پاکستان کو آئندہ درپیش نئے محاذ

35

محمد عتیق الرحمن، فیصل آباد
دوپہر کے کھانے کے بعد فوج اور انتظامیہ کے تمام حاکم اور عہد یدار اس کمرے میں جمع تھے جہاں صلاح الدین ایوبی انہیں احکامات اور ہدایات دیا کرتا تھا۔سب کو پتہ چل چکا تھا کہ ایک عالم کے روپ میں جاسوس دو لڑکیوں کے ہمراہ پکڑا گیا ہے۔ وہ آپس میں چہ میگو ئیاں کر رہے تھے کہ سلطان ایوبی آگیا۔ اس نے تفصیل سے بتایا کہ اسے کس طرح پکڑا گیا ہے۔ پھر انہیں وہ باتیں سنائیں جو جاسوس نے علی بن سفیان کے ساتھ قید خانے میں کی تھیں۔علی بن سفیان یہ باتیں سلطان ایوبی کو سنا چکا تھا۔ابھی اس طرح کی اور فلسطین پر قبضے کی باتیں چل ہی رہی تھیں کہ عالم جاسوس اور دونوں لڑکیوں کو لایا گیا جنہیں ایوبیؒ نے ساتھ والے کمرے میں بٹھانے کا کہا ۔بٹھانے کا انداز اس طرح سے رکھا گیا کہ ان تک اس کمرے میں ہونے والی ساری گفتگو پہنچ سکے ۔اور ایوبیؒ اپنے سالاروں اور انتظامیہ کے عہدیداروں سے محو گفتگوہوگیا کہ میں ’’شوبک ‘‘کی بجائے ’’کرک ‘‘پرحملہ کرونگااور اسے اڈہ بنا کرکمک منگواونگا اورکچھ عرصہ فوج کو آرام دے کر پھر ’’شوبک‘‘پر حملہ کرونگا۔اُس وقت جو بھی باتیں ایوبیؒ اور ان کے ساتھیوں کے درمیان ہوئیں وہ سب اس صلیبی جاسوس تک پہنچ کر اس کے ذہن میں محفوظ ہوتی گئیں اور وہ فرار کے طریقوں پر غور کرنے لگا اور اپنی روایات و تربیت کے زیراثر اُن دونوں صلیبی لڑکیوں کو بھی وہ کہہ رہا تھا کہ وہ کچھ کرسکیں تو کرگذریں ۔ ایوبیؒ کے حواس پر حیوانیت طاری کرنے کی خاطر عالم جاسوس لڑکیوں کو کہہ رہا تھا کہ اگر وہ تمہیں اکیلے میں بلائے تو کوشش کرنا کہ اسے حیوان بناسکو تاکہ یہ راز وہاں تک پہنچ سکے ۔تھوڑی دیر بعد اجلاس ختم ہوا تو ایوبی ؒ ان کے کمرے میں داخل ہوا اور تھوڑی بہت بات چیت کے بعد انہیں آزاد کردیا ۔ان کی بیڑیاں کھول دی گئی اور انہیں شوبک قلعہ تک پہنچانے کا بندوبست بھی ہوگیا ۔اس کے بعد کیا ہوا ؟ یہ ایک لمبی داستان ہے جسے ’’التمش‘‘ نے ’’داستان ایمان فروشوں کی ‘‘ نامی کتاب میں تفصیل سے ذکر کیا ہے ۔
قصہ مختصر یہ کہ صلاح الدین ایوبیؒ نے اُس دور میں ایک کامیاب چال چلی اور صلیبی حکمرانوں کو اپنی جھوٹی خبر دے کر اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے ۔اصل بات کی بھنک اس نے اپنے قریبی دوستوں کو بھی نہ ہونے دی ۔کرک کا بتا کر شوبک پر حملہ کیا اور کامیابی و فتح سمیٹی۔مندرجہ بالا واقعہ لکھنے کی مجھے ضرورت اس لیے پیش آئی کہ پچھلے دنوں ایک خبر نظروں سے گذری کہ امریکہ سائبر فوج کی ایک پوری بریگیڈ تیار کرے گا ۔اگرچہ امریکی فوج میں سائبر فوجی پہلے سے موجود ہیں جو سائبر سیکیورٹی وغیرہ کود یکھتے ہیں لیکن باقاعدہ طور پر ایک پوری بریگیڈ کی تیاری ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ اس معاملے میں مستقبل قریب میں ایک مکمل فوجی مہم جوئی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔کوئی دو سے تین سال قبل اسرائیل کے حوالے سے بھی ایسی ہی خبر دیکھنے کو ملی تھی کہ وہ سائبروار کے لیے بندے رکھے گا ۔