل سے لے کر شالیمار باغ کا بھی یہی حال ہے۔اگر ہرکام خادم اعلیٰ نے ہی کرنا ہے تو بند کریں پھر سارئے محکمے۔ اتنی لمبی چوڑی ملازموں کی فوج کیوں رکھی ہے۔ اِس علاقے میں آبادی کے بے پناہ دباؤ کی وجہ سے شہری حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔آبادی کا دباؤ تو واقعی بہت زیادہ ہے لیکن اِصل وجہ قوانین پر عمل درآمد کروانے والوں کی سُستی ہے۔ اگر ٹریفک کے قوانین کی عملداری یقینی بنائی جائے اور ناجائز تجاوزات کا خاتمہ ہوجائے اور وی وی آئی پی موومنٹ سے قوم کی جان چھوٹ جائے تو یقینی طور پر اِس شہر میں ڈھنگ سے جیا جا سکتا ہے۔مال روڈ پر آئے روز مظاہرئے ہال روڈ میکلوڈ روڈ، بیڈن روڈ،مال روڈ کے تاجروں کے زہر قاتل بن چکے ہیں اُن کا کاروبار تباہی کا شکار ہے اور ٹریفک جام ہونے سے شہری ذلیل و خوار ہوتے رہے ہیں۔ حالانکہ لاہور ہائی کورٹ یہ حکم صادر کر چکی ہے کہ مال روڈ پر جلوس نہ نکالے جائیں۔لیکن قانون کی پاسداری کرنا تو ہمارئے معاشرئے میں بزدلی تصور کیا جاتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے ساتھ ٹرنر روڈ، مزنگ روڈ، نابھ روڈ ، فین روڈ، فریدکوٹ روڈ میں تجاوزات کی بھر مار ہے۔ ریڑی والے پھل فروش کو شاپنگ مال بنائے ہوئے ہیں۔ ایک طرف لاہور ہائی کورٹ آنے سائیلین کو لاہور ہائی کورٹ میں داخل ہونے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑتا ہے دوسری طرف جہاں جی جاتا ہے ہر کوئی گاری کھڑی کر دیتا ہے اوپر سے ریڑی والوں کا سڑکوں پر قبضہ۔ لاہور ہائیکورٹ میں آنے والے وکلاء اور سائلین اِس رش کی وجہ سے انہتائی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ لارڈ مےئر لاہور بے چارئے بغیر کسی اختیارات کے کر بھی کیا سکتے ہیں۔ یوں لاہور ہائی کورٹ جی پی او چوک انارکلی استنبول چوک ایوان عدل، سیکرٹریٹ ، سیشن کورٹ پی ایم جی چوک ضلع کچہری، داتا دربار کے مقامات پر ٹریفک جام رہتی ہے وجہ ٹریفک قوانین کی بالا دستی نہ ہونا اور نام نہاد وی آئی پی کلچر کا تماشہ ہے۔ٹریفک وارڈن خود کو کسی سلطنت کا شہزادہ تصور کیے ہوئے رہتے ہیں اور ہر وقت ٹولیوں کی صورت میں گپیں ہانک رہے ہوتے ہیں یا پھر کانوں میں موبائل لگایا ہوتا ہے۔پوری معاشرئے کا ہوس زدہ اور بے حس ہوجانا اِس حد تک ہے کہ ایمبولینس کو راستہ بھی دینے کو کوئی تیار نہیں ہے۔ لاہور کی پلاننگ کے حوالے سے حکومت مہنگے ہوٹلوں میں سیمینار ر کروالتی ہے لیکن پلانگ سے بھی زیادہ ضروری یہ امر ہے کہ پہلے کی گئی پلاننگ کی بھی پاسداری کی جائے۔ لاہور میں آنے والے پاکستان بھر سے لوگ، لاہور میں ٹریفک کے مسائل کی وجہ سے بہت شاکی نظر آتی ہے۔لاہور میں حکومتی اداروں کی جانب سے بے حسی نے عوام کا جینا اجیران کر رکھ اہے۔ حکومت کی جانب سے ریڑھی پر پھل فروش کرنے والوں کے لیے جگہ مختص کی جائے تاکہ وہ بھی اپنی روزی کما سکیں اور عوام کے لیے ٹریف کے مسائل بھی پیدا نہ ہوں۔ ٹریف پولیس کو فعال کیا جائے۔ ہر آدھے گھنٹے کے بعد تجاوزات کو ختم کرنے والا اسکواڈ متزکرہ بالا راستوں پر ریڈ کرئے۔ اِس مقصد کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد لی جائے۔ کاروبای شخصیات کو آن بورڈ لیا جائے تاکہ تاجروں کو اعتماد میں لے کر منصوبہ بندی کی جائے۔ صرف خادم اعلیٰ کیجانب سے بڑھکیں مارنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