آئی فون سست کرنے کا اعتراف؛ ایپل اسمارٹ فون کی فروخت میں کمی

12

ایپل کمپنی کی جانب سے آئی فون کو جان بوجھ کر سست کرنے کے اعتراف کے بعد ایپل کے فون کی فروخت میں کمی آگئی۔

عالمی میڈیا کے مطابق کم ازکم ایشیا کی حد تک ایپل کے نئے اسمارٹ فون کی طلب اور فروخت میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے جو کرسمس اور خریداری کے باوجود ابتدائی تخمینوں سے بہت کم ہے۔

تائیوان کے اکنامک ڈیلی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اس سال ایپل کمپنی کے تیارکردہ جدید ترین اسمارٹ فون کی فروخت پر بھی اثر ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں نے اگلی سہ ماہی میں بھی اس کی فروخت میں کمی کا عندیہ دیا ہے۔  توقع ہے کہ اگلے تین ماہ میں آئی فون ایکس کے تین کروڑ یونٹ فروخت ہوں گے جبکہ ابتدائی اندازہ تھا کہ شاید پانچ کروڑ فون خریدے جائیں گے تاہم اب تک ایپل نے آئی فون ایکس کی فروخت کی کل تعداد نہیں بتائی جو اب تک ایک معما ہے۔

دوسری جانب امریکی تجزیہ کار کمپنی جے ایل وارن کیپٹل نے مزید مایوسی کی خبر سناتے ہوئے کہا ہے کہ آئی فون ایکس کی قیمت بہت زیادہ ہے اور اس میں جدتیں کم ہیں جن کی بنا پر اس کی فروخت میں کمی ہوکر اگلی سہ ماہی میں صرف ڈھائی کروڑ یونٹ ہی فروخت ہوسکیں گے۔ اس کی وجہ نہ صرف ڈلیوری میں تاخیر ہے بلکہ ایپل کی جانب سے یہ اعتراف بھی ہے کہ وہ اپنے فون کو شعوری طور پر سست کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایپل کمپنی نے کچھ روز قبل اعتراف کیا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کے فون کارکردگی میں سست ہوتے چلے جاتے ہیں اور یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جان بوجھ کر کیا جاتا ہے۔

ایپل کمپنی نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ یہ عمل صارفین کے علم میں لائے بغیر کیا گیا تاہم کمپنی نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ اس کا مقصد صارفین کو نیا فون لینے پر مجبور کرنا ہے۔ آئی فون نے مزید کہا ہے کہ آئی فون کی صلاحیت میں کمی حفاظتی اقدامات کے تحت کی گئی اگر آئی فون کو وقت کے ساتھ ساتھ سست نہ کیا جائے تو وہ جلدی غیرمتوقع طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوسکتے ہیں یا پھر بار بار بند ہونے کی شکایت سامنے آسکتی ہے۔

اس اعتراف کے بعد کئی صارفین اور ریٹیلرز نے ایپل پر قانونی چارہ جوئی اور مقدمات کا خیال بھی ظاہر کیا جس سے کمپنی کی ساکھ مزید متاثر ہوئی ہے۔