جو اسرائیلی مفادات پر نظر رکھیں گے ۔ یہ بات تو میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت سوشل میڈیا اور خبروں کی ویب سائٹس پر خبریں کم اور پروپیگنڈہ زیادہ ہوتا ہے ۔بات کچھ ہوتی ہے لیکن ہمارے سامنے کچھ کی کچھ رکھی جاتی ہے ۔یہ ایک ایسا ٹول ہے جس تک سب کی رسائی باآسانی ہوجاتی ہے یہی وجہ ہے دشمن اس ٹول کو استعمال کررہا ہے ۔اسرائیل اس سارے معاملے میں سب سے آگے ہے اور کوئی شک نہیں کہ اس نے اپنی ایک مکمل فوج اس معاملے پر لگارکھی ہو۔ کچھ خبروں کے مطابق جو 2009ء کے شروع میں شائع ہوئی تھیں جن میں ’’ھسبارا(Hasbara)‘‘نامی پروگرام کا ذکر تھا جس میں مختلف زبانوں میں مہارت رکھنے والے یہودیوں کوتربیت فراہم کرناتھی تاکہ اسرائیل کے خلاف ہونے والی نفرت انگیز بات چیت کو سوشل ٹولز سے ہٹایاجاسکے اور لوگوں میں اسرائیل کے مثبت پہلو سامنے لائے جاسکے اور فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کے مختلف پہلو سامنے رکھتے ہوئے اس کا اس طرح سے رد کیا جاسکے کہ کسی کو بھی شک نہ ہو۔میں یہاں ’’سپیس وار‘‘اور ہیکنگ ودیگر جنگوں کاذکر نہیں کررہا ۔ میری مرادصرف پروپیگنڈہ وار ہے جس میں جھوٹی خبریں پھیلاکر مورال ڈاؤن کرنے اور مختلف اختلافات کو ہوا دے کر تنظیم توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ قوم متحد نہ ہوسکے ۔قوم کو مختلف فرقوں ، تنظیموں اور زبانوں میں اس طرح سے تقسیم کردیا جائے کہ قوم کسی بھی نظریے پر متحد نہ ہوسکے۔ اپنی موجودہ حالت اگر ہم اس تناظر میں دیکھیں تو ہم تقسیم در تقسیم ہوئے نظر آتے ہیں ۔پاکستان میں اسلام مخالف نعرے لگتے ہیں اور تو اور پاکستان مخالف نعرے لگاکر ملک کو تقسیم کرنے والے بھی موجود ہیں ۔بیرون ملک بیٹھ کر اپنے ملک سے غداری کرنے والے بھی موجود ہیں اور بھارتی میڈیا کو بھی اگر اسی تناظر میں دیکھیں تو دن رات وہ پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف عمل ہے ۔ جہاں بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بیٹھے ان کے ایکٹیویسٹ بلوچستان ودیگر قبائلی علاقہ جات میں پاک فوج اور حکومت پاکستان کے فرضی مظالم کی منظر کشی کرتے نظر آتے ہیں وہیں بلوچی قوم اپنے ملک کی خاطر جان ومال قربان کرتے بھی نظر آتے ہیں ۔سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ میں سے بلوچستان والوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کے حصے میں پہلا شہید آیا میری مراد ’’نوروزجان بلوچ شہیدؒ ‘‘ ہے جسے بی ایل اے والوں نے نوشکی میں 2013ء میں شہید کردیا تھا ۔نوروزجان بلوچ نظریہ پاکستان کا داعی اور محب وطن بلوچی تھا جو بھارتی پروپیگنڈہ کا اس طرح سے توڑ کرتا تھا کہ بھارت تلملاتا رہ جاتا تھا ۔ملحدین کے خلاف اگر بات کروں تو ایک نوجوان کا چہرہ آنکھوں سامنے آجاتا ہے جس نے کئی احباب کو الحاد کے خلاف کھڑا کردیا تھا ۔حافظ بابرعلی ایک ایسا نام جسے آج بھی سوشل میڈیا پر الحاد کے خلاف کام کرنے والے احباب یادکرتے اور دعائیں دیتے نظر آتے ہیں۔
