بھارتی سنسر بورڈ نے قینچی چلادی، ’پدماوتی‘ کا نام ہی بدل ڈالا

29

2017 میں بالی ووڈ کی سب سے متنازع ثابت ہونے والی فلم ’پدماوتی‘کو بھارتی سنسر بورڈ کی جانب سے مشروط اجازت کے ساتھ ریلیز کیے جانے کا امکان ہے۔

ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی اور دپیکا پڈوکون کی فلم ’پدماوتی‘ابتدا ہی سے مختلف تنازعات کا شکار رہی ہے۔ فلم پر سب سے زیادہ اعتراض بھارتی ریاست راجستھان میں کیا گیا کیونکہ وہاں آباد راجپوت برادری کا کہنا تھا کہ فلم میں رانی پدماوتی کا کردار حقائق کے منافی ہے۔ ہندو انتہا پسند جماعتوں کی جانب سے دھمکیوں پر فلم کو ریلیز کی اجازت نہیں دی گئی۔ فلم پر سے اعتراض ہٹانے کے لیے دو روز  قبل  سنسر بورڈ کی جانب  سے دو مستند مورخین کے پینل کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ فلم دیکھ کر متنازع مناظر کو کاٹنے کا فیصلہ کریں جس کے بعد فلم نمائش کے لیے پیش کردی جائے گی اور اب سنسر بورڈ کی جانب سے فلم کو  سرٹیفیکیٹ ملنے کی بھی نوید سنائی گئی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سنسر بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن اور فلم کےمعائنے کے لیے قائم کمیٹی نے’پدما وتی‘ کو چند شرائط پر نمائش کی تحریری اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں سے ایک فلم کانام ہے۔ سنسر بورڈ کا کہنا ہے کہ فلم کا نام ’پدماوتی‘سے تبدیل کرکے’پدماوت‘کیا جائے۔ ان شرائط کے پورا ہونے پرفلم کو نمائش کی اجازت دے دی جائے گی۔

واضح رہے کہ 190 کروڑ کے بڑے بجٹ سے بننے والی فلم ’پدماوتی‘2017 کی بڑی فلموں میں سے ایک تھی لیکن فلم کی کہانی کی وجہ سے ہندو انتہا پسندوں نے اسے متنازع بنادیا اور فلم اپنی مقررہ تاریخ پرریلیز نہ ہوسکی۔