کلبھوشن کی اہلیہ اوروالدہ سے ملاقات میں بھارت خود رکاوٹ بن گیا

20

پاکستان نے انسانی ہمدردی کے تحت  کلبھوشن یادو کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کی ساری تیاریاں مکمل کرلی ہیں لیکن اب اس ملاقات میں بھارت خود رکاوٹ بن گیا ہے۔

فلک نیوز کے مطابق دفتر خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کلبھوشن یادو نے اپنی اہلیہ سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن بھارت نے کہا تھا کہ کلبھوشن کے والد اور والدہ ملنا چاہتے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کی والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کے لیے 25 دسمبر کا دن طے کیا گیا تھا اور اس کے لیے دونوں کو ویزا بھی جاری کیا جاچکا ہے۔ کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات دفترخارجہ میں رکھی گئی ہے۔ ملاقات کا دورانیہ 15 منٹ سے ایک گھنٹے تک محیط ہوسکتا ہے، بھارتی ہائی کمیشن میں تعینات ایک ہی افسرملاقات کے عمل کے دوران ساتھ ہوگا، میڈیا کوریج کے لئے خصوصی پاسز جاری کئے جائیں گے، میڈیا کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ کی آمد اور روانگی کی کوریج بھی کرسکے گا۔ اس ملاقات کی تصاویر اور وڈیو دفتر خارجہ جاری کرے گا۔

دفتر خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو کلبھوشن یادو کو والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کے لئے دفترخارجہ لانے کے لئے سکیورٹی پلان تشکیل دینا ہوگا جس میں وقت درکار ہے۔ اس کے علاوہ ملاقات کے حوالے سے پاکستان نے بھارت سے کلبھوشن یادو کی اہلیہ اور والدہ کی تفصیلات مانگی تھیں لیکن بھارت نے ابھی تک دونوں خواتین کی سفری تفصیلات کا تبادلہ نہیں کیا اور ناہی بھارتی ایجنٹ کی اہلیہ اور والدہ کے پاکستان آنے کی تصدیق کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کلبھوشن یادو کے ساتھ ان کے اہلِ خانہ کی یہ آخری ملاقات ہرگز نہیں لیکن پاکستان کو بھارت کے جواب کا انتظار ہے اور اگر ہفتے کی رات تک جواب نہ دیا گیا تو اس ملاقات کا انعقاد مشکل ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیو کو مارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا،بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا جس پر فوجی عدالت نے کلبھوشن کو سزائے موت سنائی تھی۔