“جس کا کام اسی کو ساجھے” ، مرزا بہشت بیگ قلعداری

38

وہ اکیلا تھا اور اس کے مخالف آراء دینے والوں کی تعداد درجن بھر تھی۔ وہ کسی بھی طرح سے مروج جمہوری طریقہ کے مطابق حق پر نہ تھا لیکن وہ جانتا تھا کہ وہ حق پر ہے اسی لئے وہ ایسی جمہوریت جس میں “تولانہیں جاتا گنا جاتا ہے” کے مطابق ناحق پر ہونے کے باوجود کوہ استقامت بنا ہوا تھا۔ بار بار کے جمہوری طریقہ کے طعنے اس کے پایہ استقلال کو لرزا نہ پا رہے تھے کہ اس نے اس دنیا کہ سب سے طاقتور قوت”قوت نطق” کا استعمال کیا۔ اور وہاں موجود ہر شخص کو اس کے شعبے کے پیش نظر دلائل دے کر سوالات کئے جن کا ان میں سے کوئی بھی جواب نہ دے پایا۔ پھر اس کے “اپنوں” کی دبی دبی مخالفت کے باوجود وہ اس”ہجوم”کو قائل کرنے میں کامیاب ہوا۔ اور ایک علمی ادارے کی علمی طریقہ سے سنگ بنیاد رکھی۔ یہ 2011ء کے درمیان کی بات ہے کہ ایک شخص جو ایک معزز علمی ادارہ سے فارغ التحصیل ہوا اور اپنے آبائی علاقہ میں ایک علمی درسگاہ اور تربیت گاہ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا۔ وہ تن تنہا اس کام کو کرنے کی بجائے اہل علاقہ کو اس کار خیر میں شریک کرنا بہتر سمجھتا تھا۔ اسی غرض سے اس نے اہل علاقہ کی ایک مجلس بلائی جس میں اپنے مدعا کو سامنے رکھا۔ مدعا سے اکثریت نے اتفاق کیا جو مروجہ جہوری طریقہ کے مطابق قبول سمجھا گیا لیکن اس ادارہ کی طرز تعلیم پر شدید رد عمل آیا اور اس نئے نویلے فارغ التحصیل کو شدید مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ قوت نطق کو استعمال کرتے ہوئے اس نے فرنیچر کے کاروبار سے منسلک شخصیت سے سوال کیا کہ اگر فرنیچر کی لکڑی کا معیار جانچنا ہو تو کیا لوگ مجھ سے سوال کریں گے یا آپ سے؟مسئول عنہ نے جواب دیا مجھ سے کیونکہ آپ کو تو اس کاربار کی الف ب کا بھی علم نہیں۔ پھر فارغ التحصیل شخص نے جانوروں کے کاروبار سے متعلق شخص سے سوال کیا،اگر کوئی جانور بیمار ہو جائے یا اس کو کوئی آفت آن پہنچے یا اس کی قیمت کا درست تعین مقصود ہو تو کیا ایک صاحب عقل شخص اس بارے آپ سے مشورہ کرے گا یا مجھ سے؟ مسئول عنہ نے جواب دیا لا محالہ مجھے سے ہی مشورہ کرے گا کیونکہ آپ کو اس بارے کچھ ادراک نہیں۔ پھر فارغ التحصیل شخص نے بجلی کے شعبہ سے وابستہ شخصیت سے سوال کیا ،اگر کسی شخص کے گھر میں شاٹ سرکٹ ہو جاتا ہو یا اس کے گھر کا پنکھا ہوا کم دے رہا ہو تو اس بارے وہ آپ سے گفت وشنید کرے گا یا مجھ سے؟ مسئول عنہ نے جواب دیا یقینا وہ مجھ سے بات کرے گا کیونکہ آپ کو ان چیزوں کی مہارت تو دور کی بات بنیادی علم بھی نہیں اور اگر آپ کوئی مشورہ دیں گے بھی تو اول تو کوئی آپ کی سنے گا نہیں اور اگر سنے گا تو اس کو عملی جامہ پہننانے سے اس کا نقصان تقریبا یقینی امر ہے۔ فارغ التحصیل شخس نے یونہی باری باری تمام افراد سے ان کے شعبہ ہائے زندگی سے متعلق سوالات کیے اور سب سے ایک ہی جواب پایا۔ سب کے جوابات سننے کے بعد وہ گویا ہوا: میرے محسنو! اگر ہر ذی شعور شخص یہ مانتا ہے کہ جس شعبہ سے متعلق مسئلہ ہو گا اسی شعبہ سے متعلق شخص کی رائے لی جائے گی اور اگر کوئی دوسرا شخص رائے دے بھی تو صائب رائے متعلقہ شخص کی ہی ہو گی غیر متعلقہ شخص کی رائے میں تقریبا یقینی نقصان کا اندیشہ ہے تو میرے صاحبو! آپ یہ بات کیوں نہیں سمجھتے کہ تعلیمی ادارہ کے طریقہ تعلیم اور نصاب کا تعین بھی فقط وہی درست کر سکتا ہے جو تعلیم و تعلم کے شعبہ سے وابستگی رکھتا ہو۔ اسی لئے میرے محترمو! بصد احترام عرض کرتا ہوں کہ آپ میں سے ایک بھی شعبہ تعلیم سے وابستہ نہیں لہذا طریقہ تعلیم اور نصاب کے ضمن میں آپ کی رائے کی صحت شک سے خالی نہیں اور اس میں نقصان کا بھی قوی اندیشہ ہے۔ البتہ آپ اس ادارہ کے معاونین اور اہل علاقہ ہیں اس لئے آپ کو اعتماد میں لینا بھی لازم ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ میری بات کی حقیقت جان چکے ہوں گے۔کیا ایسا ہے؟ اس پر تمام اہل مجلس نے اس فارغ التحصیل کی ہاں میں ہاں ملائی اور وہ ادارہ ترقی کی جانب رواں دواں ہو گیا۔ آج مجھے یہ بات “جاوید چوہدری ” کا ایک کالم دیکھ کر یاد آئی جس میں انہوں نے(بقول کالم نگار)سیدنا محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا ایک عہد نامہ “سینٹ کیتھرائن ” کا عکس ،ترجمہ، پس منظر اور اپنا تبصرہ پیش کیا ہے۔اور اس کو رسول اللہ صلی علیہ وسم کی جانب صحیح منسوب ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے نظر آتے ہیں حالانکہ کالم نگار کا شعبہ حدیث سے دور دور کا واسطہ نہیں۔ کیا اب ذی شعور لوگ مسئلہ حدیث کے حل کے لئے ایسے افراد پر تکیہ کریں گے؟ کیا رجال الحدیث عنقاء ہو گئے؟ اگر یوں تکیہ شروع کر دیا تو ہر دوسرے چرچ سے ایک عہد نامہ نکلے گا جس پر علوم الحدیث سے نابلد افراد کی مہر تصدیق ہوگی۔ پھر کذب بیانی اور وضع حدیث کا نیا باب وا ہو گا۔ جبکہ صحیح حدیث میں ہے جس نے جان بوجھ کر میری ذات کی طرف جھوٹ منسوب کیا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں تلاش کرے(صحیح بخاری ودیگر)۔ اسی حدیث کے پیش نظر مذکورہ کالم میں مذکور عہد نامہ اور اس عہد نامہ کی حقانیت پر راقم الحروف کو مندرجہ ذیل تحفظات کا سامنا ہے۔ کوئی اہل علم ان تحفظات کو دور کر دے تو مشکور ہوں گا۔
۱) دور رسالت میں تحریر کا رسم الخط یہ نہیں جو اس تحریر میں ہے۔
۲)دور رسالت میں نقطے مروج نہ تھے یہ اموی دور میں نصر اور عاصم یا ابو الاسود الدئلی نے پہلی بار لگائے۔ حالانکہ اس خط میں نقطے واضح ہیں۔
۳)نبوی خطوط میں آغاز من محمد بن عبد اللہ طرز تحریر رہا ہے۔ جو کہ دیگر خطوط میں نظر آتا۔ یہاں انداز بالکل الگ ہے۔
۴) اس خط کےاحکامات بھی قابل توجہ ہیں جیسے تمام عیسائیوں کی حفاظت مسلمانوں پر لازم کی گئی۔
۵) کفار کی زمینیں تو عشری ہوتی نہیں خراجی ہوتی ہیں۔ پھر اس خط میں عیسائیوں کی زمینوں سے عشر کی نفی بھی معنی خیز ہے۔
۶)یہ خط کتب احادیث میں کیوں منقول نہیں؟
۷) السند من الدین۔ اس کی سند کیا ہے؟
۸)نبوی خطوط کے آخر میں مہر نبوت کی طرح کی مہر انگوٹھی کے ساتھ لگی ملتی ہے۔یہاں وہ نہیں۔
۹) پورے ہاتھ کا نشان لگانے کا طریقہ دور رسالت میں اہل اسلام کے ہاں مروج نہ تھا۔ نہ کبھی رسول اللہ نے لگایا۔ یہاں یہ کیوں ؟
۱۰)قرآن دوررسالت کے عیسائیوں کے کامل پیروکاران عیسی ہونے کی نفی کرتا اور انہیں مشرک کہتا ہے جبکہ اس خط میں ان کو پیروکار عیسی کہا گیا ہے۔
۱۱)اس خط میں عیسائیوں سے جزیہ کا کامل سقوط مذکور ہے جو کہ صحیح روایات کے برعکس ہے۔
۱۲) اس خط کے الفاظ بھی اس لحاظ سے قابل غور ہیں کہ ایسے الفاظ کا انتخاب جوامع الکلم ہستی سے صادر ہونا کس حد تک ممکن ہے؟

فانفجرت منه اثنتا عشرة عينا

قوم کو کب تک یہ دھوکہ دینے کی کوشش کی جاتی رہے گی کہ جس کو ایک فن میں شہرت مل گئی وہ ہر میدان علم اور فن کی من چاہی تشریحات کر سکتا ہے اور وہ جس فن کی چاہے دھجیاں اڑا سکتا ہے؟لوگ اب سمجھدار ہیں وہ کینسر کا علاج کروانے موچی کے پاس نہیں جاتے۔ کیا قوم کے “دانشوروں” کو پرائمری کی نصابی کہانی “جس کا کام اسی کو ساجھے “کا سبق پھر سے سنانا پڑے گا؟