دھرنے میں فوج کا ہاتھ ثابت ہوا تو مستعفی ہوجاؤں گا، آرمی چیف

28

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے سینیٹ کو ملکی اور خطے کی صورت حال پر بریفنگ دی گئی۔

فلک نیوز کے مطابق سینیٹ کی پورے ایوان کی کمیٹی کا خصوصی بند کمرہ اجلاس ہوا جو 5 گھنٹے تک جاری رہا جس کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ارکان پارلیمان کو قومی سلامتی اور خطے کی صورت حال پر بریفنگ دی۔ یہ اجلاس اس حوالے سے بھی اہمیت کا حامل تھا کہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاک فوج کے سربراہ اور ڈی جی ملٹری آپریشنز نے سینیٹ کو بریفنگ دی۔

اس موقع پر ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی ایم او جنرل ساحر شمشاد مرزا، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور اور ڈی جی ایم آئی بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق پاک فوج کے سربراہ نے سینیٹرز کو علاقائی و قومی سلامتی کی صورتحال خصوصاً سعودی اسلامی فوجی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت پر اعتماد میں لیا۔ بریفنگ کے بعد سوال جواب کا سیشن بھی ہوا جس میں ارکان پارلیمنٹ کے سوالات کے عسکری حکام نے جواب دیے۔ کمیٹی کا اجلاس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے تناظر میں بلایا گیا تھا جس کے دوران آئندہ کی حکمت عملی بھی طے کی گئی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں لاپتہ افراد، فیض آباد دھرنے اور طالبان و داعش سے متعلق بھی سوالات ہوئے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے دھرنے سے متعلق سوال کیا جس کے جواب میں آرمی چیف نے کہا کہ اگر ثابت ہوگیا کہ دھرنے کے پیچھے فوج تھی تو مستعفی ہوجاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ دھرنا ہوا تو میرے ذہن میں لال مسجد کا واقعہ بھی آیا، میں نے ڈی جی آئی ایس آئی سے کہا کہ دھرنے والوں سے بات کریں، بات ہوئی تو پتہ چلا ان کے چار مطالبات ہیں، پھر وہ ایک مطالبہ پر آگئے، سعودی عرب جاتے ہوئے بھی دھرنے سے متعلق معلومات لیتا رہا۔

لاپتہ افراد کے حوالے سے سوال کے جواب میں آرمی چیف نے کہا کہ لاپتہ افراد کی مختلف وجوہات ہیں، کچھ لوگ خود غائب ہو کر لاپتہ ظاہر کرواتے ہیں، ایجنسیاں صرف ان افراد کو تفتیش کے لئے تحویل میں لیتی ہیں جو ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہوں۔

اجلاس میں آرمی چیف بار بار زور دیتے رہے کہ پارلیمنٹ ہی سب کچھ ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ آپ لوگ پالیسی بنائیں، ہم عمل کریں گے، ہم نے دیکھنا ہے، آج کیا ہو رہا ہے، آج کیا کرنے کی ضرورت ہے، ماضی میں جانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آرمی چیف کی بات کے بعد بعض اوقات ڈی جی آئی ایس آئی وضاحت دیتے رہے۔

ذرائع کے مطابق ڈی جی ایم او جنرل ساحر شمشاد مرزا کی جانب سے سینیٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ فوجی عدالتوں نے اب تک 274 مقدمات کا فیصلہ کیا، 161 مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی جن میں سے 56 مجرموں کو پھانسی دی گئی۔ 13 مجرموں کو آپریشن ردالفساد سے پہلے پھانسی دی گئی اور 43 کو آپریشن کے بعد پھانسی دی گئی۔

اجلاس کے دوران ایک موقع پر سینیٹر یعقوب ناصر کے شور شرابے کی وجہ سے ہال میں بدمزگی پیدا ہوئی۔ مسلم لیگ ن کے سنیٹر یعقوب ناصر نے دوسرا سوال کرنے کی اجازت نہ ملنے پر شورشرابا کیا۔ ڈی جی آئی ایس آئی نے ان سے کہا کہ آپ کا کوئی ذاتی مسئلہ ہے تو چیئرمین کو بتا دیں یا ہمارے پاس آجائیں، چیئرمین صاحب جیسے کہیں گے ہم ویسا کر لیں گے۔

سینیٹ کی پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی کے اس اہم اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ کی تمام گیلریاں بند کردی گئیں اور پریس لاوٴنج کو بھی تالے لگ گئے جب کہ میڈیا کے کیمرے بھی اندر لانے پر پابندی رہی۔ سینیٹ کی ہول کمیٹی کا اجلاس ٹرمپ کی پاکستان کے حوالے سے پالیسی پر بلایا گیا تھا۔

پارلیمان پہنچنے پر آرمی چیف کا استقبال ڈپٹی چیئرمین سینٹ عبدالغفور حیدری نے کیا۔ آرمی چیف سیدھے چیئرمین سینیٹ کے چیمبر میں گئے اور رضا ربانی سے ملاقات کی۔ بعدازاں ایوان کی جانب جاتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے گلی دستور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آرمی چیف سے کہا کہ یہ گلی دستور ہے۔ آرمی چیف اس پر سرسری نظر ڈالتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی (آئی ایس پی آر) میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ بند کمرہ اجلاس پر اصولی طور پر بات نہیں کرنی چاہیے، آئندہ آنے والے دنوں میں تفصیلی پریس کانفرنس کروں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ 18 ستمبر کو دفاعی کمیٹیوں کے چیئرمینز نے آرمی چیف سے بریفنگ کی درخواست کی، آرمی چیف نے درخواست قبول کرلی اور کہا کہ دعوت دی گئی تو ضرور آوٴں گا، جس پر چیئرمین سینیٹ نے خط لکھ کر آرمی چیف کو بریفنگ کی دعوت دی۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ بہت سے سینٹرز ایسے ہیں جنہیں سوالات کرنے کا موقع نہیں ملا تاہم خوشی ہوئی کہ تمام سینٹرز موجودہ سیکیورٹی صورتحال سے آگاہ تھے، اجلاس میں تمام سینیٹرز نے پاک فوج کے کردار کو سراہا اور قربانیوں کو تسلیم کیا جب کہ اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ سب کو مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے۔

دوسری جانب قائد ایوان راجا ظفرالحق نے کہا کہ آرمی چیف نے سخت سوالات کا اچھے انداز میں جواب دیا، اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے حکومتی خدشات سے متعلق آرمی چیف نے کہا کہ وہ آئین کے تابع اور جمہوریت کے ساتھ ہیں اور حکومت نے جو بھی فیصلہ کیا اسے مانیں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نہال ہاشمی نے بتایا کہ آرمی چیف نےکہا ہے کہ ملک میں صدارتی نظام کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس سے ملک کمزور ہوتا ہے۔ ثابت ہوجائے کہ فیض آباد دھرنے کے پیچھے فوج تھی تو استعفا دے دوں گا، رات کو ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھنے والے دفاعی تجزیہ کار ہم نہیں بھیجتے، ہمیں قانون کے مطابق چلنا اور عوام کو جواب دینا ہے۔

سینیٹر مشاہد اللہ خان نے بتایا کہ آج تاریخی دن ہے کہ بالادست پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم کی گئی، یہ قوم کے لئے خوش خبری ہے، کسی بھی معاملے کو حل کرنے کا طریقہ بات چیت ہی ہے، پارلیمنٹ اور فوج کے درمیان کھل کر گفتگو ہونا اچھی بات ہے۔