جن کا نام کراچی میں خوف کی علامت تھا انہیں معافی نہیں ملے گی،ڈی جی رینجرزسندھ

12

ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی قوت کو برداشت نہیں کریں گے جب کہ جن کا نام کراچی میں خوف کی علامت تھا ان کے لیے کسی قسم کی معافی نہیں ہوگی۔

کراچی میں سینئر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈی جی رینجرز نے کہا کہ کراچی آپرشن کے چار برسوں میں جرائم میں نمایاں کمی آئی، 2013 سے قبل شہر میں یومیہ 8 سے10 کروڑ بھتہ مانگا جاتا تھا تاہم اب یہ شرح انتہائی کم سطح پر ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ رواں سال بھتہ خوری کے صرف چار واقعات رپورٹ ہوئے ۔انہوں نے بتایا کہ کراچی آپریشن کے شہر پر مجموعی طور پر مثبت اثرات مرتب ہوئے اور امن وامان کی صورتحال میں بہتری آئی، رواں سال میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ نہیں ہواجب کہ ٹارگٹ کلنگ میں 45  افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے 15  واقعات میں انصار الشریعہ ملوث تھی۔

ڈی جی رینجرز کا کہنا تھا کہ 2013 میں کراچی کرائم انڈیکس میں چھٹے نمبر پر تھااب باون پر ہے، رواں سال 1400 سے زائد اسٹریٹ کرمنلز اور ڈکیت پولیس کے حوالے کئے ایسے ملزمان بھی تھے جو تیسری اور چوتھی بار گرفتار ہوئے جب کہ گرفتار اسٹریٹ کرمنلزاور ڈاکوؤں پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات چلانے کی تجویز بھی پیش کی۔