عالمی مسلم اتحاد

25

تحریر۔۔۔ ڈاکٹر عبدالمجید چوہدری
اورتم سب مل کر اللہ کی رسی کو مظبو طی سے پکڑ ے رکھو اور آپس میں تفر قے میں نہ پڑو ۔اس آیت میں مسلما نو ں کو دو با تو ں کی نصحیت کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے اندر ا یما ن کی حر ارت پید ا کر یں اور یکجہتی پید ا کر یں اور آپس میں انتشا ر کا شکا ر نہ ہو ں ۔تا ر یخ اس با ت پر گواہ ہے کہ جب تک مسلما ن ایما ن کی قو ت سے ما لا ما ل رہے اور متحد رہے تو پو ر ی دنیا میں ان کا ڈ نکا بجتا رہا اور پو رے عا لم پر ان کا غلبہ رہا اور کو ئی قو ت بھی ان کا مقا بلہ میں نہ ٹھہر سکتی تھی ۔لیکن افسو س سے کنا پڑ رہا ہے آج مسلما ن ڈیڑ ھ ارب کے قر یب ہیں اور پچا س سے زائد اسلا می مملکتیں ہیں ۔ افسو س آ ج مسلما ن ایما ن اور ا تحا د کی حر ا رت کھو بیٹھے ۔آپس میں جھو ٹ اور ا نتشا ر کا شکا ر ہیں اور یہ کثیر تعداد میں ہو تے ہو ئے بھی د شمن سے مغلو ب ہیں ا مر یکہ کے صدر کے اس علا ن کے بعد کہ مقبو ضہ بیت ا لمقد س ا سر ا ئیلی درا لحکو مت ۔ فلسطینو ں نے ۔ ا لقد س ہما را ۔ کی نئی تحر یک شر و ع کر دی ہے ۔جس سے اس علا قہ میں تشد د کی نئی لہر نے جنم لے لیا ہے امر یکی صدر کے اعلا ن کے بعد دنیا بھر کے ملکو ں نے خبر دار کیا ۔اس سے تشد د کی نئی لہر پھو ٹ سکتی ہے ۔ امر یکی صدر کی اسلا م دشمن پا لیسا ں دنیا کو عا لمی جنگ کی طر ف کی طر ف دھکیل ر ہی ہیں ۔بد قسمتی سے پو ری دنیا میں مسلما ن ہی زیر عتا ب ہیں ۔چا ہیے وہ فلسطین ،کشمیر،بر ما ۔۔۔ میں ہوں کو ئی طا لئع کا ہا تھ روکنے والا نہ ہے ۔اس وجہ مسلما نو ں کی آپس کی نفر تیں ۔اگر مسلما ن آپس کی نفر تیں مٹا کر ایک ہو جا ئیں تو یہ ا تحا د امر یکہ اور ا سر ا ئیل سمیت ان تما م پر ایٹم بم گر نے سے کم نہ ہو گا ۔ کا ش ۔۔۔۔ مسلما ن ایک ہو جا ئیں۔اگر مسلما نو ں نے آپس کی نفر تیں ختم نہ کیں تو یہو د،نصا ر ٰ ی کا سا نپ پو ری ا مت کو ڈ سے گا اگر اسلا می مما لک نیک نیتی اوراخلا ص سے امر یکی فیصلے کے خلا ف متحد ہو جا ئیں تو ٹر مپ کو اپنا فیصلہ وا پس لینا پڑ ے گا۔
مسجد ا قصی روئے زمین پر قا ئم ہو نے والی دوسری مسجد ۔ رسو ل اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم کے سفر معر اج کی عظیم یا د گا ر ۔ مسلما نو ں کا قبلہ اول ،خلیفہ دوم حضر ت عمر رضی ا للہ عنہ کی اما نت ۔ صلا ح ا لد ین ا یو بی رحمتہ اللہ کی ا یما نی جر ا ت کی مظہر ،خلا فت عثما نیہ کی شا ن و شو کت کی منہ بو لتی تصو یر ۔ اور ا فسو س اکسیو یں صد ی کے چھپین اسلا می مما لک، افو ا ج اور حکمر ا نو ں کی بے حسی کا نشا ن ۔دوسر ی طر ف کفر ہے جو ، ملت واحد ہ ، ہو نے کی حثییت سے ہر اسلا می ملک کے ا سلا می تشخص کو ختم کر نے کے در پے ہے اور عا لم ا سلا م کی نظر یا تی بنیا دوں کو مسما ر کر نے کے لئے ہر طر ح کے جد ید ا سلحے سے لیس ہے اور سا مر ا جی مقا صد کی تکمیل کر نے کے لئے عا لم اسلا م میں منا فقین کا ایک انو ہ کثیر اور جم غفیر مو جو د ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ عا لم اسلا م کی اس پستی کا علا ج کیا ہے امت مسلمہ ذلت اور نکبت کے اس سمند ر سے کیسے نکل سکتے ہے ؟ ذرا غو ر کیا جا ئے او ر خد ا عقل سلیم بھی دے تو قر آ ن ہما ری ر ہنما ئی کر تا ہے ۔ مسلما نو ں تم ان لو گو ں کی طر ح نہ ہو جا نا جنہو ں نے آ پس میں تفر قہ ڈا لا اور با ہم تنا ز عہ پید ا کیا جب کہ ان کے پا س و ا ضح احکا م پہنچ چکے ۔ یعنی قر آ ن حکیم عا لم اسلا م کی تو جہ اس طر ف مبذول کر ا ر ہا ہے کہ ا مت مسلمہ کی تما م مصیبتو ں کا علا ج اتحا د و ا تفا ق میں ہے اور اس ا تحا د و ا تفا ق کی بنیا د ر نگ و نسل اور لسا نی ہم آ ہنگی نہیں ۔بلکہ وہ ر شتہ و حد ت ہے جسے رسا لت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نےِ ِِِ۔ لا ا لہ الا اللہ محمد رسو ل اللہ ، کی بنیا د پر قا ئم کیا ۔ اسی لئے قر آ ن نے فر ما یا کہ ۔۔۔ مسلما ن آپس میں بھا ئی بھا ئی ہیں ، ان بھا ئیو ں میں اختلا فا ت اور نفا ق نہیں ہو نا چا ہیے ۔ کیو نکہ اختلا فا ت اور نفا ق ایک ایسا مو ذی مر ض ہے جس سے قو مو ں کا شیر ا زہ بکھر جا تا ہے ۔