تمام حملہ آور ایرانی تھے؛ حملوں پر ٹرمپ کا رد عمل سخت ’’ نا پسندیدہ ہے‘‘، ایران

7

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے تہران میں2 روز قبل ہونے والے دہشت گرد حملوں پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ردعمل کو’’سخت ناپسندیدہ‘‘ قرار دیا ہے جبکہ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ تمام حملہ آور ایرانی تھے اور انکا تعلق داعش سے تھا۔

خبر ایجنسی کے مطابق ایران نے ملکی پارلیمنٹ اور خمینی کے مزار پر ہونیوالے حملوں پر امریکا کے مذمتی بیان کو’’ ناخوشگوار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام امریکا کے دوستی کے دعوؤںکو مستردکرتے ہیں، امریکا خود دہشت گردی کو فروغ دینے میں ملوث ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے تہران میں دہشت گردی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ردعمل کو سخت ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔ جواد ظریف نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا کہ ایک ایسے موقع پر جب ایرانی عوام امریکی حمایت یافتہ دہشت گردی کا شکار ہیں، وہائٹ ہاؤس کا مذمتی بیان ’’ناخوشگوار‘‘ ہے۔ وائٹ ہاؤس نے بدھ کو تہران میں پارلیمان کی عمارت اور ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی آیت اللہ خمینی کے مزار پر ہونے والے حملوں پر مذمتی بیان جاری کیا تھا جس میں ایرانی عوام اور حملے کا شکار ہونیوالے افراد سے اظہارِ ہمدردی کیاگیا۔

بیان میں وہائٹ ہاؤس نے کہاکہ حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو ریاستیں دہشت گردی میں معاونت کرتی ہیں وہبالآخرخود بھی اس کا شکار ہوجاتی ہیں۔ ایک بیان میں ایرانی فوج نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورے کے فورا بعد ان حملوںکا ہونا خاصا ’’ معنی خیز‘‘ہے۔

علاوہ ازیں جمعرات کو حملوں کے ایک روز بعد تہران میں سیکیورٹی انتہائی سخت ہے، شاہراہوں اور سب وے اسٹیشنز پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے جبکہ ایرانی پولیس نے حملوںکی تحقیقات کے سلسلے میں6 افرادکو حراست میں لینے کا دعوی کیا ہے۔

دوسری جانب ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے ایک عہدیدار رضا سیف اللہی نے ذرائع ابلاغ کوبتایا ہے کہ تمام حملہ آور ایرانی تھے۔ قبل ازیں ایران کے طاقتور عسکری ادارے پاسدارانِ انقلاب نے تہران حملوں کی ذمے داری سعودی عرب اور امریکا پر عائدکی تھی جبکہ ایرانی صدر حسن روحانی کاکہنا ہے کہ حملوں نے ایران کے دہشت گردی کیخلاف عزم کومزید مضبوط کیا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایرانی قوم کے پختہ اور فولادی عزم پر دہشت گردوں کے اس قسم کے اقدامات سے کوئی اثر نہیں پڑیگا، دہشت گرد ایرانی قوم کے عزم کے مقابلے میں بہت چھوٹے ہیں۔

خبر ایجنسی کے مطابق ایران کے صدرحسن روحانی نے تہران میں دہشت گرد حملوںکے بعد علاقائی وعالمی سطح پر تعاون و اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اپنے بیان میں روحانی نے کہا کہ ایران کا ہمیشہ سے یہ پیغام رہا ہے کہ دہشتگردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس سے لڑنے کے لیے علاقائی وعالمی تعاون اور اتحاد آج کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ بلاشبہ ایران کا علاقائی دہشت گردی اور تشددکیخلاف جنگ میں عزم مزید پختہ ہوگا، ایران ایک مرتبہ پھریہ ثابت کریگا کہ وہ مزید اتحاد اور اپنے طاقتور سیکیورٹی ڈھانچے کیساتھ سازشوں کو ناکام بنا دیگا۔