لیڈری کا شوق ہے نہ اختیارات سے تجاوز کررہے ہیں، چیف جسٹس

16

 چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ لیڈری کا شوق ہے نہ اختیارات سے تجاوز کررہے ہیں۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے سمندری آلودگی کی سنگین صورتحال سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ سندھ میں اسپتالوں کی ابتر صورتحال کا بھی چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے کہا بتایا جائے کہ 500 بیڈ والے کتنے میڈیکل کالجز کے ساتھ اسپتال قائم ہیں اور اسپتالوں سے متعلق حلف نامہ داخل کرایا جائے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جس کو مجھ پر تنقید کرنی ہے کرلے، صاف کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے لیڈری کا کوئی شوق نہیں، بڑے اعتراضات کیے گئے کہ چیف جسٹس میو اسپتال کیوں چلا گیا، لاہور کے اسپتالوں کا دورہ انسانی جانوں کی تحفظ کے لیے کیا، میو اسپتال میں وینٹی لیٹر کی سہولت نہیں تھی۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آئین کے تحت بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے اور عدالت عظمیٰ کہیں بھی اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کررہی، کوئی مزدور اور غریب شہری ملک کی صورتحال کا ذمے دار نہیں، ملک کی موجودہ کیفیت کا ذمے دار ہر وہ شخص ہے جو کسی بھی ادارے پر بر سر اقتدار رہا ہو۔

واضح رہے کہ منگل 19 دسمبر کو چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے میو اسپتال لاہور اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا ہنگامی دورہ کیا اور مریضوں سے ان کی شکایات بھی پوچھیں تھیں۔