سانحہ مشرقی پاکستان اور موجودہ کے حالات

23

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
نریندر مودی جب سے بھارتی وزیر اعظم بنے ہیں اُنھوں نے پاکستانیوں کو نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ کا بھولا ہو اسبق خود یاد کروادیا ہے۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد پاکستان دشمنی میں جل بھون رہی ہیں۔ یوں یہ دونوں آپس میں شیر و شکر ہیں۔ سابق وزر اعظم نواز شریف بھی مودی سے دوستی کے لیے آخری حد تک گئے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر موددی نے بنگلہ دیش میں اپنے دورے کے دوران یہ زہر اُگلا کہ ہاں ہم نے ہی مشرقی پاکستان کو علحیدہ کیا تھا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ خود بھی پاکستان توڑنے میں شامل تھا۔ اِسی طرح بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد پاکستان کے خلاف ایک ایسی نفرت کا اطہار کررہی ہیں کہ جس کی مثال آج کل کی مہذب دنیا میں نہیں ملتی۔ حسینہ واجد اپنے ہی ہم وطنووں کو پھانسی پر لٹکا رہی ہے جنہوں نے سانحہ مشرقی پاکستان کے وقت پاکستان بننے کی جد وجہد کی تھی، اُس وقت ظاہر اُن کا ملک پاکستان تھا اُنھوں نے اپنے وطن سے وفاداری نبھائی تھی۔ بعد میں وہی سیاسی رہنماء بنگلہ دیش کی سیاست میں حصہ لیتے رہے۔ حتی کہ وہ بنگلہ دیش کی حکومت میں بھی شامل رہے اب اُن سیاسی رہنماؤں کو جو اِس وقت بزرگی کی عمر کو پہنچے ہوئے ہیں اُن کو اُس وقت پاکستان سے محبت کرنے کی سزا دی جارہی ہے اور اُن کو ایک نام نہاد عدالتی ٹربینول کے ذریعے سے پھانسی دی جارہی ہے۔ پاکستان سے دشمنی کی بدترین مثال قائم کرکے شیخ مجیب الرحمان کی صاحبزادی بھاری وزیراعظم نریندری مودی کی ہم رکاب بنی ہوئی ہے۔ اب جو ذرا پاکستان کے موجودہ منظر نامے کی طرف نظر دوڑائیں۔ کہ وہ ملک جو نبی پاکﷺ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا وہاں پر حکمران ہی نبی پاکﷺ کی عزت و ناموس اور اُن کی ختم نبوت کے دُشمن بنے بیٹھے ہیں۔ اِس کا صاف مطلب ہے کہ حکمران اشرافیہ کو چونکہ صرف حکومت کرنے سے غرض ہے اُنھیں ایمان سے غرض نہیں۔ اِس لیے اُن کے نزدیک صرف پاکستان اُن کے لیے حکومت کرنے کی جگہ ہے۔ پاکستان بنانے کا مقصد تو یہ تھا کہ مسلمان اپنے عقائد کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں گے لیکن موجودہ حالات دیکھ لیں کہ حکمرانوں کی جب اپنی لنکا ڈوبی تو اُنھوں نے اِس معاشرئے کے سب سے حساس معاملے نبی پاک ﷺ کی ختم نبوت کے معاملے کو چھیڑ دیا۔ تاکہ عوام آپس ملک میں خوب انتشار پیدا کریں اور اُن کے جو کیسیز نیب اور اعلیٰ عدلیہ میں اِس وقت زیر سماعت ہیں اُن سے ریاستی اداروں کی توجہ ہٹ جائے۔ اِن حالات میں دیکھ لیں کہ پاکستان ستر سال بعد بھی کس طرح کے حکمرانوں کے زیر تسلط ہے کہ جنہیں نہ تو نبی پاکﷺ کی عزت و ناموس کا پاس ہے اور نہ ہی عوام کے جذبات کا احساس ہے اِسی طرح موجودہ اور سابق حکمران ملکی دولت لوٹ کر بیرون ملک جائیدادیں بنا چکے ہیں۔ ہر روز حکمران اعلیٰ عدلیہ کو دھمکیاں دئے رہے ہیں۔گویا پاکستان کی تخلیق کی قدر نہیں کی گئی۔ حکمران اشرافیہ نے عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رکھا ہے۔یہ بات درست کہ ختم نبوت کے حلف کی آئینی شقوں 7بی 7سی کو پارلیمنٹ نے منظور کر لیا ہے۔ ختم نبوت کا قانون پہلے کی طر ح بحال کر دیا گیا۔ چونکہ نواز حکومت اِس وقت بُری طرح دباؤ میں ہے اور اُس نے نبی پاکﷺ کے مقام کے تحفظ اور ختم نبوت ﷺکے قانون پر ڈاکہ ڈالنے والے وزراء کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ شاید نواز شریف فیملی کو نبی پاکﷺ کی شفاعت کی طلب ہی نہیں رہی۔ اُسے تو بس ایک ہی فکر ہے کہ اُسے کیوں نکالا۔ حالانکہ سپریم کورٹ کے پانچ ججز نے تفصیلی جاری کردیا ہے اور اُن محرکات کا ذکر کیا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کا سبب کیا ہے۔اُدھر سے ڈار جو کہ ملک کے خزانے کے وارث تھے اُنھوں نے خزانے کو خوب زک پہنچائی ہے ۔ اور بیمار حالت میں ملک سے باہر ہیں۔ اُن کی تصاویر اور وڈیو سے نظر آرہا ہے کہ وہ شدید دباؤ میں ہیں شاید اُنھوں نے نوشتہ دیوار پڑھ لیا ہے۔ چونکہ اُن کی جناب نواز شریف سے رشتہ داری ہے اِس لیے وہ بھی مقرب ٹھرے۔ اِس سارے کھیل کے دوان جب ہر طرف پانامہ اور اقامہ کا شور تھا۔ ایک گھمبیر صورتحال سامنے آگئی۔ وہ یہ کہ ختم نبوتﷺ کے حلف نامے کو تبدیل کردیا گیا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارئے ہاں شاید پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ نبی پاکﷺ کی عزت و ناموس کے احساس معاملے میں بھی نواز لیگ کے حامیوں کو سب اچھا نظر آتا رہا ہے۔ اور تو اور جن لوگوں نے ساری زندگی نبی پاک ﷺ کی محبت کے ترانے پڑھے اور اِسی بناء پر سیاست میں کامیابیاں حاصل کیں میری مراد اُن پیر صاحبان سے ہے جو نواز حکومت میں ہیں۔ اُن کے مریدین نبی پاکﷺ کی ختم نبوت کے قانون کے تحفظ کی بجائے اپنے پیر صاحبان کی کرسی کی مضبوطی کے لیے نواز لیگ کے اِس افسوس ناک اقدام کی مذمت نہیں کر پائے شاید اُن کے نصیب میں اب نبی پاکﷺ کے مقام کے تحفظ کی بجائے سیاسی آقاؤں کی حاشیہ برداری لکھ دی گئی ہے۔راقم پچاس سال کی عمر کو پہنچ گیا ہے اور راقم کا تعلق عشق رسولﷺ کی سُرخیل تنظیم انجمن طلبہء اسلام کے ساتھ رہا ہے۔ راقم نے ابھی تک جتنی مرتبہ ووٹ کاسٹ کیا ہے وہ نواز شریف کو ہی دیا تھا۔ لیکن اب جب کرپشن کی کہانیاں نواز شریف کی اپنی حکومت کے دور میں ہی آشکار ہوئی ہیں وہ تو عدالتوں کا کام ہی وہی جانیں۔ لیکن ممتاز قادریؒ کی شہادت اور ختم نبوت کے قانون پر ڈاکہ زنی نواز حکومت کے وہ سیاہ کام ہیں جس سے دیندار طبقے کو بہت تکلیف ہوئی ہے۔ایک بات درست ہے کہ پیر صاحبان جو حکومت کے ساتھ ہیں اُن کی مرضی وہ جس مرضی پارٹی کا ساتھ دیں۔خواہ نواز شریف کے ساتھ ہوں یا کسی اور کے ساتھ۔ لیکن دُکھ اِس بات کا ہے اُنھوں نے ہمیشہ اہلسنت کا پلیٹ فارم استعمال کرکے اپنا سیاسی قد بنایا اور اب وہ ایک ایسے حکمران کی کاسہ لیسی کر رہے ہیں جس کو ملک کی سب سے بڑی عدالت نااہل اور جھوٹا قرار دے چکی ہے۔ راقم کو اِس سے بھی غرض نہیں کہ نواز شریف جو دائیں بازو کی سیاست کرتے رہے اب کسی اور طرف نکل گئے۔ لیکن بات تو نبی پاکﷺ کی ناموس کی ہے۔ بے چارے مریدین اللہ پاک کو اور نبی پاکﷺ کو ناراض کرکے اپنے اپنے پیروں کی خوشامد میں طوطوں کی طرح بول رہے ہیں ۔ ہمارئے ملک میں یہ کیا تماشا لگا ہوا ہے۔ 16 دسمبر 1971 پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا تاریک پہلوہیجو اِس المیے کی یاد دلاتا ہے جب اس وطن کو پارہ پارہ کردیا گیاپاکستان اپنے وجود کو برقرار نہ رکھ سکاپاکستان کے حکمرانوں اور پاکستانی عوام کے دل ایک ساتھ نہیں دھڑکتے۔انگریز کی غلامی،اور ہندو کی غلامی سے بچنے والے پاکستانی اب بھی غلام ہیں آقا بدل گئے غلام وہی ہیں۔