کلبھوشن، بھارت اور ہم

24

تحریر۔۔۔ مرزا روحیل بیگ
بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کو حال ہی میں اپنی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کا جو سنہری موقع پاکستان نے فراہم کیا کچھ لوگ اس ملاقات کو بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش پر پاکستان کی طرف سے بھارت کے لیئے ایک تحفہ بھی قرار دے رہے ہیں۔ لیکن سچ پوچھیں تو پاکستان کی طرف سے اس ملاقات کے موقعے کی فراہمی بھارت کے منہ پر ایک مہذب تھپڑ سے کسی طور بھی کم نہیں۔ کلبھوشن یادیو بھارت کا وہ سفاک جاسوس دہشتگرد ہے جو بلوچستان میں ” را ” کا نیٹ ورک قائم کرنے کے لیئے وہاں دو سال تک اپنی سرگرمیوں میں مصروف رہا۔ جس نے ” را ” کے ایماء پر گوادر پورٹ اور پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبہ کو سبوتاژ کرنے کی بھی گھناؤنی سازش کی اور اسی تناظر میں وہ بلوچستان سے ایران چاہ بہار پورٹ بھی جاتا رہا۔ وہ وہیں سے بلوچستان آتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور دوران تفتیش اس نے اقبالی بیان دیتے ہوئے نہ صرف دہشتگردی سے متعلق اپنے جرائم کا اعتراف کیا بلکہ اپنے قائم کیئے گئے جاسوسی نیٹ ورک اور اس کی سرگرمیوں کی بھی نشاندہی کی جس کی بنیاد پر اسکے ساتھی دیگر جاسوس بشمول افغان جاسوسوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ جبکہ اس کے اقبالی بیان اور اعترافات کی روشنی میں بھارتی ہائی کمیشن میں سفارت کاروں کے نام پر تعینات ” را ” کے دوسرے جاسوسوں کی بھی نشاندہی ہوئی جنہیں پاکستان بدر کیا گیا۔ اسے ٹھوس حقائق و شواہد اور دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ کورٹ مارشل کیا گیا جسے دوران سماعت فوجی عدالت میں صفائی کا مکمل موقع فراہم کیا گیا اور اسکے تمام جرائم ثابت ہونے پر اسے موت کی سزا سنائی گئی۔ کلبھوشن کو3 مارچ 2016 کو گرفتار کیا گیا، تب سے لیکر اب تک بھارت نے پاکستان کو کلبھوشن تک کونسلر رسائی دینے کے لیئے ہر طرح سے کوشش کی۔ بین الاقوامی دباؤ بھی ڈالا، عالمی عدالت انصاف کا وقت بھی ضائع کیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ پاکستان نے ہر بات کا ایک ہی جواب دیا کہ 2008 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے معاہدے کی رو سے پاکستان کسی بھی بھارتی جاسوس کو کونسلر رسائی دینے کا پابند نہیں۔ پاکستان کو ایک ہی نقطے پر ڈٹا ہوا دیکھ کر بھارت نے اپنے مطالبے سے دستبردار ہوتے ہوئے کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ کی انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ملاقات کی درخواستوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ پاکستان انسانی حقوق کی علمبرداری کے حوالے سے دنیا بھر میں ایک منفرد پہچان رکھتا ہے۔ کلبھوشن کی والدہ اور بیوی کا اس گھناؤنے کھیل سے کوئی تعلق نہیں تھا جو کلبھوشن اپنے آقاؤں کی آشیرباد سے پاکستان میں کھیل رہا تھا۔ ایسے میں ایک ماں اور اس کے بیٹے سے اور ایک بیوی کو اس کے شوہر سے ملنے سے روکنا انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہوتی۔ ہم جس فلسفہ حیات کے پیروکار ہیں، وہ فلسفہ حیات ہمیں حالت جنگ میں بھی بوڑھوں، بچوں، عورتوں، فصلوں اور جانوروں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا۔ سچ پوچھیں تو کلبھوشن نام کا یہ جاسوس کسی بھی قسم کے حسن سلوک کا مستحق ہی نہیں ہے۔ اس کے ہاتھ بلوچستان اور کراچی میں بہت سے بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ کلبھوشن نے پاکستان میں مذہبی، لسانی اور علاقائی منافرت کو ہوا دینے کے بہت سے منصوبوں پر کام کیا۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد، مسخ شدہ لاشیں، کبھی پنجابیوں کا قتل تو کبھی پشتونوں اور سرائیکی علاقوں سے آنے والوں کے خون کی ہولی۔ کلبھوشن اور اس جیسے ان گنت بھیڑیے بکری کی کھال پہن کر ریوڑ کی صورت سرحد پار سے گھاس چرتے چرتے پاکستان میں داخل ہو گئے، اور ہمارے پر امن معاشرے کو ایک ایسی آگ میں جھونکنے لگے جسے دنیا کا کوئی فائر بریگیڈ بجھا نہ سکے۔ مقام شکر ہے کہ ہماری وفاقی حکومت، مذہبی رہنماؤں، سیاسی رہنماؤں، بلوچستان کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی، ہمارے انٹیلی جنس اداروں، فوج اور پولیس نے بے شمار قربانیاں دے کر ان بھیڑیوں کو بکری کی کھال سے باہر نکال دیا۔ کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ کو ملاقات کا جو موقع فراہم کیا گیا بھارتی میڈیا نے اسے بھی پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈے کے لیئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ بھارت غلطی سے سرحد عبور کرنے والے کسی پاکستانی شہری کے خلاف بھی دہشت گردی کے مقدمات قائم کرتا ہے اور پھر اسکی تشدد زدہ مسخ لاش پاکستان بھجوائی جاتی ہے، مگر پاکستان کی جانب سے ایسے سفاک باشندوں کو بھی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر والدہ اور اہلیہ سے ملاقات، پاکستان کی جانب سے اختلافات کو مٹانا اور ہمسایوں سے اچھے روابط رکھنا پاکستان کی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ لیکن اس سارے معاملے میں افسوس کا پہلو یہ ہے کہ ہمارے احسان کا جواب ہمیشہ احسان فراموشی سے دیا گیا۔ ہمیں بھارتی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیئے کلبھوشن کو ٹیسٹ کیس بنا کر پاکستان کی سلامتی کے خلاف اسکی سازشوں کو بے نقاب کرنا چاہیئے ورنہ ہماری خودمختاری اقوام عالم میں تماشہ بنی نظر آئے گی۔