دہشت گردی کا منبع کون۔۔۔؟

16

تحریر:۔ چوہدری ناصر گجر
یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی اقدام نے امت مسلمہ کے دل میں خنجر پیوست کر دیا ہے ، امریکہ کو عالمی قوانین کی ہرگز پرواہ نہیں اور نا ہی دنیا کے امن سے کچھ مطلب ہے ، اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے اس نے دنیا بھر میں انسانوں کا قتل عام کیا ہے ۔پھر سے شیطانی طاقتیں دین اسلام کو مٹانے کیلئے میدان عمل میں آ چکی ہیں عالمی سامراجی قوتوں نے داعشی دہشتگردوں کے ذریعے دین مقدس اسلام کی حقیقی تعلیمات کو مسخ کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے ۔لیکن اگر بات خطے میں واقعی امن و امان کی صورتحال کو مستحکم کرنے کی ہے تو بیک وقت قتل و غارت اور مذاکرات کا عمل نہیں چل سکتا ۔ افغانستان میں فوج کے استعمال کا راستہ اختیار کرنا ماضی سے کچھ مختلف نتائج نہیں دے سکتا ،افغانستان میں جنگی صورتحال کی فضا اور دہشت گردی دراصل افغانستان میں غیر ملکی فوجی مداخلت اور مسلط کردہ جنگ کے نتائج ہیں ، افغانستان کی موجودہ صورتحال کو نہ تو کابل ، نیٹو اتحاد اور نہ افغان طالبان کے ذریعے بدلی جا سکتی ہے ۔افغانستان کے اندر سولہ سال سے جنگ جاری ہے جس سے کوئی فائدہ نہیں ہو ا سوائے اس کے کہ پورے خطے کا امن خاص طور پر پاکستان کا امن تباہ ہو چکا ہے۔ جو جنگ پاکستان نے طالبان اور دہشتگردوں کے خلاف لڑی وہ کبھی پاکستان کی تھی ہی نہیں اور اس وقت تک پاکستان ایک سو بیس کروڑ ڈالر سے زائد رقم پچھلے تین سالوں میں اس جنگ میں جھونک چکا ہے اور جو جانی و مالی نقصان ہو ا وہ الگ سے ۔نہ تو پاکستان میں کوئی دہشتگردوں کے ٹھکانے موجود ہیں اور نہ ہی کبھی تھے لیکن افغانستان میں کابل ، نیٹو فوجی اتحاد ہی سب سے بڑا دہشتگرد ہے جس نے پورے خطے کے امن و امان کو داؤ پر لگا رکھا ہے اور سوچتا یہ ہے کہ اس سے امن امان کی صورتحال بحال کی جا سکتی ہے ۔یہاں افغانستان کو قرآن پاک اور آپ ﷺ کی ان تعلیمات پر غور کرنے اور عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے کہ کافر تمہارے کبھی بھی دوست نہیں ہو سکتے ۔ امریکہ اس وقت تمام اسلامی ممالک کے خلا ف اس کے ساتھ منسلک ممالک کو ڈالر کے افسانوی لالچ دے کر ان کی زمین استعمال کر رہا ہے ۔ شمالی افغانستان میں داعش کی موجودگی کی وجہ سے اس وقت تاجکستان کو بھی خطرات لا حق ہیں اور انہوں نے بھی حال ہی میں تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تمام اسلامی ممالک سے استدعا کی ہے کہ وہ افغانستان میں اقتصادی اور عسکری امن و امان کی صورتحال کو بحال کرنے کیلئے امداد دیں ۔ روس کی جانب سے تاجکستان کی سرحد کی حفاظت کیلئے جدید ترین ٹینک اور ہیلی کاپٹر تاجکی فوج کے حوالے کر دئیے گئے ہیں ۔ یہاں ایک خبر یہ بھی سامنے آئی ہے کہ جو دہشتگرد افغانستان میں پہنچے ہیں ان کا تعلق الجزائر اور فرانس ہے جو مقامی دہشتگردوں کو تربیت دے رہے ہیں جبکہ افغانی ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ یہ جنگجو عراق اور شام میں شکست کے بعد افغانستان میں ایک منصوبہ بندی کے تحت داخل ہوئے ہیں ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان داعشی دہشتگردوں کو ہیلی کاپٹروں پر سفر کر ا کر افغانستان میں داخل کیا گیا ہے اور وہ بھی امریکی ساخت کے لیکن اس سوال کا جواب ابھی تک کسی نے بھی نہیں دیا ہے ۔ حال ہی میں امریکی نائب صدر پینس نے اچانک افغانستان کا دورہ کیا جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا ، لیکن اس سے پہلے امریکہ کی جانب سے یرو شلم کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دئیے جانے کے خلاف پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کی رٹ کے فیصلے میں افغانستان نے بھی امریکہ مخالف ووٹ دیا تھا جس کے بارے میں امریکی نائب صدر نے اپنے خطاب میں کوئی بھی بات نہیں کی جبکہ امریکی صدر کو اس بارے میں خاصی تشویش لاحق ہے ۔لیکن اس نے آتے ہی پاکستان سے ڈو مور کا روایتی مطالبہ ضرور کیا ہے ۔ اس سے پہلے اور بعد میں پاک افغان بارڈر پر دہشتگردوں اور پاک فوج کے مابین جھڑپیں بھی معمول کی بات ہے اور کشیدگی آئے روز بڑھتی جا رہی ہے جبکہ حالیہ حملے میں ایف سی کے تین جوان بھی شہید ہوئے ہیں اور دہشتگردوں کے بھی کافی مارے گئے ۔ دیکھا یہ بھی گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی نعشیں اٹھا کر کئی لوگ بھاگ رہے تھے اپنی پناہ گاہوں کی جانب اگر امریکہ واقعی افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کر رہا ہے تو اسے پاکستان بارڈر کے پاس دہشتگرد کیوں نظر نہیں آتے کہ جب انہیں سولہ سال کا عرصہ افغانستان میں گزر چکا ہے ۔لیکن امریکہ کو ایسے طالبان دہشتگرد ضرور مل جاتے ہیں جن کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات کے بعد معاملات طے پانے اور پاکستان میں امن قائم ہونے کے مواقع پیدا ہو رہے ہوں ۔ ملا منصور اس کی بڑی کڑی تھا جس کے ساتھ مذاکرات بھی ہو جاتے اور یہ معمہ بھی حل ہو جاتا ۔ پاک افغان سرحد کو اس وقت کھلا چھوڑ کر جو پاکستان نے غلطی کی تھی اس کا ازالہ کرنے اور اس پر باڑ لگا کر بند کرنے کی سب سے زیادہ تکلیف اس وقت بھارت کو ہوئی ہے کیونکہ یہ ریمنڈ ڈیوس جیسے امریکی جاسوسوں کی من پسند آمدورفت کی جگہ تھی جبکہ کافی حد تک امریکی عزائم جو پاکستان پر جنگ مسلط کر کے اس پر قبضہ کرنے کے تھے بھی پاش پاش ہوتے نظر آ رہے ہیں ۔ دہشتگردی کے خلاف پاک فوج کی کامیابیاں اس وقت امریکہ کیلئے سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے اور وہ چاہتا ہی یہی ہے کہ پاکستان انہی مسئلوں میں الجھا رہے اور اقتصادی طور پر مضبوط نا ہو پائے ۔اس کے پیچھے امریکہ کی سب بڑی پالیسی یہ بھی ہے کہ وہ عالم اسلام کے ممالک پر قبضہ کر کے وہاں اپنی چوہدراہٹ قائم کرنا چاہتاہے اور اپنے اسلحہ کے کاروبار کو ترقی دینا چاہتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ جہاں بھی جاتا ہے وہاں نعرہ تو امن کا لگاتا ہے لیکن امن قائم نہیں ہونے دیتا ۔اس وقت اس کی عراق ، شام ، فلسطین ، لبنا ن ، ایران ، افغانستان کے بعد پاکستان اس کی منزل ہے اور وہ اسے کسی بھی صورت عبور کرنا چاہتا ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ پاکستان جب تک قائم ہے تب تک مسلم دنیا قائم ہے ۔ کئی ممالک تو اس سے جنگ کے بعد آدھے رہ گئے یا ختم ہو گئے اور کئی ممالک نے اس کے سامنے ہتھیار ڈال کر منافقت کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور ایران اور افغانستان بھی انہی ممالک کی فہرست میں شامل ہیں جنکی سرزمین استعمال کر کے باقی ممالک میں جنگی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