لاکھوں شہادتوں اور عصمتوں کی قربانی کے طفیل حاصل ہونے والا وطن مایوسیوں میں ڈوبا ہوا ہے۔دہشت گردی، لاقانونیت،بیروزگاری ہر پھیل گئے ہے۔اشرافیہ کا تمام وسائل پر قبضہ ہے چند ہزار لوگوں نے اٹھارہ کروڑ عوام کو معاشی و سماجی طور پر یرغمال بنا رکھاہے اسی طرح غریب طبقے سے اُبھرنے ولالی سیاسی قوتیں بھی اقتدار کی غلام گردشوں میں پھنس کر رہ گئیں مذہب کا نام استعمال کرکے عوام استحصال کیا جارہا ہے موجودہ حالات اور ایسی قیادتوں کے ہوتے ہوئے ہم کیسے اِس گرداب سے نکل سکتے ہیں،ہے اِس کا کوئی قابل عمل حل۔حضرتِ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ عالماں از علم قران بے نیاز صوفیاں درندہ گرگ ومو درازیعنی آج کے علماء قران کے علم سے لاپرواہ ہیں جب کہ صوفی گویا پھاڑ کھانے والے بھیڑیا بنے ہوئے ہیں اور لمبے بالوں والے ہیں۔دنیا میں انسان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے انسان اور مسلمان میں فرق کیا ہے۔ مسلمان بننا کس طرح کے افعال کا متقاضی ہے۔اگر ہم سب ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں اور اپنے آپ سے جسے ضمیر بھی کہا جاتا ہے اُس کی بھی مدد لیں کہ کیا انسان کی تخلیق کا وہ مقصد ہے جو دنیا میں ہور ہا ہے۔کیا انسان اور مسلمان میں کوئی فرق ہے۔ اگر ہے تو وہ کیا ہے۔کیا مسلمان بن کر ہم معاشرے میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں کیا ہمارئے اور غیر مذاہب کے افعال و اعمال میں کوئی فرق ہے یا نہیں۔وقت جس سُرعت کے ساتھ گزر رہا ہے اور وطن پاک کو جس طرح کے حالات کا سامنا ہے کیا سانحہ مشرقی پاکستان سے کوئی بھی سبق سیکھا گیا۔اصل میں پاکستان میں حکمران طبقہ اور ہے اور عوام الناس کا تعلق کسی
اور طبقے سے ہے۔ حکمرانوں کے قلب و اذہان عوام کے جذبات سے کوسوں دور ہیں۔عوام ہے کہ دہشت گردی، لاقانونیت بے روزگاری کی چکی میں پس رہی ہے جبکہ حکمران اپنے محلات میں خوابِ خرگوش کے مزے لُوٹ رہے ہیں۔ عوام بھوک اور افلاس کے گرداب میں پھنس چُکے ہیں لیکن مجال ہے کہ حکمرانوں نے اپنا وطیرہ بدلہ ہو۔ مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بن جانا اور عام لوگوں کا یہ سوال کہ پہلے تو ہندو اور انگریز کی غلامی سے چھُٹکارہ حاصل کرنے کے لیے اور علیحدہ مسلم ریاست بنانے کے لیے بٹوارا کیا گیا لیکن 1971 میں مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننا کس سے آزادی کے لیے تھا۔مسلمان کو مسلمان سے ہی آزادی کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ایک ہوں مسلم حرم کے پاسبانی کے لیے کے نظریئے کو کس طرح موت کے گھاٹ اُتارا گیا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہندوستان روس اسرائیل گٹھ جوڑ نے پاکستان دو لخت کیا،اور ان ممالک کی سازشوں نے ایک نوزائیدہ ملک کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا تو اُس وقت اِس ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنیوالے کہاں تھے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے اور اِس بات کا جواب ہمیں جسٹس حمود الرحمان کی رپورٹ سے بھی ملتا ہے کہ اِس سانحے کے پیچھے غیر ممالک کے علاوہ پاکستانی سول و فوجی اسٹیبلیشمنٹ کا بھی غفلت اور کوتاہیوں سے بھر پور کردار ہے۔ہوس ہنوز تماشا گر جہانداری است، وگرچہ فتنہ پس پردہ ہائے زنگاری است (زبور عجم) حضرتِ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ ہوس ابھی تک اسی فکر میں ہے کہ کس طرح دنیاوی ما ل ودولت اکھٹی کی جاسکتی ہے۔ ہرئے رنگ کے پردوں (آسمان) کے پیچھے اور کو نسا فتنہ پوشیدہ ہے؟ دنیا میں جتنے بھی فتنے فساد پیدا ہوئے اُن کا سبب ہوس ہی ہے۔ غیر ملکی سازشوں کے لیے ان سازشی ممالک کومیر جعفر و میر صادق میسر آ تے رے رہے اور میر جعفروں کی ہوس نے وطن کو پارہ پارہ کردیا۔تاریخ میں یہ رقم ہے کہ مشرقی پاکستان میں رہنے والے شیخ مجیب الرحمان کی سیاسی قوت کو مغربی پاکستان کے سیاستدان مسٹر بھٹو نے عملاً تسلیم نہ کرکے مشرقی

پاکستان کی علیحدگی کے مطالبہ کو پورا ہونے میں اہم کردار ادا کیا اور ادھر تم اور ادھر ہم کا نعرہ لگا دیا گیا۔ بنگالی عوام جہاں سے مسلم لیگ کا خمیر اُٹھا تھا وہاں مکتی باہنی ہندوستانی انٹیلیجنس اداروں نے مل کر جلتی پر تیل کا کام کیا۔ کیونکہ پاکستان کی عوام کی آواز حکمرانوں سے بہت دور تھی اور حکمرانوں کو عوام کے جذبات کی کوئی قدر نہ تھی۔اُنھیں قدر تھی تو صرف اپنی حکمرانی کی بھلے ملک ٹوٹتا ہے تو ٹوٹ جائے اور پھر وہی ہوا جس پاکستان فوج کو دُنیا کی بہترین فوج مان جاتا ہے وہی فوج ہتھیار ڈال کر پوری دنیا میں خود بھی رُسوا ہوئی اور پاکستان اور اُس کی عوام کو بھی رُسوا کیا گیا۔ترانوئے ہزار فوجیوں کا ہتھیار ڈالنا اور فوجی بھی وہ جن کا نعرہ تکبیر ہو جس نعرے سے قیصروکسریٰ کے ایوانوں میں زلزلہ بپا ہوا تھا۔ وہی نعرہ تکبیر لگانے والی فوج شرمناک شکست کی حامل قراردے دی گئی۔ آخر ہماری اندر اتنی سمجھداری کیوں نہیں آسکی کہ ہم اُس بدترین شکست سے کوئی سبق سیکھ سکتے۔معاشیات میں ایک تھیوری ہے جس کو غربت کا منحوس چکر کہا جاتا ہے اُس چکر کے مطابق غریب اتنا پھنس جاتا ہے کہ وہ غربت کے گرداب سے نکل نہیں پاتا ہماری قوم بھی اِسی طرح کے منحوس دائرے میں پھنس چکی ہے اور یہ منحوس دائرہ اشرافیہ نے بنا رکھا ہے۔ اب جب یہ منطق پیش کی جاتی ہے کہ لوگ جھوٹ کیوں لو گ بولتے ہیں چوری کیوں کرتے ہیں یہ سب کچھ حکمران تو نہیں کہتے کہ کرو۔اس کا جواب یہ ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے جب ماحول ہی ایسا تخلیق کر ڈالا ہے تو پھر سچ اور جھوٹ میں فرق روا رکھنے کا علمبردار کون ہوگا۔جب رہنماء راہزن کا روپ دھار چکے ہیں تو خیر کہاں سے آئی گی۔بقول اقبالؒ چوں بنام مصطفیٰ خوانم درود ازخجالت آب میگردد وجود (مسافر مثنوی) یعنی جب میں نبی پاک ﷺ کی ذات والا صفات پر درود بھیجتا ہوں تو میرا وجود شرم سے پانی پانی ہوجاتا ہے مزید فرماتے ہیں کہ، عشق می گوید کی اے محکوم غیر، سینہ تواز بتاں مانند دیر یعنی کہ عشق کہتا ہے کہ او غیر کے محکوم: تیرا سینہ تو بتوں کی وجہ سے بت خانہ بنا ہوا ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اعمال کچھ ہیں۔

افعال اور طرح کے ہیں جو اقوال کی تصدیق نہیں کرتے۔قوم کو ایسی لیڈر شپ کی ضرورت ہے جو کہ قوم کو ذہنی پستی سے نکا لے اور خودار قوم بنائے۔ نمازیں،روزئے،عمرئے حج سب غروری ہیں لیکن بقول اقبالؒ پہلے مسلمان تو بن جائیں غیر کے محکوم نہ بنیں،مسلمانی کی ابتدائی تعریف پر پورا اُترنے کی ضرورت ہے باقی کام تو بعد کے ہیں جیسے بقول اقبالؒ کہ تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں۔پہلے توحید کو تو اپنے اندر وارد تو کرلیں جب تک ہم مکمل طور پر رب کو ماننے والے نہیں بنیں گئے تب تک ہم رسوا ہوتے رہیں گئے۔ہے جُرمِ ضیفی کی سزا مرگِ مفاجات