؂وطن کی خاک ذرا ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقین ہے پانی یہی سے نکلے گا
پاکستان میں اگرچہ ابھی تک میڈیا وار کے حوالے سے سرکاری سطح پر کچھ خاص نہیں ہوا بلکہ اگر کہوں کہ اس کا تناسب صفر ہے تو بے جا نہ ہوگا لیکن کچھ محب وطن احباب نے یہ محاذ سنبھالا ہوا ہے ۔پاک فوج کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کو ختم کرنے اور پھیلائی جانے والی افواہوں کو مانیٹر کرنے واسطے اپنے اپنے طور یہ کچھ سرپھرے سے لوگ دن رات اسی تگ ودو میں مصروف ملتے ہیں کوئی ٹویٹر پر ہے تو کوئی فیس بک پر ۔بات اگر کی جائے صرف نظریہ پاکستان اور افواج پاکستان کی تو یہ محاذ بھی پاکستانی نوجوانوں نے کھلا نہیں چھوڑا اور اگر بات کی جائے قادیانی نواز، مغرب پسند اورملحد طبقے کو نکیل ڈالنے کی تو اس میں بھی یہ نوجوان اور کچھ علماء کرام سردھڑ کی بازی لگاتے نظر آتے ہیں ۔پاکستانی فوج کے حوالے سے پھیلائی جانے والی مختلف اوقات میں جھوٹی خبروں اور افواہوں کویہی نوجوان طبقہ ختم کرتا نظر آتا ہے ۔کئی نام ہے جو میری نظر میں ہیں جو طنزیہ ،سنجیدہ اور تحقیقی معیار سے ان سب کو نکیل ڈال رہے ہیں ۔دشمن بھی اس معاملے میں اب ہوشیار ہوچکا ہے وہ مختلف قسم کے اختلافات کوسامنے لاتا ہے اور اسے بھڑکاتا ہے تاکہ ان نظریہ پاکستان کے محافظوں میں پھوٹ ڈال سکے۔فرقہ وارانہ عنصر اس سارے معاملے میں شدید ہوتا ہے جو کبھی کبھار چل بھی جاتا ہے لیکن اکثر احباب اس سے بچ نکلتے ہیں ۔حکومت اور مقتدر اداروں کو اس میڈیا وار کے متعلق بھی خیال کرنا ہوگا تاکہ ان سرپھروں کی قربانیاں رائیگاں نہ جاسکیں اور دشمن اپنے گھناونے عزائم میں کامیاب نہ ہوسکے۔یہ نوجوان ہراول دستہ ہیں جن کے مقدر میں قربانیاں ہوتی ہیں لیکن اگر اس کے بعد آنے والی سپاہ ان کی قربانیوں کو بھول جائے یا ہراول دستے کی فکر نہ کرے تو یہ بہت بڑی غلطی ہوتی ہے۔میں یہاں ان نظریاتی جماعتوں کی سوشل میڈیا ٹیموں سے بطور خاص مخاطب ہونا ضروری سمجھتا ہوں جو اپنے آپ کو نظریہ پاکستان کے داعی و محافظ مانتے ہیں ۔ وہ ملک بھر میں کالج ویونی ورسٹی ، گلی کوچوں ، مساجد ومدارس اور چوراہوں پر ایسے تربیتی پروگرام تیز کردیں جس میں اس پروپیگنڈہ وار سے خود بھی بچنے کی تربیت اور ساتھ اس سے دوسروں کو بچانے کی بھی تربیت فراہم کی جاسکے ۔لوگوں کو تحقیق پر ابھاریں تاکہ کاپی پیسٹ کرنے والے نوجوان اپنا وقت کسی مناسب ایکٹیویٹی میں صرف کریں۔ انہیں فورم مہیا کریں جہاں وہ اپنے خیالات کا اظہار کھلے طور پر کرسکیں ۔انہیں لکھنے کی طرف لائیں تاکہ وہ انفرادی طور پر بھی ان کا رد کرسکیں ۔آخر پر ایک صلیبی کمانڈر کی بات جو اس نے ایک غدار وطن کو کہی تھی کہ ’’مجھے ذاتی طور پر یہ توقع ہے کہ مسلمان چند برسوں تک اس ذہنی کیفیت میں داخل ہو جائیں گے جہاں وہ اپنے آپ کو بڑے فخر سے مسلمان کہیں گے مگران کے ذہنوں پر ان کے تہذیب و تمدن پر صلیب کا اثر ہوگا ‘‘۔