اسلام کی عالمگیریت

6

تحریر۔۔۔ شاہد جنجوعہ
کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد احرام کو آباد کرنا اس شخص کے اعمال جیسا خیال کیا ہے جو خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اور خدا کی راہ میں جہاد کرتا ہے؟ یہ لوگ خدا کے نزدیک برابر نہیں ہیں اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ گزشتہ کء صدیوں بعد پہلی دفعہ اس فرمان حق کا صیحح مطلب کھل کراب عام آدمی کی سمجھ میں بھی آرہا ہے۔ یہاں مسلمانوں کو جھنجھوڑا جارہا ہے کہ محض چیریٹی اور رسومات کی ادائیگی کو سب کچھ نہ سمجھ لینا یہ کام اللہ پر کامل ایمان اور جہاد کے برابر ہرگز نہیں ہوسکتے۔ اس پیغام کو بھلانے کا انجام آج یہ ہے کہ وہ ممالک جنکی اسلام اور انسانیت دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے انکی طاقت کے سامنے مسلمانوں کا مرکز اور حرمین الشریفین کے نگہبان اپنے جاہ وجلال اور لاؤلشکر سمیت اچانک ڈھیر ہوگئے اور وہ عالم طاغوت کے رعب و دبدبہ کا مقابلہ نہ کرسکے۔
امریکہ نے آج سے تقرئبا تین دھائیاں قبل نیوورلڈآرڈر کا اعلان کیا تھا اور اس اعلان کے بعد امریکی اسٹبلشمنٹ پوری مستعدی کیساتھ اسکی پلاننگ اور ایگزیکیوشن پر جت گئی۔جبکہ مسلم دنیا اس اعلان کا ادراک نہ کرسکی۔ خال خال وہ لوگ جنہوں نے اس پر لب کشائی کی۔ لیکن انہوں نے بھی عملی طورپر اس سازش کا مقابلہ کرنے کی بجائے اس قوم کو صرف نعرے دئے اور اس گریٹ امریکی سازش کا دفاع اسی میں سمجھا کہ ایک ایکڈیمک بحث چھیڑدی کہ نیوورلڈآرڈر تو نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حج الوداع کے موقع پر دے دیا تھا اور ہمیں اسکے بعد کسی نیوورلڈ آرڈر کی ضرورت نہیں۔ وہ یہ بات سمجھ ہی نہ سکے کہ نیوورلڈ آرڈردنیا پر حکمت کرنے سے متعلق نیا امریکی منصوبہ تھا جسکا مقصد ایک ایسا نظام نافز کرنا تھا کہ دنیا میں سیاسی، اقتصادی اور جغرافیائی تبدیلیاں اور حدبندیاں اسطرح قائم ہوں کہ جوامریکی مفادات کا تحفظ کرسکیں۔ اس سازش کے تھیک سترہ سال بعد امریکی جنرل ویزلی کلارک نے 2مارچ 2007 کو اعلان کیا تھا کہ امریکہ پانچ سال کے اندر عراق، شام، صومالیا، لبیا سوڈان ایران اور یمن کی نء حدبندیاں کرکے اسکا عملی انتظام و انصرام اپنے مرضی سے چلائے گا۔ یہ رپورٹ انٹرنیشل گلوبل ریسرچ میں پوری تفصیلات کیساتھ چھپی جسے 14 ھزار لوگوں نے پڑھا اور 70 ھزار مرتبہ شئیر ہوئی۔ آج امریکہ اپنے منصوبے کے عین مطابق کام کررہا ہے اور یکے بعد دیگرے یہ ساتوں ممالک راکھ کا ڈھیر بن کر امریکی کالونی بنتے جارہے ہیں۔ امریکہ کو یہ علاقے چاہیے تھے افراد نہیں اسلئے وہاں بے گناہ مرتے لوگ اور بچے کسی کو نظرنہیں آتے۔ انکے مقابل خواب غفلت میں سوئے مسلمان حکمران کبھی بش سینیر، کبھی بش جونئیر، کبھی اوباما، کبھی ٹرمپ اور کبھی ولادی میرپوتین کو اپنا دوست سمجھکر اس سے اپنے اقتدار کے تحفظ کی بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔ آج ترکی کی حالت باقیوں سے بہتر ہیں کہ طیب اردگان نے امریکی اتحادی فوجی اسٹبلشمنٹ سے آزادی حاصل کرکے ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑاکیا۔ اگر دیانتداری سے جائزہ لیں تو پاکستان میں اسوقت سارے سیاسی و مزھبی لیڈرتھوڑے بہت فرق کیساتھ صرف اقتدار کے شکاری ہیں۔ انہیں پاکستان کے مفادات سے کوئی سروکار نہیں انکا مطمع نظر صرف کرسی اور خاندانی موروثیت کو پروان چڑھانا ہے۔
