اٹک- پیرسید جعفرحسین رحمتہ اللہ علیہ کاچوتھا سالانہ عرس مبارک نہایت عقیدت واحترام سےمیں منایا گیا

30

شہنشاہ علم و عرفان،منبع فیوض و برکات ،سید السادات الفقیر سید جعفر حسین المعروف باچا صاحب مبارک رحمتہ اللہ علیہ کا چوتھا سالانہ عرس محلہ نور اٹک میں زیر صدارت صاحبزادہ پیر ارچی محمد سعید حیدری نہایت عقیدت و احترام سے منایا گیامہمان خصوصی حضرت والا ذیشان مولانا حمید جان ،احمد سعید یارجان،عبیدالرحمٰن باچا،درویش باچااور سید محمد عبداللہ باچا تھے لاہور سے پیر طریقت میاں محمد حنفی سیفی،احمد حسین باچا،احمد حسن باچا ، محمد محسن باچاجبکہ راولپنڈی سے ڈاکٹر کرنل سرفراز،پیر محمد قاسم،تلہ گنگ سے میجر محمد یعقوب،کلر سیداں سے حاجی محمد اسحاق،پشاور سے سید انور شاہ ،بشیر احمد سیفی ، عبدالقدیر سیفی اور قاری الہام الدین خصوصی طور پر شریک ہوئے عرس کا انتظام و انصرام میجر محمد قاسم،ڈاکٹر قاضی امجد،حاجی محمد حنیف، صوفی توقیرالاسلام،محمد عثمان،محمد طاہر،محمد سلیم چوہدری ،اجمل بھٹی اور شمس الزماں سیفی نے بحسن و خوبی انجام دیا اس موقع پر علماء کرام اور مشائخ عظام نے خطاب کرتے ہوئے باچا صاحب مبارک رحمتہ اللہ علیہ کی علمی،روحانی اور دینی خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا انہوں نے کہا کہ رضائے الہی اور محبت مصطفےٰﷺ کے حصول کا بہترین ذریعہ اولیاء کرام کی نسبت ہے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو فتنہ و فساد کے اس دور میں اللہ والوں سے محبت کا دم بھرتے ہیں اور ان کی یاد میں محفلیں سجاتے ہیں ہزاروں طالبِ جذب و حال باچا صاحب مبارک رحمتہ اللہ علیہکے در گراں مایا پر حاضری دیتے اور عشق و مستی کے گوہر اپنے دامن میں سمیٹ لیتے تھے مادہ پرستی سے پراگندہ اذہان آپؒ کی نگاہ لطف و کرم سے پاکیزہ و معطر ہو جاتے تھے طریقت و سلو ک کے راہی آپؒ کے پاس آتے اور آپ کی خصوصی توجہ اور التفات کی بدولت باطنی اسرار و رموز کے واقف حال بن جاتے ۔آپؒ نے لاکھوں مردہ قلوب کو اللہ کے ذکر سے منور کیا آپ کی نورانی محفل میں انوار وتجلیات کی ایسی بارش ہوتی تھی کہ حاضرین و سالکین نہال ہو جاتے تھے آپ کا فیضان ہر خاص و عام کے لیے آج بھی جاری و ساری ہے ۔