کلبھوشن پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کا چہرہ ہے، دفتر خارجہ

16

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو پاکستان میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا بدنما چہرہ ہے۔

دفتر خارجہ میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے اس کی والدہ اور اہلیہ کی ملاقات کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ کلبھوشن بھارتی ریاستی دہشت گردی کا بدنما چہرہ ہے، اس نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے متعدد اہلکاروں پر کوئٹہ اور تربت میں حملوں اور مہران بیس حملے میں کالعدم تنظیم کی مدد کا اعتراف کیا، وہ  17 بار پاکستان آیا اور پھر رنگے ہاتھوں پکڑا گیا جبکہ اسے مقدمے ميں صفائی کا پورا موقع دیا گيا، ہماری حدود میں ایک بھارتی دہشت گرد پکڑا گیا ہے اور ہمیں بہت سے سوالوں کے جواب چاہئیں، لیکن بھارتی حکومت اس کی وضاحت دینے میں ناکام رہی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ کلبھوشن سے آج اہل خانہ کی ملاقات آخری نہیں جبکہ تاحال قونصلر رسائی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور معاملہ ہمارے پاس ہے، وقت آنے پر اس کا فیصلہ ہوجائے گا، پاکستان نے 30 منٹ ملاقات کی اجازت دی تھی لیکن کلبھوشن کی درخواست پر ملاقات کا دورانیہ 10 منٹ بڑھایا گیا، اس کے اہل خانہ روانگی کے وقت مطمئن تھے۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ بھارتی درخواست پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس ملاقات کی اجازت دی گئی، کمرے میں نصب شیشہ ساؤنڈ پروف تھا اور بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر نے ساری کارروائی دیکھی لیکن بات چیت نہیں سنی، چونکہ پاکستان نے بھارت کو قونصلر رسائی نہیں دی اس لیے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر بطور مبصر موجود رہے، اگر بھارتی ہائی کمشنر کو جاسوس سے بات چیت کا موقع دیا جاتا تو پھر یہ قونصلر رسائی ہوجاتی۔