جہانگیر ترین کی نااہلی پر خوشی نہیں ہوئی، سعد رفیق

5

وزیر ریلوے اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ  سعد رفیق نے کہا ہے کہ وہ سیاستدانوں کوعدالتوں سے نااہل قرار دینے کی مذمت کرتے ہیں اور انہیں جہانگیر ترین کی نااہلی پر خوشی نہیں ہوئی۔

کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان اور جہانگیرترین نااہلی کیس سے متعلق عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے سعد رفیق نے کہا کہ جہانگیر ترین ہوں یا یوسف گیلانی کسی کے نااہل ہونے کی خوشی نہیں ہوئی کیونکہ سیاسی لڑائی کوعدالتوں میں لے جانا مسائل کا حل نہیں، میں سیاستدانوں کو عدالتوں کی جانب سے نااہل قرار دینے کے فیصلوں کی پرزور مذمت کرتا ہوں ۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دور میں ملک کے حالات کافی بہتر تھے لیکن ملک کے منتخب وزیراعظم کوباہرکردیا جائے توایسا ممکن نہیں کہ زلزلہ نہ آئے، نواز شریف کو پہلی بار اس لیے نکالا کہ ایٹمی دھماکا کیوں کیا اب اس لیے نکالا کہ معاشی دھماکا کیوں کیا، ہمیں ساڑھے چارسال سے سکون سے کام نہیں کرنے دیا گیا، ہم دنیا کی ہر برائی ماتھے پر چسپاں کرکے بھی پرعزم ہیں۔ سعد رفیق نے کہا کہ آصف  زرداری صاحب کی حکومت میں ہم کہتے تھے کہ لانگ مارچ کی مار ہیں لیکن میاں نوازشریف ہمیشہ کہتے تھے زرداری کی حکومت اچھی ہے یا بری اسے جمہوریت کے لیئے چلنے دیا جائے، ہم نے ہاتھ پکڑ کر آصف زرداری صاحب کی حکومت کامیاب کروائی کراچی اور بلوچستان کے حالات پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پچیس سے تیس سال کراچی کوعصبیت کی بنا پرٹارگٹ کلر بنایا گیا لیکن اب وہ بھتہ دینے والے کہاں گئے، نوازشریف نے سندھ میں ڈاکو راج ختم کی جبکہ بلوچستان میں قومی پرچم لہرایا جو ایک مشکل کام تھا اور پہاڑوں سے اتار کر باغی بلوچوں کو قومی دھارے میں شامل کیا۔