آسٹریلیا کو اسپاٹ فکسنگ کا خوف بُری طرح ستانے لگا

12

کرکٹ آسٹریلیا کو بھی اسپاٹ فکسنگ کا خوف بُری طرح ستانے لگا تاہم بگ بیش ٹیموں کو کرپشن کے بڑھتے ہوئے خطرے سے ایک بار پھر خبردار کردیا گیا۔

بورڈ چیف جیمز سدرلینڈ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ  کے سربراہ الیکس مارشل سے مسلسل رابطے میں ہیں، انھوں نے کہاکہ تازہ ترین اسکینڈل کی تحقیقات کے حوالے سے اے سی یو پر مکمل اعتماد ہے۔

جیمز سدرلینڈ نے کہاکہ ہم نے بگ بیش ٹیموں کے ذمہ داران کو واضح پیغام دے دیاکہ اپنے اس ایونٹ کو دنیا کا نہیں تو کم سے کم آسٹریلیا کا سب سے بڑا، بہترین اور صاف ستھرا اسپورٹس ٹورنامنٹ بنانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ابتدائی بریفنگ کے بعد میری مارشل سے2 یا تین مرتبہ بات چیت ہوئی، جہاں تک میں جانتا ہوں وہ خود آسٹریلیا نہیں آرہے مگر ان کے کچھ لوگ اپنے طریقہ کار کے تحت کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔  جیمز سدرلینڈ نے اس اسکینڈل کی ٹائمنگ کو اذیت ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے کھلاڑی ایشز جیسی اہم سیریز کھیلنے میں مصروف اور ان کی توجہ منتشر ہوسکتی تھی مگر انھوں نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آئی سی سی کی جانب سے موجودہ آسٹریلوی کھلاڑیوں کے انٹرویو بھی لیے جائیں گے تو انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں برطانوی اخبار’دی سن‘ نے اپنی رپورٹ میں مبینہ بھارتی بکیز کے حوالے سے آسٹریلوی کرکٹ میں بھی فکسنگ کے جراثیم موجود ہونے کا دعویٰ کیا تھا، آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے چیف الیکس مارش چیف ایگزیکٹیو  کرکٹ آسٹریلیا سدرلینڈ اور انگلش بورڈ چیف ٹام ہیریسن کو اس مواد کے بارے میں بریفنگ دی جو انھیں مذکورہ اخبار سے موصول ہوا تھا جب کہ اس بارے میں کھلاڑیوں کو پرتھ ٹیسٹ کے دوران ہی آگاہ کردیا گیا تھا۔