حسین نواز کے اعتراضات مسترد، کوئی رکن تبدیل نہیں ہوگا: سپریم کورٹ کا حکم

8

سپریم کورٹ نے پاناما جے آئی ٹی کے دو ارکان پر حسین نواز کے اعتراضات مسترد کر دیے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ کسی رکن کو تبدیل نہیں کیا جائے گا، قانون کے مطابق کام جاری رکھیں۔

اسلام آباد: (فلک نیوز) سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی سے متعلق حسین نواز کے اعتراضات مسترد کر دیے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اگر ایسے خدشات پر جے آئی ٹی کو تبدیل کیا گیا تو پھر تحقیقات کے لیے فرشتے لانا ہوں گے۔ حماد بن جاسم پیش نہ ہوئے تو قطری خط کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔ صدر نیشنل بینک منگل کو جے آئی ٹی میں پیش ہوں۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کے ارکان پر حسین نواز کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے ارکان کو تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ اور جے آئی ٹی کو کام جاری رکھنے کے ہدایت کر دی ہے۔ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر موقف اپنایا کہ قطری شہزادے حماد بن جاسم، کاشف مسعود قاضی اور نیشنل بینک کے صدر سعید احمد کو طلب کیا، مگر وہ پیش نہیں ہوئے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ پیش نہ ہونے والوں کے پہلے قابل ضمانت اور پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔ حسین نواز کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ جے آئی ٹی میں طارق شفیع کے ساتھ نازیبا سلوک کیا گیا اور انہیں جھوٹا کہا گیا۔ جے آئی ٹی نے حسین نواز کو بھی نہیں بتایا کہ کون سی دستاویزات لے کر آنی ہیں؟ عدالت نے کہا کہ جے آئی ٹی تحقیقات کے لیے بلا رہی ہے، ٹی پارٹی پر نہیں۔ اگر حسین نواز کو یہ معلوم نہیں کہ جے آئی ٹی میں کون سی دستاویزات لے کر جانی ہیں تو ان کے لیے گڈ لک۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر ایسے خدشات پر جے آئی ٹی کو تبدیل کیا گیا تو پھر فرشتے لانے ہوں گے۔ چاچے اور مامے دیکھنے لگیں تو ہر کوئی کسی نہ کسی کا رشتہ دار ہے۔ اگر جے آئی ٹی نے اپنے کام سے انحراف کیا یا کسی رکن کی جانبداری سامنے آئی تو نظر انداز نہیں کریں گے۔