سانحہ ماڈل ٹاؤن کے معاملے میں نواز شریف پر قتل کے مقدمے چلنے چاہئیں۔ آصف زرداری

19

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف زرداری کا کہنا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے معاملے میں نواز شریف پر قتل کے مقدمے چلنے چاہئیں۔

لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف زرداری اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران طاہر القادری نے کہا کہ پیپلزپارٹی پہلے روز سے عوامی تحریک کے شانہ بشانہ کھڑی رہی، پیپلزپارٹی اور پاکستان عوامی تحریک کے درمیان ہر نکتے پر اتفاق پایا جاتا ہے، ہماری ہفتے کو ہونے والی آل پارٹیزکانفرنس سےمتعلق پیپلزپارٹی کی قیادت سےبات ہوئی ہے، ہمارے درمیان اے پی سی پر سو فیصد ہم آہنگی پائی جاتی ہے، مسلم لیگ (ن) کے وزرا کہتے ہیں کہ سیاست کے فیصلے عدالتوں میں نہیں ہونے چاہییں، ہمارے ادارے خودمختار ہیں اور ہم کسی کےغلام نہیں ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران آصف زرداری نے کہا کہ وہ طاہرالقادری کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے دعوت دی، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ظلم کے خلاف جدوجہد کی اور آواز اٹھائی ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن پر ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ ہیں، ماڈل ٹاؤن کا سانحہ لاہور جیسے بڑے شہر میں ہوا ہے، میڈیا پر دکھایا گیا کہ ماڈل ٹاؤن میں کس طرح سے لوگوں پر گولیاں برسائیں گئیں، شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کو استعفیٰ دینا اور خود کو قانون کے سامنے پیش کرنا پڑے گا۔ نواز شریف پر قتل کا مقدمہ چلنا چاہیے۔ آصف زرداری نے کہا کہ پرویز مشرف کے پاس اپنے موقف کا دفاع کرنے کی کوئی دلیل نہیں، وہ اپنے دور حکومت میں ہر فیصلہ خود کرتے تھے، انہیں کمر میں درد ہے لیکن وہ ڈانس بھی کررہے ہیں، اگر وہ اتنے بہادر ہیں تو واپس آجائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ملک میں ایک ایس ایچ او  یا وزیراعلیٰ اختیارات نہیں چھوڑتے لیکن میں نے تو اختیارات پارلیمنٹ کو دییے، وہ اپنی جائیداد بچانے اور دوستوں کی مدد کی کوشش کررہے ہیں، نواز شریف ہمیشہ ایسا کام کرتے ہیں جس سے حالات کا فائدہ کوئی اور اٹھاتا ہے، یہ لوگ جمہوریت کو نقصان پہنچارہے ہیں، وہ ملک کو اتنا مقروض کردیں اور پھر میں ان کے ساتھ کھڑا رہوں تو یہ قوم کو نامنظور ہوگا، پاکستان میں اب دوبارہ ایسا مذاق نہیں کرنے دیں گے۔

آصف زرداری سے قبل خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی عوامی جماعت ہے، انصاف کے لیے طاہرالقادری جیسی جدوجہد کسی نے نہیں کی، پاکستان کا آئین و قانون سب کے لیے ایک جیسا ہے لیکن ملک میں بڑوں کے لیے انصاف آسان اور غریب چیختا رہتا ہے، شہبازشریف اور راناثناءاللہ کے معاملےمیں بھی انصاف ہوتا نظر آناچاہیے۔