شہدائے ختم نبوت کےچہلم کا یہ عظیم اجتماع نفاذ نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے پیش خیمہ ثابت ہوگا۔علامہ خادم حسین رضوی

50

راولپنڈی؍ اسلام آباد  (فلک نیوز ) شہدائے ختم نبوت کا خون رنگ لا ئیگا اور چہلم کا یہ عظیم اجتماع نفاذ نظام مصطفیﷺ کیلئے پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ تحریک لبیک یارسول اللہ نے بے مثال قربانیاں دیکر ختم نبوت کا علم بلند کیا، آئندہ بھی آقا کریمﷺ کے ناموس اور تحفظ پاکستان کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔ اللہ کے دین کو تخت پر لانے کیلئے الیکشن 2018 میں ملک بھر سے بھرپور حصہ لیا جائیگا۔ لیاقت باغ راولپنڈی میں ’’تاجدار ختم نبوت کانفرنس اور شہدائے ختم نبوت کے چہلم سے علامہ خادم حسین رضوی، پیر محمد افضل قادری ودیگر علماء ومشائخ کے خطابات۔ اس موقع پر ملک کے طول وعرض سے علماء مشائخ سمیت ہزاروں غلامان رسول نے شرکت کی۔ قائدین نے کہا کہ آیا آیا دین آیا کا نعرہ ساری قوم کی آواز بن چکا ہے۔ قوم کا بچہ بچہ لبیک یارسول اللہ کی صدائیں بلند کررہا ہے۔ سیاستدان نظریہ اسلام اور نظریہ پاکستان سے اعراض کررہے ہیں لیکن محمد بن قاسم کے وارث جاگ اٹھے ہیں اب جلد وطن عزیز اسلامی فلاحی ریاست بنے گا۔ امریکی صدر کی دھمکیوں کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور بتا دینا چاہتے ہیں کہ تحفظ پاکستان کیلئے علماء مشائخ اور پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے۔ اس موقع پر پیر محمد افضل قادری نے علماء ومشائخ اور حاضرین سے تحفظ ختم نبوت، نفاذ نظام مصطفی اور تحفظ پاکستان کیلئے حلف لیا۔ اجتماع سے پیر سید عنایت الحق شاہ سلطانپوری، پیر سید انعام الحق شاہ، والد ممتاز قادری ملک بشیر احمد، پیر سید ظہیر الحسن شاہ، پیر قاضی محمود اعوانی، ڈاکٹر شفیق امینی، علامہ فاروق الحسن، سید حبیب الحق شاہ سلطانپوری، علامہ احسان الحق شاہ، مفتی حنیف قریشی، سید زمان علی جعفری، مفتی غلام غوث بغدادی، پیر اعجاز اشرفی، پیر سید منور شاہ بخاری، پیر غلام حسنین، پیر سید سرور شاہ، مولانا شاہد چشتی، مولانا شفیق الرحمن، مولانا عارف نوری، مفتی سعید الرحمن، علامہ عبد الطیف، علامہ عبد الرحمن جامی، مولانا عبد الرحمن تابانی، پیر قاسم سیفی، مولانا شبیر، اور شہدائے ختم نبوت کے لواحقین نے خطابات کئے۔ علماء نے کہا کہ حکومت راجہ ظفر الحق رپورٹ تیار ہونے کے باوجود شائع نہ کرکے وعدہ خلافی کررہی ہے، رپورٹ فوری شائع اور ختم نبوت سے متعلقہ ترمیم کے ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے، اگر یہ مطالبہ پورا نہ کیا گیا اور معاہدہ فیض آباد پر مکمل عمل درآمد نہ ہوا تو ملک گیر احتجاجی تحریک چلائیں گے۔ علامہ خادم حسین رضوی اور پیر محمد افضل قادری نے مزید کہا کہ ختم نبوت دھرنا فیض آباد کے شہیدوں، زخمیوں اور ختم نبوت کیلئے کردار ادا کرنیوالوں کو امت مسلمہ قیامت تک خراج تحسین پیش کرتی رہے گی اور شہدا و زخمیوں کا قصاص لینے میں تحریک لبیک کوئی کوتاہی نہیں کرے گی۔ دھرنا کے موقع پر کثیر شہادتوں اور سینکڑوں زخمیوں کے باوجود کسی عدالت نے از خود نوٹس نہیں لیا، جس پر عوام اظہار افسوس کررہے ہیں، ریاست ورثا کے مطالبہ کے مطابق جلد قانونی کاروائی مکمل کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک لبیک یارسول اللہ بر سر اقتدار آکر سیاستِ نبوی و سیاست خلفاء راشدین کی روشنی میں وطن عزیز میں ایسی اصلاحات لائے گی کہ مسلمانوں کی دنیا وآخرت سنور جائے اور مسلمان اقوام عالم میں بلند مقام ومرتبہ پائیں۔ جبکہ پاکستان میں غیر ملکی مداخلت کا قلع قمع اور اللہ کی زمین پر اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول پاکﷺ کی شریعت نافذ کرینگے۔ سیاست نبوی و سیاست خلفاء راشدین کی روشنی میں حکمرانوں پر سادہ طرز زندگی لازم اور فضول رسوم پر پابندی ہوگی۔ کرپشن کے تمام دروازے بند اور دور فاروقی کی روشنی میں احتساب کا نظام قائم کیا جائیگا۔ سودی نظام معیشت ختم کر کے مضاربت و دیگر اسلامی تجارت کے طریقے رائج کیے جائینگے۔ اصل نظام زکوٰۃ کا نفاذ اور بے روز گاروں اور معذوروں کو گزارہ الاؤنس جاری کیا جائیگا۔ ریاست عوام کی تمام بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کی ضامن ہو گی۔ دولت کی منصفانہ تقسیم اور دولت جمع کرنے کی دوڑ کا رجحان ختم کر کے دوسروں کیلئے ایثار وقربانی کا جذبہ بیدار کیا جائیگا۔ نصاب تعلیم کو اعلی و بہتر اور قرآن مجید و سیرت نبوی سے خصوصی استفادہ کیاجائیگا۔ صدر پاکستان سے لے کر نیچے تک تمام سول وفوجی حکام وسیاستدانوں کیلئے اسلامی تعلیم واخلاقی تربیت لازم کی جائیگی۔ ہر سطح پر فحاشی، بے حیائی ختم کر کے شرم وحیا و دیگر اسلامی اقدار کو فروغ دیا جائیگا۔ مزاراتِ اولیاء پر غیر شرعی رسوم کا خاتمہ اور تعلیم وتربیت اور لنگر کا اہتمام ہوگا۔