آج اسلام کی عالمگیریت، اتحاد امت اور غلبہ دین حق کا خواب عملاً چکنا چور ہوچکا۔ بے شک اسلام مسلمانوں کی تلوار سے نہیں انکے کردار سے پھیلا تھا مگر اسکا غلط مطلب اور الٹی توجیح ہمیں مہنگی پڑی۔ آج بھی دنیا میں طاقت کی علامت تلوار ہی ہے اور چودہ سو سال قبل بھی جوق درجوق لوگ اسی وقت اسلام میں داخل ہوئے جب انہیں یقین ہوگیا تھا کہ سلطنت اسلامیہ اتنی مضبوط اور اسکے حکمران اتنے صاحب کردار ہیں کہ وہ انہیں جانی و مالی خوف سے نجات دے سکتے ہیں۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس کے پاس طاقت نہ ہو اسکا موقف سچ بھی ہو توکوئی سننے کو تیار نہیں ہوتا۔ یاد رہے کہ قوم کو باکردار قیادت دینا اور عوام الناس کی سوچ تبدیل کرنا سیاستدانوں کا کام نہیں ہوتا۔ سیاستدان تو ہمیشہ دستیاب حالات کو اپنے حق اور اپنے ایجنڈے کے مطابق استعمال کرتا ہے۔ کوئی صدرمملکت ہو یا وزیراعظم یہ ملک چلانے والی ایسٹیبلشمنٹ کا ایک جزوقتی عہدہ ہوتا ہے۔ کسی ملک کی اسٹبلشمنٹ ہی ملک کو چلاتی ہے۔ یہ نظام جمہوریت اور سرمایہ داریت ہماری بنیادی ضروریات ہی کا احاطہ نہیں کرتا ہم پھر بھی اس سے توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ موجودہ انتخابی نظام کے تحت پاکستان کو بہترین قیادت اور اسٹبلشمنٹ دستیاب ہوجائے گی جو ناممکنات میں سے ہے۔ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں قیادت کے اہل لوگ پیداکرنا مفکرین، اساتذہ ، علمائے اکرام اور اس سوچ کی حامل جماعتوں کی ہے اور یہ اسوقت تک نہیں ہوسکتا جب تک ملک میں استحکام اور ادارے مضبوط نہ ہوں۔ وہ لوگ جنہوں نے قیادت دینے کے وعدے کئے اور قمسیں کھائیں تھیں وہ آج ان تمام حالات اور مسائل کا زمہ دار حکومت وقت کو قراردیکر خود بری الزمہ ہونا چاہتے ہیں جو سراسرمنافقت ہے۔ ایسے لوگ بڑے بڑے کاغزی پلان دیتے ہیں، کئی ایک مثالیں موجود ہیں فریدملت ہسپتال اگرکسی کو یاد نہیں رہا ہوتو وہ جامعہ امام ابوحنیفہ ، مسجد السخریٰ، میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال، مینجمنٹ اینڈ ایجوکیشن کالجزکیلئے ارب ہا روپے اکٹھا کرنے سے تو سب واقف ہیں کیا کبھی کسی نے پوچھا ان منصوبوں کا کیا بنا یہ اتنی قطیر رقم کون استعمال کررہا ہے؟ کتناسنگین مزاق ہے یہ لوگ دوسروں پر تو تنقید کرتے تھکتے نہیں اور خود عوامی کٹہرے میں آنے کیلئے تیارنہیں۔ہم سادہ لوح عوام برائی کی اصل جڑ اور حالات کو اس نہج تک پہنچانے والی قوتوں اور اندرونی و بیرونی عوامل کا احاطہ ہی نہیں کرپاتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی ایک سیکنڈل کے ملزمان کو پھانسی پر لٹکانے سے پاکستان کے مسائل حل ہوجائینگے یہ ہماری نادانی ہے۔ زمہ داران کو اس نظام کے بنیادی خدوخال درست کرنے اور اس نظام کو چلانے والی تعلیم یافتہ، اہل، باصلاحیت، کمٹڈ اور ملک سے محبت اور اسکے مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دینے والی قیادت پیدا کرنی ہوگی ورنہ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا سیاسی و مزھبی بیروپیا مختلف حیلوں بہانوں سے ہمیں چونا لگاکر اپنی کلاس اپ گریڈ کرتا جائے گا اور ہم روشن مستقبل اور نئے پاکستان کا خواب دیکھتے انہیں لوگوں کے ہاتھوں پٹتے رہیں گے۔ جبتک ہم اس منزل کے حصول کے قابل نہیں ہوجاتے دنیا میں کوئی ملک ہماری بات نہیں سنے گا۔اس ماہ رمضان میں آؤ ملکر دعاکریں کہ اے پروردگار ہم تیری اور تیرے حبیب محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ چاہتے ہیں۔ اے اللہ ہمیں باطل طاغوتی اور استحصالی فتنوں سے بھرے اس دور میں صراط مستقیم ہر چلنے کی توفیق دے یارب العالمین۔ یامحمد۔