ترکی اور روس نے بیت المقدس سے متعلق امریکی اعلان خطرناک قراردے دیا

21

ترکی اور روس کے صدور نے مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق ٹرمپ کے اعلان کو خطے کے امن کےلیے خوفناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدام سے مشرق وسطیٰ ایک نئی آگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی صدر ولادی میرپیوٹن ایک روزہ دورے پر انقرہ پہنچے جہاں انہوں نے ترک ہم منصب رجب طیب اردگان سے ملاقات کی اور بعدازاں مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں صدور نے امریکی اعلان کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ترک اور روسی صدور نے کہا کہ مشرق وسطیٰ پہلے ہی تنازعات میں گھرِا ہوا ہے اور اب امریکی صدر کے اعلان نے خطے میں کشیدگی کو بڑھاوا دیا ہے، اس اقدام سے امن عمل کو شدید دھچکا پہنچے گا اور پورا خطہ آگ کی لپیٹ میں آجائے گا۔

طیب اردگان نے بتایا کہ ملاقات کے دوران روسی صدر نے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی تشدد اور مظالم کی پرزور مذمت کرتے ہوئے مسئلے کا پرامن حل مذاکرات کے ذریعے نکالنے پرزور دیا،روسی صدرکا کہنا تھا کہ امریکی اعلان سے نہ صرف دنیا بھر کے مسلمانوں بلکہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں میں بھی شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

ترکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ روس سے ایس 400 میزائل ڈیفنس سسٹم کی خریداری کا فیصلہ آئندہ ہفتے کرلیا جائے گا جب کہ شام کو دہشتگردوں سے پاک کرنے اور اس مسئلے پر روس ترکی سے مکمل تعاون جاری رکھے گا۔