وہمی ماں نے بلاوجہ تندرست بچے کے 13 آپریشن کروادیے

246

ہم جانتے ہیں کہ والدین ہی اپنے بچوں سے بہتر طور پر واقف ہوتے ہیں لیکن شاید ڈیلاس کی خاتون کیلین بوون رائٹ اپنے بچے سے واقف نہیں اور اسے خواہ مخواہ اسپتال لے کر جاتی رہتی ہیں اور اس کے 13 آپریشن بھی کراچکی ہیں، اس عمل سے 8 سالہ بچہ اب نہ صرف بیمار رہنے لگا ہے بلکہ اسے خون کی بیماریاں بھی لاحق ہورہی ہیں۔

کیلین اپنے بچے کو سیکڑوں بار اسپتال لے جاچکی ہیں جس کے دوران وہ ڈاکٹروں سے ضد کرتی رہیں کہ اس کا بچہ بیمار ہے، یہ معاملہ اس کے بچے کرسٹوفر کی پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہوگیا اور وہ سال 2015ء تک اسے مختلف ڈاکٹروں کے پاس اور اسپتالوں میں لے جاتی رہیں جبکہ وہ شور مچاکر زبردستی اس کے آپریشن کراتی رہیں کہ اس کا بچہ موت کے منہ میں جاسکتا ہے لہٰذا اس کا فوری علاج کیا جائے۔

سال 2015ء میں ہیوسٹن میں واقع ٹیکساس چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹروں نے اس کا جھوٹ پکڑ لیا اور دیکھا کہ ٹیسٹ رپورٹس والدہ کے مؤقف کے مطابق نہیں، ڈاکٹروں کے ایک پینل نے بچے کا تفصیلی معائنہ بھی کیا اور اس کے بعد بچوں کی نگہداشت کے ادارے چائلڈ پروٹیکٹو سروسز (سی پی ایس) سے مداخلت کی درخواست کی، ڈاکٹروں نے والدہ پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے بچے کو نقصان پہنچارہی ہیں، اس کے بعد جب والدہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے ڈاکٹروں سے جھوٹ بولنے کا اعتراف کرلیا۔

کیلین نے 2009ء کے آغاز میں بچے کی بیماری کے بارے میں اس وقت جھوٹ بولنا شروع کیا جب اس کی عمر صرف 11 دن تھی، سب سے پہلے اس نے کہا کہ بچے کو دودھ سے الرجی ہے، اس کے بعد وہ ڈاکٹروں کے پاس جاتی رہیں اور اس نہ تھمنے والے سلسلے میں ننھے بچے کو سیکڑوں ٹیسٹ، ریڈیولوجی، سرجری، کھانے کی ٹیوب لگانے اور دیگر مراحل سے گزارا جو خود اس صحت مند بچے کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔

اس سارے عمل کی ذمے دار کیلین خود ہے جس نے ڈاکٹروں سے کہا کہ اگر فلاں علاج نہ کیا گیا تو اس کا بچہ مرجائے گا جبکہ کئی ٹیسٹ رپورٹس میں اس نے ردوبدل بھی کیا، ایک جگہ اس نے کہا کہ اس کا بچہ کچھ نہیں کھارہا اس لیے اسے کھانے کی ٹیوب لگائی جائے اور چاروناچار چھوٹے بچے کو غذائی نلکی لگائی گئی، اس سے بڑھ کر بچے کی 13 چھوٹی بڑی سرجریاں کرائی گئیں تاہم ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچہ اسکول جاتا ہے اور عام بچوں کی طرح کھیلتا ہے۔

بعد ازاں فیس بک پر ماں نے کہا کہ اس کے بچے کو کینسر(سرطان) ہے اور اس نے انٹرنیٹ پر رقم حاصل کرنے کی ایک مہم بھی چلائی۔

ان سارے مراحل سے گزرنے کے بعد اس بچے کو خون کے کئی عارضے لاحق ہوگئے جن کا علاج کرانا ضروری ہے، اب یہ بچہ سی پی ایس کی نگہداشت میں ہے، ڈاکٹروں کے مطابق کرسٹوفر کی ماں ایک قسم کے دماغی عارضے ’منچوسن سنڈروم‘ کی شکار ہے جس  میں لوگ بلاوجہ تناؤ کے شکار ہوتے ہیں اور خود کو بیمار یا مظلوم  بناکر لوگوں کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