’’یہ کیا ہو رہا ہے‘‘

31

تحریر۔۔۔ ڈاکٹربی اے خرم
’’یہ کیا ہو رہا ہے ‘‘یہ ہمارے آج کے کالم کا نام ہی نہیں بلکہ واقعتا ’’یہ کیاہو رہا ہے‘‘سیاسی حالات وواقعات،محرکات کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنماؤں کے بیانات سنیں اور اس پہ غورو فکر کریں تو یقیناًآپ سر پکڑنے کے ساتھ ساتھ اپنی ہنسی پہ بھی ضبط نہیں کر پائیں گے اور بے اختیار کہہ اٹھیں گے ’’یہ کیاہو رہا ہے‘‘کیا ہوگا ۔۔؟کیوں ہوگا ۔۔۔؟کیسے ہوگا ۔۔۔؟کون کرارہا ہے ۔۔۔ ؟کیوں کرا رہا ہے ۔۔۔؟،اف خدایا ۔۔۔ ہمارے سیاسی رہنماؤں کی باتوں پہ غور کریں تو خود سیاسی رہنما اپنی ہی کہی ہوئی باتوں کو جھٹلاتے ہوئے دکھائی دیں گے ماضی میں جو بات خود کہی ہو تو وہ درست اور حرف آخر تصور کی جاتی ہے اگر وہ بات ،وہی کردارکوئی مخالف سیاسی رہنما کرے تو اس کے بیان اور عمل پہ لعن طعن کرنے پہ فخر اولین سمجھا جاتا ہے ابھی تو پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے اس بیان کی سیاسی بھی خشک نہیں ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا ’’زرداری کی پیپلزپارٹی کے ساتھ بیٹھنا تو دور کی بات اس سے بات تک نہیں ہوگی‘‘پھر پاکستانی عوام نے دیکھا کہ ڈاکٹرطاہرالقادری کی آل پارٹی کانفرس میں پی پی پی پی اور پی ٹی آئی ایک پلیٹ فارم پہ بیٹھے دکھائی دیئے حکومت اورآل شریف کے مخالف ایک گھاٹ پانی پئیں تو ایسے موقعوں پہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی’’ملکہ ٹویٹ‘‘مریم نواز شریف مخالفوں پہ خوب ’’تیر‘‘ برساتی ہیں قارئین اس ’’تیر‘‘ کو پی پی پی کا انتخابی نشان ’’تیر ‘‘ سمجھنے سے اجتناب برتیں ،یہ موقع بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا میڈیا پہ جلوہ افروز ہوئیں اور آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے بیان داغ دیا فرماتی ہیں کہ ’’ مخالفین کبھی امپائر کی بات کرتے ہیں تو کبھی مذہب کے پیچھے چھپتے ہیں۔ وہ بے چین ہیں، انہیں بات کرنے کے لئے کوئی ایشو نہیں ملتا۔ نواز شریف کے خوف سے اتحاد بنتے اور ٹوٹتے ہیں ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنا گوارہ نہ کرنے والے آج نواز شریف کی مخالفت میں ساتھ بیٹھے ہیں۔ نواز شریف کے خوف سے اتحاد بن رہے ہیں اور ٹوٹ رہے ہیں۔ جن کی نسلوں نے کوئی کاروبار نہیں کیا وہ ہمارے خلاف شور مچا رہے ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ کوئی اتحاد شیر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ نواز شریف نااہلی سے کمزور نہیں مضبوط ہوئے ہیں۔ لیگی قائد کا خوف سازشیوں کو دن رات کھائے جارہا ہے۔ 2018 میں شیر پھر دھاڑے گا۔ نواز شریف کی نڈر قیادت میں ترقی کا سفر دوبارہ شروع ہوگا‘‘ملکہ ٹویٹ کا بیان سامنے آیا تو پھر خیال آیا ’’یہ کیا ہو رہا ہے ‘‘پاکستان کی غیور عوام کو بخوبی یاد ہے کبھی میاں نواز شریف پی پی پی کے بارے میں کہا کرتے تھے ’’ میں جب پیپلز پارٹی کا نام سنتا ہوں تو میرا خون کھولتا ہے جی چاہتا ہے کہ پیپلز پارٹی کو اٹھا کر بحیرہ عرب میں پھینک دوں‘‘عرب سے یاد آیا آل شریف کے ماضی کو دیکھیں تو صاف دکھائی دیتا ہے جب بھی آل شریف پہ کڑا،مشکل اور برا وقت آیا ہمیشہ عرب ہی کا رخ کرتے ہیں ۔۔۔ ارے بھئی ’’ یہ کیا ہورہا ہے ‘‘پی پی پی کو بحیرہ عرب میں پھینکنے والوں نے ان کے ساتھ’’ میثاق جمہوریت ‘‘کیا جبکہ عوام اسے ’’مذاق جمہوریت‘‘ سمجھتے ہیں،بھٹو کو ملک توڑنے کا طعنہ دینے والے آل شریف اس کے مزار پہ مغفرت کی دعا کرتے ہوئے نظر آئے اپنے مفاد کے لئے ایک ہی گھاٹ پہ پانی پیا جائے تو درست اور جب مخالفین آپس میں مل بیٹھیں تو غلط لگے اسی لئے تو کہہ رہے ہیں کہ ’’یہ کیا ہو رہا ہے‘‘قابل احترام مریم بی بی کبھی اپنے والد محترم میاں نواز شریف کے ان بیانات کو بھی دیکھ لیا کریں جو ماضی میں بلند و بانگ دیا کرتے تھے چلیں ہم آپ کو چھوٹے میاں شہباز شریف کے صرف ایک بیان کی ایک چھوٹی سی جھلک دکھاتے ہیں ’’ ہم برسر اقتدارآنے کے بعد زرداری کو لاہورکی سڑکوں پہ گھسیٹیں گے‘‘۔۔۔اب یہ نہ کہنا کہ ’’یہ کیا ہو رہا ہے‘‘۔۔۔ ارے بابا ۔۔ پاکستانی عوام نے دیکھا کہ جب ’’کپتان اور کھلاڑیوں ‘‘نے اسلام آباد پہ یلغار کی تو اقتدار کی ناؤ ہچکولے کھانے لگی ایسے میں زرداری کو لاہور کی سڑکوں پہ گھسیٹنے کی بجائے آپ کے پاپا نے لاہور کی سیر کرائی صرف اسے پہ اکتفا نہیں کیا بلکہ ستر سے زائد کھانوں سے اسی زرداری کی تواضع بھی کر ڈالی اس تضاد بیانی پہ عوام یقیناًیہ کہنے پہ مجبور ہے کہ ’’یہ کیا ہو رہا ہے‘‘بات تو اگلا الیکشن جیتنے کی کر رہے ہیں لیکن پہلے چھوٹے میاں پھر بڑے میاں ایک بار پھر سعودی عرب کا رخ کر چکے ہیں ’’این آر او‘‘کی صدائیں زبان زد عام ہو رہی ہیں ارے بھئی ’’یہ کیا ہو رہا ہے‘‘اگر ’’این آر او‘‘ زرداری صاحب کریں تو پیٹ میں مروڑ اٹھیں جب اپنی کرپشن ،بد عنوانی اور مقدمات سے جان چھڑانے کے لئے آپ’’ این آر او ‘‘کریں تو جائز ہو ’’یہ کیا ہو رہا ہے‘‘جب یہ تحریر پبلش ہوگی تب تک عوام پہ نئے سال کا نیا سورج طلوع ہونے سے پہلے پٹرول بم گرا یاجا چکاہوگا عوام کے زخموں پہ مرہم رکھنے کی بجائے پٹرول چھڑک کر آگ لگائی جا چکی ہوگی ارے بھئی ’’یہ کیا ہو رہا ہے‘‘کبھی تو اپنے مفادات کو پس پشت ڈال کر عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بھی کوئی’’این آر او‘‘کریں اگر عوام کو صرف وعدوں اور ’’لارے لپوں‘‘ میں رکھا جائے گا تو پھریہی زبان زد عام ہوگا کہ ’’یہ کیا ہو رہا ہے‘‘۔