آستانہ میں پاک بھارت وزرائے اعظم کی غیر رسمی ملاقات، بھارتی میڈیا

15

قازقستان کے دارالحکومت میں پاک بھارت وزرائے اعظم کی غیر رسمی ملاقات ہوئی جس میں بھارتی وزیراعظم نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔ 

قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے درمیان غیر رسمی ملاقات ہوئی، بھارتی میڈیا کے مطابق نریندر مودی نے نواز شریف سے ان کی صحت اور فیملی کے بارے میں دریافت کیا۔

قبل ازیں وزیراعظم نوازشریف شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہان مملکت کونسل کے 17ویں دو روزہ اجلاس میں شرکت کیلیے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ پہنچے، وزیراعظم دو روزہ دورے کے موقع پر آج آستانہ میں ایس سی اوکی سربراہان مملکت کونسل کے اجلاس اوردستاویزات پر دستخط کی تقریب میں شریک ہوں گے، اس موقع پر پاکستان کو ایس سی او کی مکمل رکنیت بھی دی جائے گی جب کہ وزیراعظم آج کانفرنس کی سائیڈ لائن پر روسی صدرولادی میر پوتن، منگولیا کے صدر اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سمیت کئی اہم سربراہان مملکت سے بھی ملاقاتیں کریں گے، وزیراعظم آستانہ میں بین الاقوامی نمائش کی افتتاحی تقریب میں شرکت اور دیگر سربراہان کے ہمراہ اسٹالوں کا دورہ بھی کریں گے۔

آستانہ پہنچنے پر قازقستان کے نائب وزیر خارجہ عاقل بیگ کمال دینوف اور دیگر اعلیٰ حکام نے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے وفد کا پرتپاک خیرمقدم کیا اس موقع پر وفاقی وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر، مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز، وزیر مملکت پٹرولیم جام کمال ، بزنس مین اور قازقستان کے پاکستان میں اعزازی سفیر ناصر جنجوعہ بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔

وزیراعظم نے آستانہ پہنچتے ہی قازقستان کے صدر نورسلطان نذر بایوف اور ازبکستان کے صدرسے ملاقاتیں کیں، قازقستان کے صدر نورسلطان نذر بایوف سے ملاقات میں گفتگوکے دوران وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ قازقستان کے ساتھ توانائی اور مواصلاتی رابطوں کے شعبوں میں مضبوط تعاون چاہتے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ کی ضرورت ہے، اجلاس کے نتیجہ میں خطے کے عوام کے مابین تعاون اور اقتصادی خوشحالی کی راہ ہموار ہو گی۔

وزیراعظم نے قازقستان کے ساتھ انسانی وسائل کی ترقی کے شعبے میں تعاون کے عزم کا اظہار بھی کیا جب کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ کی ضرورت کو بھی اجاگرکیا اور 17 ویں ایس سی او سربراہ میں شرکت کی دعوت دینے پر نور سلطان نذر بایوف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سربراہ اجلاس کی میزبانی پر انہیں مبارکباد بھی دی، انہوں نے شاندار اور پرتپاک مہمان نوازی پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔

ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان گہرے تعلقات ہیں، ازبکستان کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع ہیں، ازبکستان توانائی کے وسائل سے مالا مال جبکہ پاکستان وسیع صنعتی مواقع کا حامل ہے، توانائی مواصلاتی رابطے اور معیشت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں، پاکستان کو ازبکستان کے ساتھ اپنے قریبی دوستانہ اور برادرانہ تعلقات پر فخر ہے ، دونوں ممالک مشترکہ تاریخ، عقیدے اور ثقافت کے مضبوط بندھن میں جڑے ہوئے ہیں، اس موقع پر وزیراعظم نے تجویز دی کہ دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری اور مصنوعات و خدمات کے آزادانہ بہائو میں سہولت کیلیے تجارتی پالیسیوں میں مناسب اصلاحات لانے کیلیے مل کرکام کریں۔

علاوہ ازیں وزیراعظم نوازشریف سے ترک صدر رجب طیب اردوان کا ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے اور توقع ہے کہ نوازشریف آستانہ سے وطن واپسی پر خلیج کی صورتحال پر مصالحت کیلئے سعودی عرب، قطر اورکویت کادورہ کریں گے، ترک صدر نے وزیراعظم پاکستان کے ساتھ خلیج کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور مصالحت کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا ہے، ذرائع کے مطابق وزیراعظم وطن واپسی کے بعد سعودی عرب ، قطر اور کویت کے دورے کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب وزیراعظم نوازشریف آج آستانہ میں افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ان کی درخواست پر ملاقات کریں گے، ملاقات آج دوپہر12 بجے ہو گی، مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں پاکستان اور بھارت کو آج اس تنظیم کی مستقل رکنیت مل جائیگی جبکہ ایک کنسرٹ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعظم نوازشریف ایک ہی صف میں بیٹھے مگر دونوں کے درمیان فاصلہ بہت تھا۔

گزشتہ روز آستانہ جاتے ہوئے دوران پرواز طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ افغانستان میں امن واستحکام پاکستان اور خطے کی ترقی کیلیے اہم ہے، پاکستان کسی بھی صورت اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دے گا، افغانستان میں استحکام پاکستان کے مفاد میں ہے، اس حوالے سے ہمارا موقف بڑا واضح اور دو ٹوک ہے، غیر مستحکم افغانستان کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے، افغان حکومت کو امن وامان کی صورتحال بہتر بنانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام خلیجی ممالک سے برادرانہ تعلقات ہیں، مسلم ممالک کو خلیج کی موجودہ کشیدگی دور کرنے کیلیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

اے پی پی کے مطابق ایس سی او سربراہ اجلاس کے موقع پر قازقستان میں بین الاقوامی نمائش انٹرنیشنل ایکسپو2017 بھی منعقد ہو گی جس میں پاکستان سمیت 100سے زیادہ ممالک شرکت کریں گے، وزیر اعظم محمد نواز شریف اس نمائش کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کریں گے، آستانہ میں منعقد ہونیوالے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر پاکستان اس تنظیم کا مکمل رکن بن جائیگا، 2 روزہ اجلاس آج جمعہ کو ختم ہو گا۔