بچوں کو مچھلی کھلائیں اور ذہین بنائیں

47

چینی اور امریکی ماہرین نے ایک مطالعے کے بعد کہا ہے کہ جو بچے ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ مچھلی کھاتے ہیں بقیہ بچوں کے مقابلے میں ان کا آئی کیو (انٹیلی جنس کوشنٹ) اوسطاً پانچ درجے بہتر ہوتا ہے۔

ایک عرصے سے یہ بات عام ہے کہ مچھلی بچوں کو ذہین بناتی ہے لیکن بعض ماہرین اسے ایک واہمہ ہی خیال کرتے رہے تاہم اب ایک طویل اور بڑے مطالعے کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ مچھلی کھانے سے بچوں کی ذہانت پر مثبت اثر پڑتا ہے۔

اس ضمن میں چینی بچوں پر ایک تحقیق کی گئی ہے جسے یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے اسکول آف نرسنگ کی پروفیسر جیانگ ہونگ لوئی نے انجام دیا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’اس تحقیق کے بعد امریکہ اور دیگر ممالک کے بچوں کی غذائی ترجیحات بدلنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ان بچوں کی بہتر طور پر افزائش ہوسکے۔‘ پروفیسر جیانگ ہونگ لوئی نے کہا کہ اگر والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے تندرست رہیں اور ایک اسکول میں بہترین کارکردگی دکھائیں تو انہیں ہفتے میں ایک مرتبہ کھانے کی میز پر مچھلی ضرور رکھنا ہوگی۔ محققین مزید کہتے ہیں کہ مچھلی میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بچے کو پرسکون نیند بھی دیتے ہیں جو ان کی دماغی نشوونما کےلیے ایک بہترین نسخہ ہے۔

تحقیق کےلیے ٹیم نے چین میں 500 ایسے بچوں کا انتخاب کیا جن کی عمریں 9 سے 11 برس کے درمیان تھیں اور ان کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا۔ ان بچوں سے کھانے پینے کے معمول پر ایک سوالنامہ بھروایا گیا جس میں پوچھا گیا کہ انہوں نے گزشتہ ماہ کتنی مقدار میں مچھلی کھائی تھی۔ اس کے آپشنز میں بالکل نہیں سے لے کر ہفتے میں ایک مرتبہ مچھلی کھانا تک شامل تھے۔

ماہرین نے ان بچوں کی ذہنی استعداد ناپنے کےلیے چین میں رائج ویشلر انٹیلی جنس اسکیل استعمال کیا جس میں بچے کے لفظی اظہار (وربل) اور غیر لفظی اظہار (نان وربل) پر مشتمل رویوں کو ناپا جاتا ہے۔ ساتھ ہی والدین سے بچوں کی نیند کے بارے میں بھی پوچھا گیا مثلاً وہ کتنی دیرتک سوتے ہیں، رات میں کتنی مرتبہ بیدارہوتے ہیں یا دن کے دوران سوتے ہیں یا نہیں؟

ماہرین نے طویل تحقیق کے بعد انکشاف کیا کہ جو بچے ہفتے میں ایک مرتبہ مچھلی کھاتے ہیں ان کا دیگر مچھلی نہ کھانے والے بچوں کے مقابلے میں آئی کیو اوسطاً 4.8  پوائنٹ زیادہ ہوتا ہے۔ جن بچوں نے کبھی کبھی مچھلی کھائی تھی ان کی صلاحیت بھی بہتر تھی جبکہ مچھلی بالکل نہ کھانے والے بچے ان سے پیچھے رہے۔

اس تحقیق سے ہٹ کر غذائیت کی ایک اور امریکی ماہر سمانتھا ہیلر نے کہا کہ مچھلیاں پروٹین اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کا بہترین ذریعہ ہیں۔ فیٹی ایسڈ دماغ کے افعال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جبکہ چھوٹے بچوں کی دماغی نشوونما میں بھی ان کا اہم کردار ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں بڑوں میں یہ دل اور دماغ کے محافظ ہوتے ہیں تاہم انہوں نے مچھلیوں کے اندر موجود پارے (مرکری) سے متعلق خبردار کیا جو انہیں زہریلا بنارہا ہے۔

ماہرین کا اصرار ہے کہ مچھلی کھاتے وقت ایسی مچھلیوں کی اقسام کو ترجیح دی جائے جن میں پارے کی مقدار کم ہوتی ہے اور اِن میں ٹیونا، سامن اور کیٹ فش کے علاوہ شریمپ سرِفہرست ہیں